بعد از ظلم واویلا

رفیق ڈوگر ـ 25 اگست ، 2010
بعداز ظلم واویلا تو آپ پڑھ اور سن ہی رہے ہوں گے کیا آپ نے اس پر غور کرنے کی بھی زحمت برداشت کی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے سیالکوٹ میں ڈھائے گئے ظلم کا نوٹس لینے سے پہلے ان سب اہل سیاست و حکمرانی میں سے کسی ایک نے بھی اس ظلم کا نوٹس لینے کی زحمت گوارا کیوں نہیں کی تھی؟ میاں نواز شریف نے مظلوم والدین سے تعزیت کے سفر کی زحمت بھی اس نوٹس کے بعد ہی گوارا کی تھی اور ان مظلوموں کے والدین کو اور قوم کو بتایا تھا کہ ”پولیس اہلکار اور اس واقعہ میں شامل سب لوگ ان دو بھائیوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں“ اگر ایسا ہے اور ایسا ہی دکھائی دیتا ہے تو بڑے میاں نے پہلے اس ظلم کا نوٹس کیوں نہیں لیا تھا؟ پنجاب کے اصل حکمران ان کے بھائی ہیں اور وہ خود پارلیمنٹ میں دوسری بڑی نمائندہ پارٹی کے قائد ہیں مگر ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی سیالکوٹ تک کے سفر کی اور اس ظلم کا نوٹس لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی تھی اس سے پہلے؟ ان کی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف اس شہر کے عوام کے نمائندے ہیں انہوں نے حق نمائندگی کیوں ادا نہیں کیا تھا سپریم کورٹ کی طرف سے نوٹس لینے سے پہلے؟ کیا ان کی کسی بھی حوالے سے کوئی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ اپنی پارٹی کے قائد کو اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس ظلم کے بارے میں بتاتے؟ کوئی انصاف پسندانہ بیان ہی جاری فرمانے کی زحمت گوارا کر لیتے خواجہ صفدر کے فرزند عرض مند۔ رانا ثناءاللہ نے انکشاف فرمایا ہے کہ ”یہ کلچر ڈیڑھ سال پہلے آیا تھا گوجرانوالہ میں ڈاکوﺅں کو مار کر نعشیں سڑکوں پر گھمائی گئیں مگر کسی نے آواز نہ اٹھائی“ چلو مان لیا کسی اور نے تو کوئی آواز اٹھائی ہی نہیں مگر آپ نے کیا کہا تھا؟ آپ اس صوبہ کے عدل و انصاف کے وزیر ہیں قانون بنانے اور اس پر عملدرآمد کرانے کے وزیر ہوتے ہوئے بھی آپ ڈیڑھ سال سے اس کلچر کو فروغ پاتے دیکھ رہے تھے آپ نے اس کا کوئی نوٹس لینے کی زحمت گوارا کیوں نہیں فرمائی تھی؟ کیا یہ آپ کی قانونی اور وزارتی ذمہ داری نہیں تھی؟ پنجاب کے گورنر کی ناک کو تو ان کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کی کوئی مکھی بھی چوم لے تو آپ اس کا فوری نوٹس لینا اپنی اخلاقی اور وزارتی ذمہ داری سمجھ کر فوراً ادا کر دیتے ہیں وہ ذمہ داری۔ اگر گوجرانوالہ میں ڈیڑھ سال سے یہ کلچر پھیل رہا تھا تو آپ نے بھی اس کو دیکھنے سے اور اس کے بارے میں انصاف و عدل کی زبان کھولنے سے کیوں پرہیز کا دامن تھامے رکھا تھا؟ کیا تھی وہ مجبوری جس نے آپ کی زبان تک کو تالا لگائے رکھا تھا؟ جنگ پلازہ؟ مگر وہ بھی تو کب سے اپنے بالخیر خاتمہ کو پہنچ چکی ہے تو کہاں ہوتے تھے رانا جنگ پلازہ جی آپ؟ اس خاموشی اور اپنا وہ فرض ادا نہ کرنے کی بھی تو سزا ہونا چاہئے جس فرض کا آپ اس صوبہ کے غریب عوام سے غریبانہ معاوضہ وصول کرتے ہیں کسی اخلاقی یا قانونی ضابطہ میں اس کے بارے میں پچھ پرتیت تو شامل ہو گی ہی اور وہ جو این آر او شاہی کے ہر قسم کے داخلہ امور کے وزیر ہیں وہی جن کے قبضہ قدرت میں ملک کی درجنوں اطلاعاتی ایجنسیاں ہیں انہیں بھی ان کی کسی بھی ایجنسی نے سپریم کورٹ کے نوٹس لینے سے پہلے اس ظلم کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا؟ مان لیں اتنی نااہل ایجنسیاں؟ ان کے ہال مال بروک فیم سربراہ تو خیر اہل ہی ہوں گے ان کی اہلیت کس کے قبضہ حاکمانہ میں تھی؟ وہ فرما رہے تھے کہ ”قاتلوں“ کو اسی جگہ پھانسی دی جائے گی“ ہم ان سے یہ تو نہیں پوچھ سکتے کہ کیا اس طرح جس طرح آپ اور آپ کے شاہ جی اپنی بے نظیر بی بی بی کے قاتلوں کو سزا دے چکے ہیں؟ لیکن یہ تو پوچھا ہی جا سکتا ہے کہ کہاں رہے تھے آپ اتنے دن؟ ایجنسیوں نے لازماً آپ کو کچھ تو بتایا ہی ہو گا؟ اور وہ جو اس صوبہ کے گورنر ہیں جن کے فرائض میں انہیں گورنر بنانے بنوانے والوں نے حکومت پنجاب کی حکومت اور کارکردگی پر اپنی اعلیٰ اخلاقی نگاہیں جمائے رکھنے کی ذمہ داری لگائی ہوئی ہے انہوں نے کس کے حکم پر ایسی ذمہ داری پوری نہیں کی تھی؟ وہ فرماتے ہیں کہ ”میں اس سانحہ پر پوری قوم کی طرف سے معافی مانگتا ہوں“ ان سے یہ تو پوچھا ہی جا سکتا ہے کہ اس غلام قوم کے آپ کیا ہوتے ہیں؟ وردی شاہ کا پنجاب کا گورنر بنایا اور بے وردی شاہ کا گورنر ہاﺅس میں جمایا ہوا کوئی بندہ ساری قوم کی طرف سے معافی مانگے؟ کس حیثیت میں؟ معافی تو اسے اس پر مانگنا چاہئے تھی کہ وہ اپنا وہ فرض ادا نہیں کر سکا جو لگانے والوں نے اس کے ذمہ لگایا ہوا ہے حکومت پنجاب پر نگاہ ناز جمائے رکھنے کا فرض۔ لیکن کوئی کس سے کیا پوچھے اور کس سے کیا نہ پوچھے؟ کیا ثابت کیا ہے اس بعداز ظلم واویلے نے؟ یہی کہ حکمرانی و خدمت خانی کی تھیلی میں سب ایک ہی جیسے بھرے ہوئے ہیں؟ کیا لٹکا دیں گے رحمان ملک اسی جگہ پر قاتلوں کو پھانسی پر؟ اندازہ کریں اپنی اور اپنی قوم کی حالت زار کا جس کے اتنے بلند و بالا قائدین اتنے باہوش و باخبر ہیں۔ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہمارے اہل حکمرانی و سیاست خانی ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟ کہاں لے جانے کی صلاحیتوں کے مالک ہیں وہ سب؟ ہم پاکستانی عوام ان سب کی ”اہلیت“ کی کس کس شعبہ زندگی میں کیا کیا سزا بھگت رہے ہیں۔ سوچیں تو ان سب کی ”اہلیت“ کے بارے میں جو بعد از ظلم اس واویلا کے ذریعے بھی پوائنٹ سکورنگ کا کھیل ہی کھیل رہے ہیں بات وہی ہے کہ کسی قوم کے لئے اللہ کی طرف سے اس دنیا میں سب سے بڑی سزا نااہلوں کو اس کا حاکم بنا دینا ہے۔ آپ نے اللہ کے آخری نبیﷺ کا نااہلوں کی حکمرانی کے بارے میں یہ فرمان تو پڑھا ہی ہو گا۔ خواجہ طاہر ضیاءنے ہمیں جو ایس ایم ایس بھیجا تھا روز رفتہ آپ بھی پڑھ لیں یہ کہ ”یہ توقع کرنا کہ لوگ تمہارے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں گے کیونکہ تم نے خود کبھی کسی سے زیادتی نہیں کی ایسے ہی جیسے کوئی یہ سمجھے کہ جنگل کا شیر اسے نہیں کھائے گا کیونکہ وہ سبزی خور "vegetarian" ہے۔ جنگل تو جنگل ہی ہوتا ہے اور جنگل کے ”شیروں“ کی تاقیامت مسلمہ ”اہلیت“ کھانا اور کھاتے ہی جانا ہی تو ہے وہ این آر او شاہی کے جنگل کے شیر ہوں یا کسی افریقی جنگل کے ببر شیر ہوں۔ لگائیں بعداز ظلم اس واویلا سے اپنی اپنی حالت کا اور اپنے اپنے وطن کی حالت کا اندازہ اور دیکھیں اہل حکمرانی و خدمت خانی کی چستیاں اور پھرتیاں۔ کیوں نہ کریں اس جنگل کے شیر شیرنیاں میڈیا والوں کے خلاف قرارداد مذمت پاس؟ وہ جن کی اہلیت بھی الٹی لٹکی نظر آتی ہے میڈیا کی ”اہلیت“ دشمنی کے سبب۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں