سانپ کی مدد

سعید آسی ـ 25 اگست ، 2010
کیا خوب منطق نکالی ہے ہمارے سر جوڑ وزیر خارجہ نے۔ امریکہ میں ہلیری کیلئے ”من تُو شدم تُو من شدی“ کی سرجوڑ کیفیت میں مبتلا رہنے کے بعد ہمارے مخدوم وزیر خارجہ ملک واپس لوٹے تو سرشاری برقرار تھی۔ ہلیری کے ہلارا کھاتے ہی انہوں نے اشارہ ابرو کو سمجھتے ہوئے اور تابِ نظارہ نہ لاتے ہوئے بھارت کی پچاس لاکھ ڈالر کی امداد قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ صرف اعلان تک ہی محدود نہ رہے۔ بھارتی امداد پر اسکی ستائش کرنا بھی ضروری سمجھا کہ یہ بھی آدابِ غلامی کے تقاضوں میں شامل تھا۔ ”ہلارے“ کی سرشاری ہی اتنی تھی کہ ملک واپس آکر بھی نشہ برقرار رہا چنانچہ اسی کیفیت میں انہیں اسلام آباد میں پریس کا سامنا کرنا پڑا تو بھارتی خیرات کے حقیر ٹکڑے قبول کرنے کا یہ جواز نکال لائے کہ ہم نے بھی تو کئی مواقع پر بھارت کی مدد کی ہوئی ہے اس لئے مصیبت کی گھڑی میں بھارت ہماری مدد کو پہنچا ہے تو اس نے اچھا ہی کیا ہے۔
”وقت نیوز“ کے پروگرام ”نوائے وقت ٹوڈے“ کے آن ائر ہونے سے قبل پروگرام کے ہوسٹ ذیشان ملک میرے ساتھ بحث کرتے ہوئے تجسس میں پڑے تھے کہ ہم نے بھارت کی کس موقع پر مدد کی ہوئی ہے۔ پھر بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا ”جی بالکل، ہم نے تو کئی مواقع پر اپنے اس چالاک دشمن کی مدد کی ہے۔ ہمارے واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے تو بھارت جاکر اسے سرٹیفکیٹ دیا تھا کہ اسکے ہاتھوں ہمارا پانی چوری نہیں ہورہا“ اس کھلی امداد کے بعد بھلا ہم اپنے پانی کی چوری کیخلاف عالمی بینک یا عالمی عدالت انصاف میں اپنا کیس لے جاسکتے ہیں؟ اور اگر کسی دباﺅ پر لے بھی جائیں تو جماعت علی شاہ کے عطا کردہ سرٹیفکیٹ کے بعد بھلا ہم یہ کیس جیت سکتے ہیں؟
جی ہاں، ہم نے تو ایسے ہی بے شمار مواقع پر بھارت کی خود مدد کی ہوئی ہے۔ اسے جب بھی کشمیر ایشو کو ٹالنے یا دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے مذاکرات کا ڈرامہ رچانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ہم اسکے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں۔ وہ ہمیں دھتکارتا ہے، گھسیٹتا ہے، ہم اس کا دامن چھوڑنے پر ہی نہیں آتے۔ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ اس سانپ نے ہمیں ڈنک مارنا ہی مارنا ہے، پھر بھی ہم اسکے قرب کی تمنا رکھتے ہیں اور اسے ڈنک مارنے کی ہر بار خود ہی دعوت دیتے ہیں۔ پھر دنیا کو یہ بھی یقین دلانے بیٹھ جاتے ہیں کہ اسکے ڈنک سے تو ہمارا وجود چھلنی نہیں ہوا۔ اندر سے تڑپ رہے ہوتے ہیں مگر دنیا پر یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اس میں بھارت کا تو کوئی قصور نہیں ہے
ویسے تو تمہی نے مجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا
جی ہم اسی خیرسگالی کے جذبے کے تحت تو اپنے اس ظالم دشمن کی مدد کو آپہنچتے ہیں۔ ہم پر وار کرنے کیلئے وہ جب بھی کسی مشکل میں پڑتا ہے تو ہم اپنی گردن اور سینہ آگے کرکے اسکی مشکل آسان کردیتے ہیں۔ ابھی ہلیری کے ہلارے نے دو ماہ قبل ہی تو ہمارے ہاتھوں اسکی مشکل آسان کرائی ہے، افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر ہمارے تیسرے مخدوم وزیر تجارت سے پوری ”فہم و فراست“ کے ساتھ دستخط کراکے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پایا ہے اور سارا فائدہ درمیان میں آنےوالا بھارت اٹھا رہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت اسے سب کچھ غتربود کرنے کیلئے ہماری جانب سے مکمل راہداری مل گئی ہے۔ اب وہ چاہے تو افغانستان کو ہمارے سڑک کے راستے اپنی برآمدات فراہم کرنے کے بہانے ہمارے ملک میں اسلحہ بارود کے ڈھیر لگالے۔ ہم نے اسے راہداری دیدی ہوئی ہے اس لئے اب اسے اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد افغانستان کے راستے بھجوانے کی زحمت بھی نہیں اٹھانی پڑیگی۔ وہ اب اپنے دہشت گردوں سمیت اپنا اسلحہ بارود براہ راست پاکستان بھارت سرحد کے ذریعے ہمارے ملک میں داخل کرسکے گا۔ پھر ہمیں مارنے کیلئے ہماری ہی جانب سے اس سے بڑی سہولت اسے اور کیا مل سکتی ہے۔
ہم تو اب یو این سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے بھی اسکی بے لوث مدد کو پہنچ رہے ہیں۔ وہ ہم سے جب بھی اپنے نامزد کئے گئے ”دہشت گردوں“ کیخلاف کارروائی کا تقاضا کرتا ہے ہم اسکے سامنے سرِ تسلیم خم کئے نظر آتے ہیں۔ ایس ایم کرشنا اسلام آباد آکر مقبوضہ کشمیر میں ”دراندازی“ کا ہم پر الزام دھرتے ہیں۔ ہمارے سرجوڑ وزیر خارجہ بے ساختہ وارفتگی کا اظہار فرما دیتے ہیں ”آپ ثبوت فراہم کریں، ہم ابھی ایکشن لیتے ہیں“ گویا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر کیخلاف جاری تحریک میں ہماری دراندازی کا عمل دخل ہے۔ یہ تو بھارت کی جانب سے کٹوائی جانے والی ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کو تسلیم کرنے والی بات ہوئی ناں۔ پھر بھارت کو ہمیں مارنے کیلئے جنگ و جدل والی لمبی چوڑی منصوبہ بندی کرنے کی بھی کیا ضرورت ہے۔ ہم نے خود ہی اوکھلی میں سر دیدیا ہے۔ آپ جیسے چاہو کچل ڈالو۔
تو جناب یہ ہماری سرشاری کا کمال ہے کہ جس بھارت نے ہمیں ڈبونے کی نیت سے ہمارے سندھ، چناب، جہلم، ستلج اور راوی کے دریاﺅں میں سارا فالتو پانی چھوڑ کر ہمارے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا پورا پورا بندوبست کیا ہے اب اسکی جانب سے جھوٹی ہمدردی کے اظہار پر بھی ہم اسکے آگے ریشہ خطمی ہوئے بیٹھے ہیں اور پچاس لاکھ ڈالر کے سامان کی شکل میں اسکی امداد قبول کرنے کا بے ساختہ اعلان کئے جا رہے ہیں۔ ان پچاس لاکھ ڈالروں کی بھلا کیا وقعت ہے۔ اتنی رقم دیکر تو ہم اقوام متحدہ کے کمیشن سے اپنی سابق وزیراعظم شہید بی بی کے قتل کی انکوائری کرالیتے ہیں چاہے اس انکوائری سے کوئی ٹھوس نتیجہ بھی برآمد نہ ہو۔ بھارت کے یہ پچاس لاکھ ڈالر تو ہم پر اسکی پچاس لاکھ جوتیوں کی طرح ہی پڑینگے۔ کیا ہمارے ”مخدوم“ حکمرانوں کو ملک کی سلامتی کی کوئی فکر اور قومی غیرت کی کوئی پاسداری بھی ہے؟ پھر آپ کی اس سرشاری میں قوم کو بے غیرتی کی جھلک نظر آتی ہے تو اسکی نشاندہی پر آپ ہم سے خفا کیوں ہوتے ہو سائیں؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں