نہ فوجی سٹیٹ نہ پولیس سٹیٹ
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 25 اگست ، 2010
ایک نجی ٹی وی پر سیلاب زدگان کیلئے امداد اور ایثار کی بات ہورہی تھی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ محسن رضا، نصر اللہ ملک اور سعدیہ افضال پروگرام کو مزید دلچسپ بنانے کیلئے کوشش کررہے تھے۔ مجیب شامی، اوریا مقبول جان، کشمالہ طارق، فلمسٹار لیلیٰ، گلوکار شاہدہ منی، افضل خان ریمبو، سلمان اقبال اور یوسف صلاح الدین شریک گفتگو تھے۔ مجھے سب سے زیادہ پسند فردوس جمال کی باتیں آئیں۔ نجی گفتگو میں مجید نظامی کا ذکر بھی ہوا کہ وہ ہر ایسے موقع پر پیش پیش ہوتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ آج الطاف حسین کے ٹیلیفونک خطاب میں اہم باتیں ہیں جو موضوعِ سیاست بن جائیں گی۔ الطاف حسین کبھی کبھی مختلف بات کرتے ہیں جسے متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے این آر او کیلئے مثبت بیان دیا تھا جسے اختلافی بنالیا گیا جبکہ ایم کیو ایم کے بھی کئی آدمی این آر او کی زد میں آتے ہیں۔ اس میں صدر زرداری کیلئے بھی کچھ مشورے تھے جسے دوستانہ سمجھ لیا جاتا تو صورتحال بہتر ہوسکتی تھی۔ حکومت اور اپوزیشن میں موجود کئی لوگ صورتحال کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے کیری لوگر بل کیلئے بھی اختلافی بات کی۔ یہ باتیں بامعنی اور دوستانہ تھیں۔ اسکے بعد بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں اتحاد قائم رہا۔
اب جو بات الطاف حسین نے کہی ہے اس پر تحمل اور تدبر کے ساتھ ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے۔ میں اس پر کوئی لمبی چوڑی بحث نہیں کرنا چاہتا۔ میں کوئی سیاسی آدمی نہیں ہوں مگر اس اشارے پر سوچ بچار کرنا چاہئے۔ انہوں نے مارشل لاءکی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لاءجیسے اقدامات کی حمایت کرینگے۔ ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے مگر اس فرق کو سمجھنے کیلئے سیاسی فرقہ واریت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ پچھلے جرنیلوں پر تنقید کرنے کا فائدہ نہیں تو پھر پچھلے سیاستدانوں کا کردار بھی زیربحث آئیگا۔ کوئی جرنیل سیاستدانوں کی کھلم کھلا حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ کوئی جرنیل یا سیاستدان جب حکمران بنا تو سب ایک جیسے تھے۔ دونوں نے اپنے مفادات پر لوگوں کے مفادات کو قربان کردیا۔ جن لیڈروں نے وطن سے محبت دکھائی اپنی قومی غیرت کو نہ بھلایا اور امریکہ کو آنکھیں دکھائیں، انہیں قتل کردیا گیا۔ اس میں پہلا قتل پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا ہے پھر بھٹو صاحب اور بے نظیر بھٹو کو بھی قتل کرایا گیا۔ امریکہ سے مفاہمت کے باوجود ان کی قیادت میں ایک مزاحمت بھی جاری رہی۔ مفاہمت کے اندر ایک مزاحمت ہوتی ہے جسے صدر زرداری بھی استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اپوزیشن کبھی دشمنی پر اتر آتی ہے اور کبھی فرینڈلی اپوزیشن بن جاتی ہے۔ مفاہمت کے اندر یہ مزاحمت امریکہ کے مقابلے میں پوری طرح اختیار کرنی چاہئے۔ بھارت تو سیدھی سیدھی جارحیت کا مستحق ہے۔ بے شک یہ جارحیت مداخلت کے اندر چھپی ہوئی ہو مگر اسکے بغیر کوئی چارا نہیں۔ میں جنرل ضیاءکے اس کام کے خلاف ہوں کہ اس نے آئین توڑا، ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹا اور بھٹو جیسے بڑے لیڈر کو پھانسی پر لٹکایا۔ ایٹم بم اور آئین ا س کے ولولوں، جرات اور وژن کے عکاس ہیں جسے بچانے کیلئے آج سارے سیاستدان آگے آگے ہیں۔ ان میں سے کوئی اس وقت نہ بولا۔ سیاستدانوں نے کبھی سیاسی غیرت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ایک بار کسی آمر کے سامنے متحد ہو گئے ہوتے تو تاریخ مختلف ہوتی۔ جنرل ضیاءکا سب سے بڑا جرم بھٹو کو پھانسی دینا ہے۔ یہ قتل سے بڑا قتل ہے۔ تب کئی سیاستدان جنرل ضیاءکے ساتھ تھے اور سیاستدان جونیجو کے خلاف تھے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ جنرل ضیاءکو بھی امریکہ نے قتل کرایا اور جسے بھی امریکہ قتل کرادے تو وطن کے ساتھ اس شخص کی وابستگی کسی شک و شبے سے بالاتر ہوتی ہے۔ جنرل ضیاءکچھ دیر اور رہتا تو کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا۔ جو بچ گئے ہیں وہ صرف اپنی بچت میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی لیڈر ہو اس میں خامیاں خوبیاں ہوتی ہیں۔ ہم جس کے حامی ہوں اس میں کوئی خامی نظر نہیں آتی اور جس کے مخالف ہوں اس میں صرف خامیاں ہوتی ہیں۔
یہ جو بات الطاف حسین نے کی ہے، سیاسی جرات کی ایک مثال ہے۔ اس سے اختلاف کریں مگر اسے ایک اور قومی مسئلہ نہ بنائیں۔ انہوں نے جن مسائل اور مصیبتوں کی نشاندہی کی ہے اس سے کون انکار کرسکتا ہے۔ مہنگائی کا بھوت کسی کے قابو میں نہیں آرہا۔ دہشت گردی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا اندھیرا اندھیر نگری بنتا جا رہا ہے اور چوپٹ راج اور کرپشن کا بازار گرم ہے۔ برف پگھل کر سیلاب بن گئی ہے۔ ہر طرف طوفان ہے۔ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے مگر آوازیں آرہی ہیں کہ انگریزوں کا زمانہ اچھا تھا۔ پچھلا زمانہ اچھا تھا ہمارے لئے کوئی حکومتی زمانہ اچھا نہیں رہا، نہ فوجی نہ سیاسی۔ جمہوری اور غیرجمہوری کی بحث ہی فضول ہوتی جا رہی ہے۔ مصیبتوں سے جان چھڑانے کیلئے کہا گیا ہے۔ صدر زرداری کی پلاننگ لانگ ٹائم ہوگی مگر ابھی مشکلوں سے نجات کی ضرورت ہے۔ کچھ کام جلدی میں کرنے والے ہوتے ہیں۔ میں شارٹ کٹ کا قائل نہیں مگر ہمارے ہاں لانگ مارچ سے بھی کوئی خاص فائدہ تو نہیں ہوا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کیلئے چلنے والی تحریک ایک بڑی جدوجہد تھی مگر سیاستدان تو آپس میں لڑ رہے تھے۔ اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ میں نے ججوں کو بحال کیا ہے تو لوگ ہنستے ہیں۔ وہ تو صدر زرداری کی اجازت کے بغیر سیلابی دورہ بھی نہیں کرسکتے مگر وہ لوگ جو وزیراعظم پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں ان کیلئے میں کچھ نہیں کہوں گا....ع
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
چیف جسٹس کی بحالی جنرل کیانی کی مداخلت سے ہوئی ہے۔ اس وقت جو حال تھا، ہم بے حال تھے۔ اب بدحال بھی ہیں۔ سیاستدان نہ سمجھیں، لوگ تو سب جانتے ہیں....ع
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
کیا یہ مارشل لاءجیسا اقدام نہ تھا۔ پھر فوجی قیادت کی عملی امداد کے بغیر یہ مسئلہ حل کرلیا ہوتا۔ سوات کے معاملے میں سیاسی حکومت کا بھی کردار ہوگا مگر فوج نے اسے خوش اسلوبی سے حل کیا۔ پاکستان نے کیا جو امریکہ نہ کرسکا تھا وہ ہمارے جرنیلوں نے کر دکھایا۔ فوج کے امیج کو جنرل کیانی نے دوبارہ سرخرو کیا۔ اب پھر لوگ پاک فوج سے پیار کرنے لگے ہیں۔ میں سیاسی جرنیلوں کیخلاف ہوں مگر سیاسی حکمران محب وطن اور غیرسیاسی جرنیلوں سے جو مدد لے سکتے ہیں ضرور لیں۔ اس بات کو سیاسی جھگڑا بنانا کہاں کی حکمت ہے۔ ہم صرف حکومت کرنا چاہتے ہیں مگر ہم حکومت کرنا جانتے نہیں۔ حماقت سے زیادہ ”حماکت“ ہے اور یہ صرف حکومت والے کرتے ہیں۔ جرنیل بھی سیاستدان بنے تو وہ مختلف نہ تھے۔ کوئی بات درمیان کی ہو جس میں سیاست اور فوج مل کر چلے۔ اب عدالت کو بھی اس میں شامل کرلینا چاہئے۔ جاگیردارانہ نظام اور سرمایہ دارانہ نظام نہ جرنیلوں نے ختم کیا نہ سیاستدانوں نے، تو یہ دونوں ملکر اس سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں۔ لوٹ مار سیاسی جرنیلوں اور سیاسی حکمرانوں نے بھی کی۔ کوئی ایسی روایت جو ایسی شکایت کو ختم کردے کہ ہم زمانے بھر میں پاکستانی ہونے پر فخر کرسکیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہ ملک فوجی سٹیٹ بنے مگر ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ یہ ملک پولیس سٹیٹ بن جائے۔
غیرسیاسی جرنیل آئین توڑے بغیر سیاست و حکومت میں آئے بغیر جو کچھ کرسکتے ہیں، کریں اور جلدی کریں۔ یہی الطاف حسین نے کہا ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں جو کچھ ہورہا ہے اور کسی سے کچھ نہیں ہوسکا وہاں فوجی جوان کام کررہے ہیں۔ وہاں دو کروڑ بھوکے ننگے لوگ شہروں کا رخ کریں گے تو کیا ہوگا۔ ان میں کئی لاکھ دہشت گرد بھی نکل سکتے ہیں تو پھر کیا ہوگا۔ الطاف حسین نے خبردار کیا ہے۔ اسے آئین دشمنی کا الزام دے کر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ کئی مواقع تھے کہ اگر الطاف حسین کی باتوں پر دھیان دیا جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔ اختلاف کیا جائے مگر اختلاف کرنے کا حق اس کا ہے جو اعتراف کرنا بھی جانتا ہو۔ وہ جلاوطنی میں ہموطنی کے دکھ کو محسوس کررہا ہے۔ جلاوطن تو کئی سیاستدان تھے۔ وہ بھی ہموطنی کے کرب کو محسوس کریں۔ میڈیا تو پہلے بھی آمریت کیخلاف رہا ہے مگر جمہوریت کا شور مچانے والے ہی آمروں کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی طرح جرنیل بھی کرپٹ ہیں۔ جو کرپٹ نہیں ہیں وہ مل کر کوئی حل نکالیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں