کچھ ’امدادی ریلے کے انتظار‘ میں!

خالد احمد ـ 25 اگست ، 2010
سیلابی ریلے پاکستان کے طول و عرض پر محیط ’بنیادی زیریں ڈھانچے‘ کے خدوخال پر گھاﺅ لگاتے اپنی راہ لگ لئے اور اب ’سیاسی ریلے‘ پاکستان کے ’بنیادی دستوری ڈھانچے‘ کے خدوخال پر کٹاﺅ کے اثرات نمایاں کرنے پہاڑوں سے اتر آئے ہےں! ’منہ نہ متھا تے جن پہاڑوں لتھا!‘
’سیاسی ریلے‘ غیر ملکی ’امدادی ریلے‘ کے دیباچے کے طور پر روانہ کئے گئے ہےں تاکہ سیلابی ریلے کی تباہی کا تخمینہ لگانے والے ’سیاسی تباہی‘ کا تخمینہ بھی ساتھ کے ساتھ جوڑتے چلے جائیں تاکہ انہیں ’امدادی ریلے‘ کی سمت متعین کرنے اور درست ترین مقامات پر اسے اپنی زمینوں کی طرف موڑ لینے کے لئے ’حفاظتی پشتوں‘ مےں شگاف ڈالنے کا بروقت انتظام و انصرام کرتے بھی کوئی دشواری پیش نہ آئے! اور تمام معاملات آپس مےں یوں الجھ جائیں کہ قوم جی اٹھے!
ہم نے سیلابی ریلے کے نقصانات کے اعدادوشمار جمع کرنا شروع کیے تو ریلوے نے اڑھائی ارب کے یقینی نقصانات کا گوشوارہ پیش کر دیا اور فرمایا کہ صحیح تخمینہ پانی اترنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا! واپڈا کی طرف متوجہ ہوئے تو پیپکو کے والی جناب طاہر بشارت چیمہ نے 4ارب کے نقصانات 7ارب تک پہنچ جانے کا جرس بجا دیا! مگر اس ’جرس‘ کی آواز پر پیپکو کے کارکنوں کا کاروان ’جادہ پیما‘ ہوگیا اور متاثرہ علاقوں مےں برقی تقسیمی نظام کی بحالی کےلئے کشتیوں مےں بیٹھ بیٹھ کر گاﺅں، گوٹھ، گرام ’برقی تقسیمی نظام کی بحالی‘ کا ڈنکا بجا دیا! پانی اتر رہا ہے اور ’شاہد‘ پریشان ہےں کہ کیا کریں؟
ملک مےں ’افراتفریح‘ کے سب سے بڑے منبع نے ’افراتفری‘ پر ’افراتفریح‘ کا گمان پیدا کرنے کا ’ایجنڈا‘ بیڑے کی طرح الٹا کر منہ مےں رکھ کر داڑھوں کے پیچھے کلے مےں داب لیا تو اہل فکر و نظر اس دھان پان سے لڑکے کی ’وسعت المشربی‘ پر حیران رہ گئے کہ بچہ شکل سے تو پڑھا لکھا نظر نہیں آتا مگر ’طوطا‘ ٹھیک ٹھاک ہے کہ ’سکرپٹ‘ پانی کر کے سامنے آتا ہے مگر سوال کرنے کا ڈھب اسے ابھی تک نہیں آیا! لیکن سیانوں نے اسے یہ ضرور بتا دیا ہے کہ خود کام پر کھڑا ہونا آئے یا نہ آئے ’کام‘ کر گزرنے والے ساتھ ہونا ضروری ہےں! لہٰذا وہ ’خوار‘ ہونے لگتا ہے تو کوئی نہ کوئی ’شریک کار‘ اپنے ذہن مےں سوال پورا کر کے جواب مہیا کر ہی دیتا ہے، گذشتہ دنوں جناب ایاز میر نے بھی یہ کام کیا مگر الطاف بھائی کے لب وا کرتے ہی ان کی بھی گھگی بندھ گئی اور وہ سوچا تھا کیا؟ کیا ہوگیا؟ گنگناتے ایکسپریس مےں سوار ہوگئے!
کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کےلئے شہری انتظامیہ کے پاس اضافی اختیارات آجاتے ہےں! دریاﺅں کے حفاظتی پشتوں اور نہروں کے کناروں پر کسی غیر سرکاری اہل کار کی ’دست درازی‘ عام دنوں مےں بھی ’تخریب کاری‘ کے زمرے مےں آتی ہے! سیلاب کے دنوں مےں ان پشتوں اور آب رسانی کے لئے تعمیر کئے گئے راستوں کے کناروں کو چھیڑنا یا توڑنا، ’قتل‘ اور ’اقدام قتل‘ اور ’قتل عمد‘ کی شقیں ساتھ لاتا ہوا ’مقدمہ‘ قائم کرتا نظر آتا تھا! اور یہ اقدامات ’شہری انتظامیہ‘ ازخود اٹھا لیتی تھی! اس کے لئے ’مارشل لاءکے اقدامات جیسے اقدامات‘ کا لفظ کبھی استعمال نہیں ہوتا تھا! ہم نے اس ملک کو ’سرزمین بے آئین‘ بنا کر رکھ دینے کے لئے اتنے کام کر دیئے ہےں کہ ہمارے مقتدر سیاست دان بھی یہ باتیں بھول بیٹھے ہےں! نہر کا کنارا، ریلوے کی پٹڑی، بجلی کے تار، ٹیلی فون کا کھمبا، چھیڑنے یا اٹھا لے جانے کا تصور تک موجود نہیں تھا، مگر بھلا ہو چار مارشل لاﺅں کا ’زور اور زبردستی‘ کے آگے ہر قانون دم دے گیا! فوج آئین سے اور پولیس قانون کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہی اور پھر اس کی عادی ہوگئی! پہلے چھوٹی سے چھوٹی عدالت سے بھی باہر آتے آتے پولیس افسر پانچ چھ تریلیاں ضرور لیتا تھا! مگر فوجی آمروں نے اعلیٰ عدالتوں سے وہ کام لیے کہ پولیس نے نچلی عدالتوں سے بھی ایسی ایسی فرمائشیں کیں کہ تفصیل مےں جانا ممکن نہیں! لیکن ایک وقت آئے گا کہ یہ ’دور‘ ’فوج کی بالادستی‘ اور ’پولیس کی چیرہ دستی‘ کی پوری کہانی سامنے لائے گا! اللہ نہ کرے کہ اس ’کہانی‘ پر بھی ’حمود الرحمن کمیشن رپورٹ‘ جیسا ’ٹیگ‘ لگا ہو!
لہٰذا ضروری ہے کہ ہمارے الطاف بھائی پاکستان کے جمہوری نظام کے استحکام کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ مل کر شانہ بشانہ چلیں تاکہ ’دور مشرف‘ کی یاد تازہ ہو جائے اور تینوں پارٹیوں کے چہرے یکساں طور پر شاد و شاداب نظر آئیں! پاکستان مسلم لیگ کے قافیے بھی ان دنوں سیلاب زدگان سے ہاتھ ملاتے نظر آرہے ہےں اور انہیں خالی ہاتھ لوٹاتے بھی دکھائی دے رہے ہےں کاش یہ اتحاد ایک بار پھر قائم ہو جائے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ کے دھڑے تو ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے نہیں دکھائی دے رہے! یہ اس لئے بھی لازم ہے کہ عین ممکن ہے کہ امدادی ریلا بھمبر نالے کے برساتی ریلے کی طرح حکومت کو آن لے اور یہ سب فیض یاب ہونے سے رہ جائیں اور سوکھے سوکھے گھر آ جائیں!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں