ہمارا فرض ۔۔ ہمارا قرض

ریاض الرحمن ساغر ـ 24 اگست ، 2010
پانیوں میں قیام ہے جن کا
کھانا پینا تمام ہے جن کا
ان کے بارے میں سوچ وقت سحر
اپنے ہاتھوں میں لے کے لقمہ تر
بھوکے بیٹھے ہیں جن کے لخت جگر
اور نظریں جمی ہیں پانی پر
چلو بھر جس کو پی نہیں سکتے
کیا کریں پیاسے جی نہیں سکتے
سوچ ان کے لئے دم افطار
لے کے ہاتھوں میں شربت عطار
ان کے بارے میں سوچ میرے یار
ایسے میں کون ان کا ہے غمخوار
بھیج دے آدھی سحری‘ افطاری
رقم معمولی ہے‘ نہیں بھاری
کریں ایثار سارے روزہ دار
اور جن کو ہے روزہ رکھنا‘ بار
ماہ صیام میں کمائیں ثواب
تاکہ وہ حشر میں نہ پائیں عذاب
عید فطرانہ اور مال زکوٰة
جس پر ہو اعتبار اسکے ہاتھ
بھیج دیں اپنے بھائیوں کے لئے
کچھ غذا اور دوائیوں کے لئے
ہم کو یہ فرض ہے ادا کرنا
گویا اک قرض ہے ادا کرنا
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں