فلڈ ڈائری

ـ 24 اگست ، 2010
تحریر: ماروی میمن..............
پچھلے ہفتے میں نے بلوچستان اور سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں میں نے اپنے Flood Relief Fund سے خریدی اشیاءتقسیم کیں۔ 30 جولائی سے میری فلڈ مانیٹرنگ شروع ہے اور میں نے اس دوران اس غیر انسانی سیاسی حربے کو کئی علاقوں میں نوٹ کیا جہاں سیاستدان صرف اپنے ووٹروں کو ریلیف کی اشیاءتقسیم کر رہے ہیں۔ان پچھلے تین ہفتوں میں یہ میرا بلوچستان کا پہلا اور سندھ کا دوسرا دورہ تھا۔ اپنے پہلے دورے میں جو اگست کے پہلے ہفتے میں تھا میں نے بالائی سندھ کے شہروں کشمور، سکھر، لاڑکانہ، موہنجوداڑو اور گھوٹکی کا دورہ کیا۔ میں سندھ سڑک کے ذریعے پنجاب کے شہروں میانوالی، بھکر، لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مٹھن کوٹ کا دورہ کر کے پہنچی۔
میں نے بلوچستان کے دورے میں سیلاب کی تباہ کاریاں، سیاستدانوں کے چند بندوں کو توڑنے کے غلط فیصلے اور سرداری سسٹم کی ٹریجڈی کو دیکھا۔کوئٹہ سے ڈیرہ اللہ یار تک کے سفر میں ہم نے بے آسرا متاثرین سیلاب کو سڑکوں کے کناروں پر چار پائیوں کے نیچے اپنے خاندانوں مویشیوں اور چند بچی کھچی چیزوں کے ساتھ دیکھا۔ یہ ایسا درد بھرا منظر تھا جس نے مجھے بہت دکھی کر دیا۔ یہ صاف نظر آ رہاتھا کہ کوئی عوامی نمائندہ وہاں اپنے ووٹروں کے لیے بھاگ دوڑ نہیں کر رہا تھا کہ وہ دیکھے کہ اس کے ووٹر کیسے سڑکوں پر رات گزارتے ہیں۔ کوئٹہ میں چند سرداروں سے میری ملاقات ہوئی جنہیں امدادی کاموں سے متعلق کوئی معلومات نہیں تھیں۔ میں نے اُن کی آنکھوں میں کوئی درد نہیں دیکھا جب میں انہیں بتا رہی تھی کہ کیسے اُن کے لوگ سڑکوں پر بے آسرا پڑے ہوئے ہیں۔ یہی بڑی ٹریجڈی ہے۔ سبز گندہ پانی ڈیرہ اللہ یار میں جمع ہو چکا تھا جس سے ہماری گاڑی گزری۔ میں نے وہاں کوئی بھی سرکاری افسر نہیں دیکھا جو مردہ جانورروں کو تلف کر رہا ہو۔ یہ پانی وہاں کے رہنے والوں کے لیے کتنا زیادہ مہلک ہے۔ میں نے کچھ اسی طرح کا منظر خیبر پختونخوا میں 4 اگست کو دیکھا جب میں نوشہرہ، چار سدہ اور پشاور پہنچی۔ اگر حکومت کا وجود ہوتا تو سیلاب کے آٹھ روز گزرنے کے بعد بھی مردہ جانور خیبر پی کے کے پانیوں میںنہ تیررہے ہوتے۔
میرا سندھ کا پہلا دورہ بہت اہم تھا کیونکہ میں اپنے پنجاب کے دورے میں اُن تمام غلطیوں کی نشاندہی کر چکی تھی جو پنجاب حکومت نے کیں اور سندھ حکومت اس سے بچ سکتی تھی کیونکہ سیلاب کا پانی اس وقت وہاں تک نہیں پہنچا تھا۔ جب میں پچھلے ہفتے میں سندھ سیلاب کے بعد پہنچی تو میں نے وہاں پنجاب سے زیادہ تباہی دیکھی۔حکومت کی ریسکیو اور امدادی کاموں میں نااہلی ہے جو ایک انسان کو مایوس کر دیتی ہے۔ سندھ پہنچنے پر میرا پہلا دورہ ڈالمیا ریلیف کیمپ کا تھا جہاں میں نے لوگوں کو کراچی کے گندگی کے ڈھیروں پر بغیر سائبان پایا۔ لوگ ہزاروں روپیہ خرچ کر کے صوبائی دارالحکومت پہنچے جہاں انہیں کچرے پر جگہ دی گئی۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ میں نے وہاں بہت خطرناک گفتگو سنی۔ ”جب 1947 میں مسلمان ہجرت کر کے پاکستان پہنچے تو کیا ہم نے انہیں کچروں پر ٹھہرایا تھا؟ ہم کسی دوسرے صوبے یا کسی دوسرے ملک تو نہیں آئے۔ کیا ہم سے 64 سال بعد ایسا ہی سلوک کرنا تھا۔ ہم پانی سے بچنے کے لیے بھاگے اور اب ہم یہاں صوبائی دارالحکومت میں بیماریوں سے مر جائیں گے“۔ ایک اپوزیشن رکن ہونے کی وجہ سے میں یہ سب سن سکتی ہوں اور حکومت کو آگاہ کر سکتی ہوں تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائے۔
پرائیویٹ ڈونیشن سے بنے اپنے اس فنڈ میں کوشش کر رہی ہوں کہ لوگوں کی مدد ہو سکے لیکن یہ محض Symbolic ہی ہے۔ کیونکہ بھوک اس سے نہیں مٹے گی۔ 20 ملین افراد کے لیے رہنے کا انتظام نہیں ہو پائے گا۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ یہ بتائے کہ وہ کروڑوں ڈالر بیرونی امداد کو کیسے استعمال کرتی ہے۔کراچی ریلیف کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد ہم جامشورو کے دورے پر نکل پڑے۔ یہاں ہم نے اُن بندوں کا دورہ کیا جو خطرناک حد تک کمزور ہو چکے تھے۔ یہاں سے ہم ہالا، مٹیاری اور بیت شاہ کی طرف بڑھے۔ جب میں نے بیت شاہ میں بے سروسامان لوگوں کو خوراک کے ایک ایک دانے پر جھپٹتے ہوئے دیکھا تو میں نے شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بارے میں سوچا کہ اُن کی دھرتی کا کیا حال ہو گیا ہے۔ اُن کے دربار پر میں اپنے درد کو مزید نہیں چھپا سکی۔ اپنی زمینوں کو بچانے کی لالچ میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے چندممبران نے سیلاب کا رُخ اُن علاقوں کی طرف کر دیا جو دریائے سندھ سے کافی دور تھے۔ بد ترین بات یہ ہے کہ حکومت NDMA کو اب تک ہر تحصیل میں ہونے والی تباہی کا ڈیٹا نہیں فراہم کر سکی ہے اور نہ ہی اسے ریلیف کے متعلق کچھ بتا سکی ہے۔ یہ سسٹم کیسے چلے گا جہاں وفاقی صوبائی اور ڈسٹرکٹ حکومتیں ایک دوسرے سے تعاون نہیں کر رہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور اطلاعات کے تبادلے کے ساتھ وہ کئی زندگیاں بچا سکتے تھے۔ بیت شاہ سے ہم نوشیرو فیروز کی طرف بڑھے جہاں ہم نے نہ صرف امدادی اشیاءتقسیم کیں بلکہ ہم نے رات کو بند کا پہرہ بھی دیا۔ میں نے یہاں کچے کے علاقے کا بھی دورہ کیا اور مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ لوگ وہاں سے اپنے گھر چھوڑ کر کیوں نہیں نکل رہے تھے۔وہ امدادی کیمپوں میں غیر یقینی صورتِ حال سے بخوبی آگاہ تھے۔ ہم نے خیر پور کا بھی دورہ کیا جہاں بندوں پر بھوک اور بیماریوں سے دوچار لوگوں کو امدادی ٹرکوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا۔ سکھر بیراج کے پہلے اور اس کے بعد کے دورے میں بہت فرق تھا تباہی میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔ سکھر بیراج کے بعد ہم سیدھا رات گئے کوٹری بیراج پہنچے جہاں ریڈ الرٹ کی صورت حال تھی۔ سیلاب کا اگلا شکار ٹھٹھہ ہو گا جس کی وجہ سیلاب نہیں بلکہ Flood Flow Management میں ناکامی ہو گی۔ کوٹری پر مجھے سیلاب سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ مجھے حالات کی سنگینی کا احساس ہوا اور مجھے اُن علاقوں کی لسٹ حاصل ہوئی جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں میں ٹینٹ دے سکوں۔ بلوچستان کے دو دن اور سندھ کے 2 دن کے دورے میں جہاں ہم نے چوبیس چوبیس گھنٹے سفر اور کام کیا ہمیں سونے کا بہت کم موقع ملا۔ مندرجہ ذیل حقائق اس دوران میرے سامنے واضح ہوئے:
حکومت نے ابھی تک Damage Assessment نہیں کیا اس لیے کہ امدادی کاموں میں کوئی ربط نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی امداد بہت کم ہے۔ اگرچہ حکومت کی کریڈیبلٹی بہت بری ہے لیکن میں بین الاقوامی امداد کا مطالبہ کرتی رہی کیونکہ میں اپنے لوگوں کو تکلیف جھیلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ بین الاقوامی برادری جس پر چاہے اعتبار کرے ان کے ذریعے امداد دے۔ خوراک کی کمی، بیماریاں اور جرائم تین ایسے چیلنجز ہیں جن کا حکومت اچھی طرح سے سامنا نہیں کر پائے گی اور جلد ہی پرتشدد حالات سامنے آئیں گے۔ شاید تب حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔ ذرا ایک دن کے لیے سائبان کے بغیر رات گزار کر دیکھئے۔ میں نے 7دن تک کراچی پریس کلب کے باہر ایک نیک مقصد کے لیے قیام کیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ سات دن تک بھوکے رہ کر دکھائیں۔ اپنے بچوں کو بیماریوں کے ہاتھوں بے بسی سے مرتے ہوئے دیکھیں اور تب اس سوال کا جواب دیں۔ کیا لوگ نااہلی اور کرپشن کے خلاف نہیں اٹھ کھڑے ہونگے؟
میرا سفر ابھی تمام نہیں ہوا۔ میرے اس قومی سفر نے مجھے یہ تجربہ دیا کہ میں تمام صوبائی حکومتوں کے اقدامات کا تقابلی جائزہ لے سکوں کہ وہ کیسے اپنے لوگوں کو بچانے میں ناکام رہیں۔ حکومت کا وجود اس وقت عملی طور پر ختم ہوتا ہوا نظر آتا ہے جب وزیراعظم کی کمیشن سے متعلق تجویز صوبائی حکومتیں نظر انداز کر دیتی ہیں۔ جب صوبائی حکومتیں ADP فنڈز کو ریلیف کے لیے مختص نہیں کرتیں۔ 2005 کے زلزلے کے وقت Unity of Command تھی اور اب Unity of Executive Branches ناپید ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد تصور کیا جا رہا تھا کہ وزیراعظم کے پاس تمام تر اختیارات چلے جائیں گے لیکن وزیراعظم بے بسی کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ حالیہ ریلیف اقدامات میں صدر، وزیراعظم اور کیبنٹ کے ممبران سے پوچھنا چاہوں گی کہ اب تک انہوں نے اپنے ذاتی فنڈ سے کتنا امدادی کاموں پر خرچ کیا۔ میرا سوال حکومتی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندگان سے بھی ہے کہ انہوں نے حکومت کے فنڈ سے اب تک کتنا ریلیف کی مد میں خرچ کیا ہے اور انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے پرائیویٹ سطح پر کتنا اضافی فنڈ اکٹھا کیا اور تقسیم کیا۔ یہاں ہم دن رات ایک کر کے امدادی کاموں کے لیے اضافی فنڈ جمع کرنے پر لگے ہوئے ہیں اور اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ میں نے اس سیلاب کے دوروں میں سیاست دیکھی اور اس سے دور رہی۔ یہی بہترین Unity ہے جو ہم دکھا سکتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں