اللہ بچائے گیلانی ٹائیوں کو
رفیق ڈوگر ـ 24 اگست ، 2010
ہمارے خوف میں تو اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس خوف میں کہ جمہوریت کی چکاچوند چاندنی میں اگر کسی نے اس کے چیف ایگزیکٹو کے ہاﺅس کی دیواروں پر ”یوسف رضا گیلانی کو رہا کرو“ لکھ دیا تو اس کی تو ناک ہی کٹ جائے گی۔ سید اور گیلانی کی نہیں خدانخواستہ۔ این آر او جمہوریت کی ناک جس پر امریکی مکھیاں اور شریفین غریبین بیٹھے گنگنا رہے ہیں۔ اس جمہوریت کے اسی چیف ایگزیکٹو نے روز رفتہ اس شہر لاہور میں فرمایا تھا کہ ”صوبوں نے نواز شریف کے مجوزہ کمشن کی حمایت نہیں کی تو ہم کیا کریں؟“ اس ”ہم“ میں ان کے اپنے علاوہ اور کون کون شامل ہے؟ سید اور گیلانی کے اسلامی جمہوریت پاکستان کے وزیراعظم کے ”چاہ یوسف“ کے اندر سے تو اس بارے میں کوئی ”صدا“ نہیں بلند ہوئی تادم تحریر لیکن این آر او شاہ جی کی پارٹی کی اطلاعات و نشریات کی سربراہ خاتون ایک روز فرما رہی تھیں کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر ایسا کمشن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟ انہوں نے تو اس انکشاف کے ساتھ یہ نہیں بتایا تھا کہ صوبے نہیں مان رہے اور این آر او شاہ جی قبلہ جمہوری مکھیاں کے وزیر اطلاعات نے بھی یہی فرمایا تھا کہ ”گیلانی نواز اتفاق سے تو ایسا کمشن قائم نہیں ہو سکتا اس کے لئے قومی اتفاق ضروری ہے“ صوبوں کے عدم اتفاق کا انکشاف تو انہوں نے بھی نہیں فرمایا تھا۔ تو ان تینوں کے اعلیٰ ترین بیانات و انکشافات میں بھی تو اتفاق رائے نہیں۔ کیوں؟ کیا ان کا بھی آپس میں کوئی باہمی جمہوری اتفاق نہیں؟ سید اور گیلانی جن پر این آر او جمہوریت کا چیف ترین اور مہنگا ترین وزیراعظم ہونے کا الزام ہے فرماتے ہیں کہ صوبے نہیں مانتے ہم کیا کریں ان کے وزیر اطلاعات فرماتے ہیں کہ ان کے نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کر اتفاق کا اعلان کرنے میں خامی تھی اور ان کی پارٹی کی اطلاعات کی خاتون مختار فرماتی ہیں کہ اس کے لئے تو پہلے کابینہ سے منظوری لینا لازم تھا گویا سید اور گیلانی یوسف رضا کے ”ہم“ میں وہ دونوں تو لازماً شامل نہیں۔ وہ دونوں جو این آر او شاہ جی کی ”میں“ کے محافظ و مبلغ بتائے جاتے ہیں ایک ہی شاہی ایک ہی شاہی کے تین ترجمان اور ان تینوں میں بھی اس بارے میں اتفاق نہ ہو؟ نواز گیلانی اتفاق پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ جب بڑے میاں کے ساتھ سیلابی ملاقات کے بعد چٹ منگنی پٹ ویاہ کے انداز میں وزیراعظم نے اس اتفاق کامل سے دنیا کو آگاہ فرمانے کے لئے ہم عوام کے خرچ پر اتنی بھاری پریس کانفرنس بلا لی تھی تو اس وقت انہیں کیوں معلوم نہیں تھا کہ اس کے لئے تو انہیں کابینہ سے ابھی منظوری بھی لینا ہے اور قومی اتفاق بھی حاصل کرنا ہے اور صوبوں سے بھی پوچھنا ہے؟ اتنی بڑی جمہوریت کا اتنا مہنگا چیف ایگزیکٹو ہو اور اسے معلوم اتنا بھی نہ ہو کہ وہ تو اعلان خام فرما رہا ہے اور اگر انہیں معلوم نہیں تھا تو ان کے یعنی ان کے این آر او شاہ کے وزیر اطلاعات اور ان کی پارٹی کی اطلاعاتی خاتون نے انہیں بتا کیوں نہیں دیا تھا کہ تم جو اتفاق کر رہے ہو یہ خام ہے تمہاری خام خیالی ہے تمہیں اس بارے میں پہلے کابینہ سے منظوری لینا چاہئے اور قومی اتفاق حاصل کرنا چاہئے۔ تو کیا ایک بار پھر خدا ہی نخواستہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ دونوں بھی وزیراعظم ہاﺅس کی دیواروں پر ”یوسف رضا گیلانی کو رہا کرو“ لکھنے لکھوانے پروگرام والوں کی کسی جمہوریت دشمن سازش میں شامل ہیں؟ شریفین غریبین کی سیاسی حاکمانہ غربت میں اس گیلانیہ ناآگہی سے کتنا اضافہ ہوا ہے یا ہو جائے گا اس کا اندازہ تو ٹھیک ٹھیک ان کے برادر خورد بلوچ سردار آصف علی زرداری ہی لگا سکتے ہیں لیکن ان کے کسی دکھیا دل اطلاعاتی بلند اقبال کا انکشاف بھی سید اور گیلانی یوسف رضا کے اس مجبوریہ بیان کے ساتھ ہی سنا تھا ہم نے کہ اس بھاری بھرکم حاکمانہ و خادمانہ پریس کانفرنس سے پہلے انہوں نے یعنی سید اور گیلانی یوسف رضا نے اس کمشن کے قیام کے بارے میں پیر الطاف حسین کے سیاسی معالج ڈاکٹر فاروق ستار سے اور گاندھی لنگوٹی والے اسفند یار ولی سے باقاعدہ بات کی تھی اور انہوں نے اس کمشن کے قیام کے بارے میں نہ صرف باقاعدہ اتفاق کیا تھا بلکہ باقاعدہ منظوری بھی دے دی تھی اور ہم ن لیگ کے اتنے بلند اقبال ترجمان کے بیان پر اعتماد کرنے پر بھی ویسے ہی مجبور ہیں جیسے سید اور گیلانی یوسف رضا کے اس تازہ سچ کو سچ اور صرف سچ ہی ماننے پر مجبور ہیں۔ ہماری پریشانی کی اور وجوہ بھی ہیں ہم نے پڑھا سنا ہے کہ سید اور گیلانی یوسف رضا نے اپنی مہنگی ٹائیاں اور سوٹ سیلاب زدگان کو عطا کر دئیے ہیں اور اس مہنگائی پوشی پر اعتراض کرنے والوں سے کہا ہے کہ ”لو بیچو انہیں اور جو کروڑوں ملیں خرچ کر دو میری طرف سے میرے پیارے سیلاب زدگان پر“ اگر ان کے وزیراعظم ہاﺅس کی دیواروں پر کسی نے ”یوسف رضا گیلانی کو رہا کرو“ لکھ لکھوا دیا تو ان کے عطا کردہ مہنگے سوٹوں اور مہنگی ٹائیوں کی تو بازاری قیمت بھی گر جائے گی جس کا سیلاب زدگان کو شدید مالی نقصان ہو گا۔ سید اور گیلانی یوسف رضا کی طرف سے اپنی مہنگی ٹائیوں اور سوٹوں کے ڈھیر سیلاب زدگان کی مدد میں دے دینے کے ہیر پھیر کے بعد سے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا ان کا خریدار بھی ہے دنیا میں امریکہ کی خاتون سفیر کے علاوہ؟ اتنے مہنگے سوٹوں ٹائیوں کے ڈھیروں کو ملک میں تو دو ہی اہل ذوق خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں بلوچ سردار آصف علی زرداری اور ان کے برادران بزرگ شریفین ۔ بلوچوں کا سردار اپنی ہی شاہی کے خادم خاص کی اُترن خریدے؟ ناممکن اور شریفین اس گیلانی کی اُترن پر اپنی حق حلال کی کمائی خرچ کر دیں جس کو اپنی مہنگی ترین وزارت عظمیٰ کی اختیاراتی غربت میں اتنا بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیسا اتفاق کر سکتے ہیں اور کیسا اتفاق کرنا ان کے اختیار میں ہے ہی نہیں ایسے اُترن زیب تن و توش کرنے سے تو ان کی حاکمیت بھی گیلانیہ انفیکشن کا شکار ہو سکتی ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سید اور یوسف رضا گیلانی کو بخوبی اندازہ ہے کہ ان کی اُترن کا امریکن سفیر کے علاوہ کوئی خریدار ہے ہی نہیں اور امریکن سفیر مردانہ اُترن پہن نہیں سکتی اسی لئے انہوں نے اعتراض کرنے والوں سے کہا کہ ”لو کر لو نیلام اور کرو مدد سیلاب زدگان کی“ تو ہو نہیں جائے گا سیلاب زدگان کا مزید نقصان عظیم ایسی تحریر سے؟ ہم تو یہی دعا کر سکتے ہیں کہ ”اللہ بچائے گیلانی ٹائیوں کو“ لیکن خوف ہمارا پھر بھی بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں