بربریت کا جواز

سعید آسی ـ 24 اگست ، 2010
پولیس کلچر میں اصلاح کا جذبہ موجود ہو تو سیالکوٹ کا سانحہ ہی نہیں، اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات و معاملات میڈیا کے ذریعے اجاگر ہوچکے ہیں جن میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے ازخود اختیارات کے تحت کارروائی کی۔ اعلیٰ پولیس افسران کی سرزنش کی اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کی معطلی اور انکے خلاف اندراج مقدمہ کے احکام جاری کئے مگر یہ ٹیڑھی کل سیدھی ہونے کے بجائے مزید ٹیڑھی ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ صرف ایک ہی نظر آتی ہے کہ پولیس کلچر سے وابستہ حضرات کو اس سسٹم کی اصلاح وارا ہی نہیں کھاتی۔ چنانچہ پولیس زیادتیوں اور اختیارات سے تجاوز کے جس بھی واقعہ پر متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی عدالتی یا انتظامی پکڑ ہوتی ہے، نیچے سے اوپر تک پولیس کی پوری مشینری انکے تحفظ و دفاع کیلئے مستعد ہوجاتی ہے اور پھر پولیس زیادتیوں کی نشاندہی کرنیوالوں کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔
اگر پولیس کلچر کے وابستگان میں اپنے سسٹم کی اصلاح کی کوئی تڑپ موجود ہو تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سیالکوٹ میں پولیس کی موجودگی ایسے سفاکانہ پبلک قتلوں ایسی زیادتیوں کی تلخیاں ابھی محو نہ ہوئی ہوں اور بہاولپور میں میڈیکل کالج کی معصوم طالبات پر پولیس کے وحشیانہ لاٹھی چارج کی دل ہلا دینے والی داستان بمعہ تصویر منظرعام پر آجائے۔ اس تصویر کو دیکھ کر شائد ہی کوئی ایسا سنگدل ہوگا جس کی زبان سے متعلقہ پولیس اہلکاروں کیلئے کلمہ خیر نکلا ہو۔ یقیناً پولیس اہلکاروں کی بھی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہوتی ہیں مگر شائد انکے دل پدرانہ شفقت کے جذبے کو پروان ہی نہیں چڑھاتے ورنہ کوئی بیٹی کا باپ اپنی بیٹیوں جیسی کسی بچی پر ایسا وحشیانہ تشدد نہیں کرسکتا جیسے ایک خونخوار پولیس اہلکار بہاولپور میں میڈیکل کالج کی دو معصوم طالبات پر سفاکانہ تشدد کرتا تصویر میں نظر آرہا تھا۔ اگر یہ تصویر اس پولیس اہلکار کی ماں، بہن یا بیٹی نے بھی دیکھی ہو تو انہیں بھی اپنے باپ، بھائی اور بیٹے کی اس حرکت پر رونا آجائے۔
بہاولپور میڈیکل کالج کے طلبہ اور طالبات کالج انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں اضافہ کیخلاف سڑکوں پر آکر احتجاج کررہے ہیں جس میں وہ حق بجانب بھی ہیں کہ تعلیم بالخصوص میڈیکل کی تعلیم تو پہلے ہی اتنی مہنگی ہے کہ غریب اور متوسط طبقات کے لوگ اپنے بچوں، بچیوں کو یہ تعلیم دلوانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ میڈیکل میں داخلے کیلئے جو میرٹ مقرر ہے، اتنے زیادہ نمبروں والے طلبہ و طالبات کو تو ویسے بھی سکالرشپ مل جانی چاہئے مگر سکالرشپ تو کجا، انکے والدین پر تعلیم کے بھاری اخراجات کا بوجھ لاد کر انہیں بے حال کردیا جاتا ہے۔ اگر اس پر بھی اکتفا نہ کیا جا رہا ہو اور غریب والدین کو فیسوں میں مزید اضافہ کے جھٹکے دینا شروع کردئیے جائیں تو یہ صورتحال تنگ آمد بجنگ آمد کی نوبت ہی لائیگی۔
اندازہ لگائیے، جن طلبہ و طالبات نے مسیحائی کا فریضہ ادا کرنا ہے، وہ حالات کے زبردستی مسلط کئے جانیوالے جبر کیخلاف احتجاج کیلئے سڑکوں پر آئیں تو کیا یہ اتنا گھناﺅنا جرم ہے کہ انہیں پولیس کے شیر جوان جانوروں کی طرح وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیں۔ جو بچے اور بچیاں ایسی پولیس بربریت کی بھینٹ چڑھتی ہیں، ان کی نفسیاتی کیفیت کا اندازہ لگالیا جائے تو سوسائٹی میں ٹوٹ پھوٹ کے محرکات کی بھی سمجھ آجائے۔ مگر جن کے دل میں صلہ رحمی، شفقت و محبت اور شرف انسانیت کی کوئی رمق موجود نہ ہو، وہ لطیف انسانی جذبات سے کیسے آشنا ہوسکتے ہیں اور پولیس تشدد کے واقعات میں اکثر اوقات پولیس اہلکاروں کی بے حسی کا ہی عمل دخل ہوتا ہے۔ جس سفاکی کے ساتھ بہاولپور کا پولیس اہلکار اپنے چہرے پر وحشت و رعونت طاری کرتے ہوئے معصوم اور خوفزدہ طالبہ پر لاٹھی برساتا تصویر میں نظر آرہا تھا۔ میرے پاس تو یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ کالج انتظامیہ یا اعلیٰ پولیس افسران نے اسے اتنی سفاکی کے ساتھ طالبات پر لاٹھیاں برسانے کا حکم دیا ہوگا۔ اعلیٰ پولیس افسران کا قصور یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے واقعات میں ملوث پولیس اہلکاروں کی سرکوبی کرنے کے بجائے ایسے واقعات کی وجہ سے میڈیا اور سول سوسائٹی میں پولیس پر ہونیوالی تنقید کو اپنی انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں اور پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والے ان اہلکاروں کی سزا کی نوبت ہی نہیں آنے دیتے جس سے پورے پولیس سسٹم کے بارے میں یہ تصور پختہ ہوجاتا ہے کہ نیچے سے اوپر تک گڑبڑ ہے۔ اگر پولیس اہلکار مارا ماری کرتے ہیں اور پولیس سے متعلق کوئی بھی معاملہ پیسے دئیے بغیر طے نہیں ہوتا تو اسکی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حصہ بقدرِ جثہ اوپر تک جاتا ہے ورنہ اپنے محکمے میں موجود کالی بھیڑوں کو تحفظ دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہو۔
میرے ذاتی مشاہدے میں ایسے کئی واقعات ہیں جو پولیس کے دائرہ اختیار میں آئے تو مجرم مدعی اور مدعی مجرم بن کر نکلے۔ کسی شہری پر بلاجواز پولیس تشدد کا معاملہ پولیس تھانوں، مجاز افسران اور عدالتوں تک پہنچتا ہے تو متعلقہ پولیس اہلکار کا کچھ نہیں بگڑتا مگر اسکی جانب سے کئے گئے تشدد کا جواز ضرور نکل آتا ہے حالانکہ قانون کی کتابوں میں کسی مجرم پر بھی تشدد کی اجازت موجود نہیں ہے۔ سیالکوٹ میں پولیس کی موجودگی میں دو نوعمر بھائیوں کو مشتعل لوگوں کے ہجوم کی جانب سے لاٹھیاں اور ڈنڈے برسا برسا کر قتل کرنے اور پھر انکی لاشیں کھمبے کے ساتھ لٹکانے کی درندگی میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آئی ہے جس میں پولیس کڑی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے تو اب اس واقعہ کے بھی کئی جواز نکالے جا رہے ہیں جس میں مروجہ عدالتی نظام میں انصاف میں تاخیر یا بے انصافی والا جواز زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ اسی جواز کی وکالت سیالکوٹ کی ایک پڑھی لکھی اور شائستہ خاتون نے میرے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کی جن کے بقول ان کا وقوعہ کے کسی فریق سے کوئی تعلق نہیں مگر وہ اس بات کی قائل نظر آتی تھیں کہ لوگوں نے خود ہی قانون ہاتھ میں لیکر ان دونوں بھائیوں کو سفاکانہ انداز میں مار ڈالا ہے تو ٹھیک ہی کیا ہے۔ وہ نوائے وقت کے سابق ڈپٹی ایڈیٹر مرحوم بشیر احمد ارشد کے کسی قریبی عزیز کے اسی علاقے میں ڈکیتی کے دوران قتل کے واقعہ کا حوالہ دے رہی تھیں کہ اس واقعہ کو گزرے چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے مگر یہ کیس ابھی تک تفتیش کے مرحلہ سے ہی باہر نہیں نکلا۔ یہ منطق ہے سیالکوٹ کے واقعہ کا جواز نکالنے کی کہ جب انصاف ملنے کا کوئی امکان ہی نظر نہ آرہا ہو تو موقع پر پکڑے گئے کسی مجرم یا مجرموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہئے جو سیالکوٹ کے دو بھائیوں کے ساتھ ہوا ہے۔
بلاشبہ یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کی توجہ کا متقاضی ہے مگر اس منطق کی بنیاد پر سیالکوٹ جیسے واقعات کا جواز نکالا جانے لگا تو یہ سوسائٹی ٹوٹ پھوٹ کی کس انتہا تک جاپہنچے گی، اس کا بھی متذکرہ خاتون کو کوئی خوف نظر نہیں آتا تھا۔ میڈیا کے ساتھ انہیں شکوہ تھا تو یہ کہ جس خاندان کا ایک بیٹا ان بھائیوں کی فائرنگ سے قتل ہوا ہے اور دوسرا موت و حیات کی کشمکش میں ہے، میڈیا اس خاندان کی تو خبر تک نہیں لے رہا اور فوکس صرف دو بھائیوں کے قتل پر کیا جا رہا ہے۔ خاتون کے جذبات اپنی جگہ مگر اس انداز میں لوگوں کو مارنے کی حوصلہ افزائی کرنا تو قتل عام کا کھلا لائسنس دینے کے مترادف ہے اور جب ایسا کوئی واقعہ پولیس کی موجودگی میں رونما ہورہا ہو تو پھر اس نوعیت کے مزید واقعات کیلئے بھی لوگوں کے حوصلے کیوں بلند نہیں ہوں گے۔ یہ اجتماعی طور پر ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر سیالکوٹ کے واقعہ کو ہی ٹیسٹ کیس بنالیا جائے تو اس سوسائٹی کو مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے بچایا جاسکتا ہے ورنہ تو کچھ بھی بچتا ہوا نظر نہیں آرہا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں