سیلاب زدگیاں اور میانوالی
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 24 اگست ، 2010
دوسرے علاقوں میں بھی سیلاب زدگان کیلئے امداد کا یہی حشر ہورہا ہوگا مگر میانوالی تو میرا شہر ہے۔ وہاں سے اچھی خبریں زیادہ آرہی ہیں۔ وہاں سے دوست فون پر بھی بات کرتے رہتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے کہیں بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ہر طرف دہائی پڑ جاتی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی ٹرکوں کے ساتھ پیشہ ور بھکاریوں کی فوج ظفر موج بھی پہنچ گئی ہے۔ صرف پاک فوج کے سامنے ان کی کچھ نہیں چلتی ورنہ راستے ہی میں یہ امداد ہڑپ کرلی جاتی ہے۔ لٹیرے بھی ان علاقوں میں گھس آئے ہیں۔ بھکاری ضرورت کے وقت لوٹ مار بھی شروع کردیتے ہیں۔ یہ بھی ہوا کہ چاولوں کی دیگ میں نشہ آور شے ملا دی گئی۔ کھانے والے بیہوش ہوگئے تو نام نہاد ”امدادی لوگ“ سب کچھ لوٹ کر لے گئے۔ لٹیرے سرکاری حلقوں میں بھی موجود ہیں۔ ایک دیگ پر چار سو روپے کمیشن ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دیگ میں کیا چیز پکائی گئی ہوگی اور کس طرح پکائی گئی ہوگی۔ ایک دیگ کی قیمت بارہ سو روپے ہے تو پکانے والے نے اس میں اپنی کمائی بھی کرنا ہے۔ کمیشن کلچر کی وجہ سے جو حفاظتی بند بنائے گئے تھے وہ خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ سکول گر گئے، سرکاری عمارتیں تنکوں کی طرح بکھر گئیں، تو پھر ان ٹھیکیداروں اور سرکاری انجینئروں کا احتساب کب ہوگا۔ یہ ایکسیئن اور چیف انجینئرز وغیرہ تو بیوروکریٹ افسران سے بھی زیادہ امیر کبیر ہیں۔ اکثر سننے میں آیا ہے کہ چیف انجینئر تو چیف سیکرٹری اور چیف منسٹر سے بھی زیادہ اثرورسوخ، اختیارات اور دولت کے حوالے سے کہیں آگے ہوتا ہے۔ سب لوگ اسکے پیچھے ہوتے ہیں۔ سیاستدان بھی انکے محتاج ہوتے ہیں۔ ہر طرح کے افسران بے چارے سیاستدانوں کو استعمال کرتے ہیں۔ سیاستدان خود بھی اپنے آپ کو استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ سیلاب زدگان کیلئے ان کے نمائشی اور سیاسی دورے جاری ہیں۔ اپنے نمبر بنانے کی بات امریکی سفیر نے کی ہے۔ ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش میں ایک دوسرے پر الزام بازی ہورہی ہے۔ یہ سیلاب کئی برسوں کے بعد آیا ہے۔ پچھلے سے پچھلے برس ایک رکن اسمبلی بڑے دکھ سے کہہ رہا تھا کہ آج کل بڑا مندا جا رہا ہے، سیلاب ہی نہیں آیا۔ کسی نے پوچھا کہ اس کا ”مندے“ سے کیا تعلق ہے، لوگ تباہ ہوتے ہیں، بربادی ہی بربادی ہے، وہ سنگدل سیاستدان کہنے لگا کہ سیلاب زدگان کیلئے جو امدادی فنڈز ملتے ہیں ان میں سے بہت کچھ” بچ “جاتا ہے۔ بچا تو ہم ترقیاتی فنڈز میں سے بھی لیتے ہیں مگر یہ ”امداد“ اضافی ہے۔ ترقیاتی فنڈز کو غیرترقیاتی فنڈ بنانا سیاستدان اور افسران خوب جانتے ہیں۔
میانوالی میں ایک جعلی ہسپتال کا دورہ وزیراعظم کو کرایا گیا۔ انہوں نے بڑے فخر سے لفافے بھی تقسیم کئے۔ کیا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے پاس کوئی سیاسی سوجھ بوجھ بھی ہے؟ جس کی مرضی آئے وہ وزیراعظم کو دھوکہ دےدے۔ سرکاری سطح پر دھوکے اور دھماکے میں فرق نہیں رہا۔ اس طرح کے واقعات اور بھی کہیں کہیں وزیراعظم صاحب کے ساتھ ہوچکے ہیں۔ مظفر گڑھ میں جب وزیراعظم کا سیلابی شو ختم ہوا تو امدادی سامان دکھوں کے مارے بھوکے پیاسے سیلاب زدگان سے واپس لے لیا گیا تاکہ یہ کہیں اور وزیراعظم کے پروٹوکول کیلئے کام آسکے۔ یہ تو شہبازشریف کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ شہبازشریف میانوالی میں بہت دفعہ گئے اور امداد کی۔ مجھے میانوالی کے ممتاز صحافی برادرم محمود الحسن نے بتایا کہ 1600 پیکٹ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کو دینے کیلئے بھجوائے گئے جو ڈی سی او میانوالی طارق محمود نے خود تقسیم کئے۔ ہر پیکٹ میں اتنی خشک خوراک ہوتی ہے جو پندرہ دنوں کیلئے کافی ہے۔ پاک فوج کے ائرچیف کی ہدایت پر سات ٹرک اسی طرح کے خشک سامان کے میانوالی بیس کمانڈر نے ڈی سی او کے ساتھ ملکر لوگوں تک پہنچائے ہیں۔
یہ خبر بھی ملی ہے کہ چشمہ بیراج پر شہبازشریف موسم کی خرابی کی وجہ سے نہ پہنچ سکے تو ان کے آنے سے پہلے جو امدادی سامان وہاں موجود لوگوں کو دیا گیا تھا وہ واپس لے لیا گیا کہ ان کے دوبارہ آنے پر دیا جائیگا۔ وہاں موجود سرکاری لوگوں کو سیلاب زدگان سے زیادہ حکمرانوں کی خوشنودی مطلوب تھی۔ ویسے میانوالی کے لوگ بہت حد تک مطمئن ہیں اس لئے میڈیا والے بھی ادھر کا رخ نہیں کررہے۔ شہبازشریف کے علاوہ عمران خان بھی یہاں لوگوں سے ملے ہیں۔ وہ سیلاب زدگان کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ امید ہے کہ اس میں اپنے حلقہ انتخاب میانوالی کا حصہ بھی رکھیں گے۔
میانوالی میں اس بار بہت تباہی ہوئی ہے۔ لوگ حیران ہیں کہ اتنا پانی کہاں سے آگیا۔ مرے گاﺅں موسیٰ خیل میں بھی امدادی کیمپ لگایا گیا ہے۔ وہاں سیلاب نہیں آیا مگر سیلاب زدگان آئے ہیں۔ یہاں سے کچھ فاصلے پر داﺅد خیل میں وہ سامان کھلے عام بک رہا ہے جو سیلاب زدگان کیلئے بھیجا گیا تھا۔ یہ بات میانوالی انتظامیہ کیلئے توجہ طلب ہے کہ ان کی نیک نامی کی خبریں آرہی ہیں۔ محمود الحسن نے بتایا کہ یہاں انتظامیہ بہت محنت اور دلسوزی سے خدمت کررہی ہے۔ میانوالی کے ڈی پی او رانا جبار بھی تعریف کے مستحق ہیں کہ ان دنوں کہیں بھی کسی واردات کی خبر نہیں آئی۔ نہ ڈاکہ نہ چوری، نہ سیلاب زدگان کیلئے کوئی بری خبر سامنے آئی ہے جبکہ یہ علاقہ طالبان کی سرگرمیوں کیلئے آسان ہے کہ صوبہ خیبر پی کے یعنی صوبہ سرحد کے ہمسائے میں واقع ہے۔ میانوالی ایک زمانے میں بنوں کی تحصیل تھی۔ اب ہم یہ تو نہیں چاہتے کہ میانوالی خدانخواستہ صوبہ سرحد میں شامل ہو۔ خیبر پی کے میں تو شامل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر میں نے کالا باغ ڈیم کیلئے میانوالی کی طرف سے اس قربانی کا ذکر کیا تھا کہ کالا باغ کو صوبہ سرحد میں شامل کرو مگر ڈیم بناﺅ۔ انہی دنوں میں مجھے ایک رسالہ ماہنامہ ”سوجھلا“ ملا ہے جسے ڈاکٹر عالیہ قیصر شائع کرتی ہیں۔ اس میں سارے نام عورتوں کے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس دور آباد علاقے میں خواتین کے ذوق و شوق کو فروغ ملے۔ ڈاکٹر عالیہ قیصر کو ارم ہاشمی کا تعاون حاصل ہے۔ کسی اگلے شمارے میں سیلاب زدہ خواتین کے معاملات ومسائل پر بھی کوئی تحریر ہوگی۔ رسالے میں پروفیسر آر کے نیازی کے ناول ”کسک“ کی تقریب کا احوال شامل ہے۔ اس تقریب میں بھی صرف خواتین شامل ہیں۔ یہ بات شائد شہری لوگوں کو اچھی نہ لگے مگر میانوالی کی یہ تخلیقی سرگرمی بہت اہم ہے۔ محترمہ پروفیسر نیازی سے گزارش ہے کہ وہ میانوالی کی سیلاب زدہ عورتوں کے حوالے بھی سے کچھ لکھیں۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں