نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر!

پروفیسر سید اسراربخاری ـ 23 نومبر ، 2010
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی رحمت ہیں‘ انہوں نے ہندہ جیسی عورت کو فتح مکہ کے موقع پر معاف کر دیا مگر توہین رسالت کے سلسلے میں انہوں نے کسی کو معاف نہیں کیا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں توحید‘ انسانوں تک رسالت کے ذریعے پہنچی اس کے علاوہ ہمارے پاس توحید کی کوئی عقلی دلیل نہیں۔ شارع علیہ السلام کو اندازہ تھا کہ اگر توہین رسالت کا سلسلہ چل نکلا تو مسلمانوں کے پاس توحید کا وسیلہ باقی نہیں رہے گا اور اس طرح توہین رسالت‘ توہین الوہیت کا روپ دھار لے گی۔ جس کے نتیجے شرک جنم لے گا۔ علامہ محمد اقبالؒ سے نطشے نے سوال کیا تھا کہ کیا آپ جیسا روشن خیال و روشن دماغ سکالر بھی ایک ہستی موہوم یعنی اللہ پر یقین و ایمان رکھتا ہے؟ کیا آپ کے پاس ایک اللہ کے وجود کی کوئی عقلی دلیل ہے۔ تھوڑے سے توقف کے بعد علامہ اقبالؒ نے جواب دیا: ہاں میرے پاس عقلی دلیل موجود ہے۔ ساری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ آج سے چودہ سو برس پہلے محمد بن عبداللہ اس دنیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 63 برس لوگوں میں بھرپور زندگی گزاری‘ انہوں نے کبھی خیانت کی نہ جھوٹ بولا‘ جس کا عرب معاشرہ اس حد تک معترف تھا کہ وہ اُن میں صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہو گئے اور آپ کے جانی دشمنوں نے دنیا کے درباروں میں جا کر یہ اعتراف کیا کہ آنحضرت نے نہ کبھی جھوٹ بولا اور نہ کبھی امانت میں خیانت کی‘ انہوں نے پوری زندگی سچ بولا اور تاریخ اس کی گواہ ہے تو انہوں نے یہ بھی سچ ہی کہا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر ایمان لاﺅ‘ اس سے بڑھ کر میں کیا عقلی دلیل پیش کروں۔ میں بھی اس دلیل کے باعث اللہ پر ایمان رکھتا ہوں۔ یہ سن کر نطشے لاجواب ہو گیا۔ پچھلے دنوں ایک عیسائی خاتون آسیہ نے توہین رسالت کی معاملہ سیشن کورٹ تک پہنچایا اور عدالت نے آسیہ مسیح کو سزائے موت سنائی۔ اسے جیل بھیج دیا گیا گورنر پنجاب جیل پہنچ گئے اور آسیہ سے معافی کی اپیل پر انگوٹھے لگوائے‘ جبکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ میں یہ اپیل لے کر خود صدر کے پاس جاﺅں گا اور انشاءاللہ آسیہ کی سزا معاف ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ سزا انسانیت کے خلاف ہے۔ گویا گورنر پنجاب بھی ایک طرح سے اس توہین رسالت میں اپنا حصہ ڈال گئے۔ کیا گورنر صاحب کی نظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین انسانیت کے حق میں ہے۔ شاید ان کو معلوم ہو گا کہ بائبل میں توہین انبیاءکی سزا سنگسار کرنا یا زندہ جلانا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اس کا حوالہ چیک کر سکتے ہیں۔ پھر یہ کہ آج تک پوری تاریخ میں کبھی کسی مسلمان نے عیسائیوں یا یہودیوں کے انبیاءکی کبھی توہین نہیں کی بلکہ ان پر ایمان لانا اسلام میں شامل ہے۔ اس عیسائی دنیا میں یہ قانون رائج ہے کہ توہین مسیح کی سزا موت ہے اور وہاں کسی کو ایسا کرنے نہیں دیا جاتا‘ جبکہ ہماری حکومت اور بعض پارلیمنٹیرین قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا عیسائیت اپنے شرعی قوانین پر سختی سے کاربند ہے مگر ہم ان کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ کیا یہ شرم کا مقام نہیں‘ جس شخص نے قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کے حق میں مضمون لکھا ہے‘ وہ محب رسول نواز شریف کا ایم این اے ہے‘ اب عشق رسول کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے گستاخ رسول کو پارٹی سے نکال باہر کیا جائے۔ وگرنہ ان کے والد کی روح بھی ان کو معاف نہیں کرے گی جو محبانِ رسول کے سرخیل تھے اگر دشمن ہمارے علاقوں کے ساتھ ہمارے بنیادی ایمانی عقائد تک بھی پہنچ گیا ہے تو اس کا نوٹس اب عشق رسول سے سرشار عوام کو لینا ہو گا کیونکہ ریاست اور حکومت اس سنگین حملے کو نہیں روکے گی ہم منہاج القرآن کے ”شیخ الاسلام“ سے بھی کہیں گے کہ اگر انہوں نے یہ لقب اختیار کیا ہے تو اس کا تقاضا پورا کریں اور میدان میں نکلیں کیونکہ بات اہانت مصطفی احمد مجتبیٰ تک آپہنچی ہے۔ نعت رسول پر نوٹوں کے انبار لگانے والے بھی سامنے آئیں کہ خواجہ بطحا کی حرمت کو خطرہ ہے۔ اس وقت جمہوری ایوانوں میں علماءکرام کی کمی نہیں اور انہوں نے دین کے نام پر ووٹ لئے ہیں ان پر لازم ہے کہ اب اعلائے کلمة الحق کا وقت آ گیا ہے وہ اپنے ووٹوں کی قیمت ادا کریں اور توہین رسالت کے جواز کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ مسلمان آج غزوہ احد کو یاد کریں کہ کس طرح صحابہ کرامؓ نے سید الرسل کے رخ انور پر ہاتھوں کے سائے کر کے ان کے انبار لگا دیئے تھے۔ آج پھر تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ عاشقان مصطفی باہر نکلیں کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی سازش انہی کو ختم کرنی ہے۔ آج اعظم طارق جیسا ایک بھی عالم دین موجود ہوتا تو ایک پگمی ایم این اے کو توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے پر ہرزہ سرائی کی جرات نہ ہوتی۔ یہ نام نہاد روشن خیال آفتاب رسالت کو گہنا نہیں سکتا‘ بلکہ شپرہ چشم اپنی بصیرت کھو دے گا۔ سید العرب والعجم کی حرمت کو تو کوئی ختم نہیں کر سکتا مگر رسالت کو گز ند پہنچانا توحید کے خاتمے کی سازش ہے۔ جسے غائر نظر ہی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مدینہ منورہ کے نواح میں ایک خاتون کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ صبح سے رسول اللہ کو دشنام دینا شروع کرتی ہے اور عشاءتک یہ سلسلہ جاری رکھتی ہے۔ آپ نے صحابہؓ سے فرمایا کوئی ہے جو شام سے پہلے اس کا سر کاٹ کر لے آئے اور صحابہؓ نے شام سے پہلے یہ کام کر دکھایا۔ آج پھر وہی منظر ہے۔ فیصلہ مسلمانان پاکستان خود کر لیں۔ مولانا ظفر علی خان کا نعرہ عشق مصطفی آج بھی گونج رہا ہے۔ ہے کوئی اس پر عمل کرنے والا ۔
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں