آپ کے سوٹ اور ٹائیاں کون پہنے گا حضور
وہ انہیں پہنے گا جس کے ذہن میں ہو گا فتور
آپ جیسا ”حسن یوسف“ اور وجاہت ہے کہاں
آپ سا فہم و تدبر اور فراست ہے کہاں
قیمتی سوٹ اور ٹائی دیکھنے کون آئے گا
حلقہ احباب جب سیلاب میں بہہ جائے گا
ہاں اگر ملفوف ہو کوئی وزارت سوٹ میں
ٹائی پہن کے ساتھ لپٹی ہو سفارت سوٹ میں
خوب ہو گی پھر تو سوٹ اور ٹائیوں کی ”لوٹ سیل“
شرط ہے ثابت نہ ہو آخر میں یہ بھی جھوٹ سیل
عید ہے سر پر ذرا جلدی نمائش کیجئے
اپنی قدر و منزلت کی آزمائش کیجئے
بیچنے کو خود کو بھی عمران خاں تیار ہے
آنے والا پھر سے ”ایدھی“ بھی سر بازار ہے
جس کی جو مقبولیت ہے سامنے آجائے گی
کیا خبر؟ شہباز کی پرواز اونچی جائے گی
منعقد‘ سیلاب میلہ ہو جو قصر صدر میں
ہے یقیں مجھ کو اضافہ ہو گا سب کی قدر میں
عالمی لیڈر بھی ہوں گے ایسے میلے میں شریک
نون مسلم لیگ کے پیارے ”میاں“ کہہ دیں جو ٹھیک
سب ”نوارد“ کا بنے نیلام گھر اسلام آباد
آمدن سیلاب کے ماروں کو بھی کر دے گی شاد
آنسووں کی دے کے بولی وہ خریدیں ایک نان
خوب چمکے گی وڈیروں کی سیاست کی دکان