تعمیر کے ساتھ تاثیر کی ضرورت ہے؟
بشری رحمن ـ 23 اگست ، 2010
مصیبت ہے، ابتلا ہے، عذاب ہے، آزمائش ہے، کوتاہی یا غیرذمہ داری ہے، ضد ہے یا کوتاہ بینی ہے۔ غصہ ہے کہ گلہ ہے۔ پانی چڑھتا جا رہا ہے۔ درد بڑھتاجا رہا ہے۔ بستیاں تہس نہس ہو رہی ہیں۔ دنیا کو سوا نیزے پر رکھنے والا انسان پانی کا مدوجذر نہیں پڑھ سکتا۔ پانی کا مزاج نہیں سمجھ سکتا۔ اس کی روانی کے آگے بند نہیں باندھ سکتا۔ یہی مرحلہ قوموں کی زندگی میں کٹھن ہوتا ہے۔ اور مشکل اس وقت پیش آتی ہے۔ جب سوچ اور عمل ایک دوسرے کا پلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر یہ عذاب ہے تو پوری قوم کو اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ اگر یہ آزمائش ہے تو خدا خوفی کے ساتھ اس سے گزرنا ہو گا۔ دنیا بھی یہی کہہ رہی ہے کہ یہ دنیا کے لئے بھی ایک بڑا حادثہ ہے۔ ہماری قابل فخر فوج آگے بڑھ کر اپنا فرض ادا کر رہی ہے۔ اور مخیر حضرات حسب توفیق اس کار خیر میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ لگ رہا ہے کہ کام آہستہ ہو رہا ہے۔ مگر ہر قسم کی کوششیں جاری و ساری ہیں۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اپنے جلو میں بے شمار مسائل لے کے آتا ہے۔ زلزلے کے دنوں میں ایسا ہی ہوا تھا۔ شروع میں بہت سی قوتیں ہمدردی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ مگر حادثہ گزر جانے کے بعد سب سست ہو جاتے ہیں۔ ابھی جب پانی اترے گا تو نقصان کا اندازہ ہو گا۔ کیا کچھ بہا کر لے گیا اور کس حد تک تلافی ہو سکتی ہے۔ ساری دنیا کو مدد کے لئے پکارنے کے باوجود جو بات پیش نظر رکھنی ہے۔ وہ ان لٹے پٹے لوگوں کی آباد کاری ہے۔ ان کی پونجی تو واپس نہیں لا سکتے۔ مگر ان کے لئے آئندہ زندگی کا بندوبست کرنا ہو گا۔ ویسے بھی جس آدمی کا سب کچھ لٹ جاتا ہے۔ اسے مطمئن کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن کوشش ضرور کرتے رہنا چاہئے.... !گھروں میں بیٹھے پاکستانی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ کر بھی رہے ہیں مگر ایک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں.... یقین تو دلانا پڑتا ہے۔ یقین کے بغیر تو کوئی کام نہیں ہوتا....!
پاکستان نیک متقی اور اللہ والے لوگوں سے خالی نہیں ہوا۔ انہی کی قربانیوں سے چل رہا ہے۔ ایسے حوصلہ شکن موسم میں جبکہ دلخراش خبریں اچھالی جا رہی ہیں۔ کم از کم گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جس نے گھپ اندھیرے میں چراغ سا روشن کر دیا ہے۔ پانی کی آفتوں کو دیکھ کر ہر دردمند انسان کی طرح انہوں نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم ملکی بقاءکے حوالے سے بہترین منصوبہ ہے۔ کالا باغ ڈیم کو متنازع بنانا کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ دیگر ڈیموں کا انحصار دریاﺅں کے پانی پر ہے۔ صرف کالا باغ ڈیم ہی مون سون کی ایسی بارشوں کا توڑ ہو سکتا ہے۔ منگلا ڈیم اور تربیلا کی گنجائش تیس فیصد کم ہو گئی ہے سندھ پانی معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی ) کو سنے کی بجائے اس کے مندرجات کا ایک بار پھر مطالعہ کریں۔ انڈس واٹر ٹریٹی میں یہ طے تھا کہ پاکستان میں تین نئے ڈیم بنیں گے۔ اب تک وہ ڈیم کیوں نہیں بنائے گئے۔
سلمان تاثیر صاحب نے خوب کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو کالا باغ ڈیم بنانے کے لئے چاروں صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کر سکتی ہے۔ کالا باغ ڈیم کی بے جا مخالفت کرنے والے ان کے اپنے اتحادی ہیں۔ ان کی بغل میں بیٹھے ضد پر اڑے ہیں۔ چین نے چھ ہزار ڈیم بنا لئے ہیں۔ انڈیا نے چھوٹے بڑے سینکڑوں ڈیم ان ہی دریاﺅں کے بل بوتے پر بنا لئے ہیں۔ اب بھی جب بھارت کا دل چاہتا ہے پانی چھوڑ کر پاکستان کی فصلیں ڈبو دیتا ہے یا پانی روک کے فصلیں جلا دیتا ہے۔ یہ پھنکارتا ہوا پانی اور مدد کے لئے چلاتے ہوئے لوگ قوم کی انسانیت کے لئے ایک تازیانہ ہیں۔ میں ذاتی طور پر گورنر پنجاب کی ممنون ہوں کہ انہوں نے بروقت ایک قومی مسئلہ کے حل کی نشاندہی کی ہے۔ سلمان تاثیر صاحب کو شاید یاد ہو کہ جب وہ پنجاب اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن تھے۔ میں ان کی کولیگ تھی۔ اگرچہ میرا تعلق سرکاری بنچوں سے تھا۔ اس وقت بھی سلمان صاحب سچی اور کڑوی بات کہنے سے نہیں چوکتے تھے۔ آج بھی ان کی یہی عادت ہے۔ کاش پیپلز پارٹی کے پاس سلمان تاثیر جیسے دو چار اور جیالے ہوں تو شاید کالا باغ ڈیم کے لئے راہ ہموار کر کے پاکستان پیپلز پارٹی تاریخ میں اپنا نام سنہری لفظوں میں لکھوا لے۔ اور شاید تباہ حال اور لٹے پٹے لوگ بھی ان کے لئے دعاﺅں کا باعث بن جائیں۔
15جون کو جب میں نے قومی اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کا ایشو نئے سرے سے اٹھایا تھا تو سوائے اے این پی کے کسی نے مخالفت نہیں کی تھی۔ جناب پرویز خٹک نے صاف کہا تھا کہ وہ زرداری کے اتحادی اس شرط پر بنے تھے کہ صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھا جائے گا اور کالا باغ ڈیم نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے چلا چلا کر کہا تھا نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ چارسدہ ڈوب جائے گا.... اب کوئی ان سے پوچھے کہ نوشہرہ سمیت پختونخواہ کے کئی شہر کیوں ڈوب گئے.... کیا صوبے کو نیا نام راس نہیں آیا۔ جنوبی پنجاب کیوں ڈوبا۔ سندھ اور بلوچستان کی خوبصورت بستیاں کیوں ڈوب گئیں۔ میانوالی کو کیوں نہ بچایا جا سکا۔ غالباً ان کی باتوں سے ہی دریا ناراض ہو گئے.... دریا بپھر گئے.... دریا جواب دینے کے لئے باہر نکل آئے۔ اب اے این پی کے ارکان بتائیں جو بے گناہ مر گئے، جو اثاثے سیلاب کی نذر ہو گئے۔ اس کی ایف آئی آر کس کے خلاف کٹوائی جائے گی۔ کون ان کی تلافی کرے گا....
میں گورنر سلمان تاثیر سے گزارش کروں گی۔ براہ کرم اپنی بے ساختہ پیش بندی کے صدقے میں وہ اس معمے کو بھی حل کریں کہ کالا باغ نہ بنانے میں صرف انڈیا کا سیاسی مفاد مضمر ہے۔ جبکہ پاکستان کے لئے یہ حیات بخش منصوبہ ہے۔ اس سے چھ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔ جو ہمارے لئے سرپلس ہو گی۔ خوراک میں ہم خود کفیل ہو جائیں گے اور چاروں صوبوں کے غریبوں کو روزگار ملنے لگے گا۔ آج بے بسی سے ڈوبتے ہوئے انسان، بلکتی ہوئی زندگیاں، کراہتے ہوئے بچے، بین کرتی ہوئی مائیں.... ڈیم.... اور ڈیم.... اور ڈیم.... پکار رہی ہیں.... وہ صاف کہہ رہے ہیں۔ ہم کسی کی ضد پر قربان ہو گئے ہیں۔ خدا کے لئے ہماری آئندہ نسلوں کو بچا لو....
ہزارہ کے قائد جناب بابا حیدر زمان نے صاف کہہ دیا ہے کہ اب ان حالات کو دیکھ کر کالا باغ ڈیم ناگزیر ہو گیا ہے۔
ادھر جناب شمس الملک صاحب نے تفصیل سے بتا دیا ہے کہ اگر اب بھی نہ بنایا تو کفران نعمت ہو گا۔ جناب وزیراعظم گیلانی نے بھی بے اختیار کہہ دیا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم بنا ہوتا تو اس قدر تباہی نہ ہوتی۔ دو کروڑ افراد بے گھر ہو گئے اور دس لاکھ مکانات تباہ ہو گئے۔ فصلوں، ذخیروں، باغوں اور مویشیوں کا تو شمار ہی کیا.... چند لوگوں کی ضد پر آپ کب تک بے گناہ لوگوں کو بھینٹ چڑھاتے رہیں گے ع
اب اس سے زیادہ سناٹا اے شام غریباں کیا ہو گا؟
اگر ان کو محض اس کے نام سے چڑ ہے تو نام بدل دیں.... پاکستان ڈیم، جناح ڈیم، رحمن بابا ڈیم، خیبر ڈیم.... یا خوشحالی ڈیم.... کوئی بھی نام رکھ دیں....
نوائے وقت نے ریفرنڈم کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔ اس کے بعد لانگ مارچ کا مرحلہ بھی آ سکتا ہے۔
پل پل سول سوایا ہے
جی مفت دکھاں وچ آیا ہے
ماتم حال تے قال اساڈی
سوز اندوہ دی چال اساڈی
(خواجہ غلام فریدؒ)
(ترجمہ: لحظہ بہ لحظہ اندوہ ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ مفت میں دکھوں کا شکار ہوں میں۔ رونا دھونا غم کرنا اور بے حال ہونا مقدر بنتا جا رہا ہے)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں