خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے؟?

توفیق بٹ ـ 22 جنوری ، 2010
سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس سردار رضا خان نے این آر او کے خلاف دیئے جانے والے تفصیلی فیصلے میں اضافی یا اختلافی نوٹ لکھا ہے کہ اس کے ”اصل فریق“ کے خلاف بھی کارروائی ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کو فیصلہ چونکہ آئین اور قانون کے مطابق کرنا تھا تو ممکن ہے آئین انہیں صرف اتنی ہی اجازت دیتا ہو کہ این آر او سے فائدہ حاصل کرنے والوں کو ہی سزا دی جائے۔ ”اصل فریق“ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہوا تو اس ضمن میں یقیناً کوئی ”آئینی مجبوری“ ہو گی ورنہ عدلیہ جتنی آزاد اور دلیر آج ہے اس سے قبل کبھی نہ تھی۔ عدلیہ کو فیصلے عوام کی خواہشات سے زیادہ آئین اور قانون کو پیش نظر رکھ کر کرنا پڑتے ہیں اس ”آئین اور قانون“ کو سابق باوردی حکمران نے بار بار پاو¿ں تلے روندا اور عدلیہ کی جانب سے اس کا نوٹس اس وقت لیا گیا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ اکتوبر 1999ءکی ”بارہویں شریف“ کو جب غیر آئینی غیر اخلاقی اور غیر انسانی طور پر سیاسی حکومت کی اس نے گردن دبوچی تو ”روایت کے مطابق“ اس وقت کی عدلیہ کے لب سِلے رہے۔ اس کے بعد غیر آئینی اور غیر اخلاقی کارناموں کو ”قومی فریضے“ کی طرح وہ ادا کرتا رہا۔ اس کی ہر غیر آئینی حرکت اس کے معروف ڈرامے ” پاکستان فسٹ“ کے مطابق ہوتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے بارے میں دنیا میں یہ تاثر عام ہونے لگا تھا کہ قانون نام کی کوئی شے سِرے سے یہاں موجود ہی نہیں۔ مجال کیا اس صورت حال پر ”اس وقت کی عدلیہ“ کے کان پر جُوں تک رینگی ہو! ازخود نوٹس لینے کا اختیار عدلیہ کو کل پرسوں نہیں ملا، یہ اختیار برس ہا برس سے اس کے پاس موجود ہے مگر بدقسمتی سے جب بھی کوئی جرنیل ناجائز طور پر ملک کے اقتدار پر قابض ہوا عدلیہ کے از خود اختیار لینے کا نوٹس خواب خرگوش کے مزے لوٹتا رہا۔ اب ضمیر کچھ جاگے ہوئے محسوس ہوتے ہیں تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں کسی جرنیل نے غیر آئینی حرکت کی تو عدلیہ مکمل طور پر سوئی نہیں رہے گی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی موجودگی میں تو تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اقتدار پسند کوئی جرنیل عدلیہ کے ساتھ مل کر سیاسی حکومت ختم یا کمزور کرنے کی سازش کرے۔ جناب افتخار محمد چودھری کی ”جرا¿ت انکار“ نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ اب اس تاریخ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے اس ضمن میں سب سے موثر اور نمایاں کردار خود عدلیہ کا ہی ہو سکتا ہے، سو آج اگر تھوڑی بہت امید پیدا ہوئی ہے کہ آئندہ کوئی جرنیل اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا تو اس کا باعث موجودہ عدلیہ ہے، جو سابق جرنیل حکمران کے اقتدار کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور ظاہر ہے سابقہ جرنیل حکمران کا اقتدار غیر آئینی ہے تو مستقبل میں کسی جرنیل کے غیر آئینی اقدام کو آئینی کیسے قراردیا جا سکے گا۔ خصوصاً ان حالات میں جب میڈیا کی آنکھیں مکمل طور پر کھلی ہیں اور سوائے اللہ کی عدالت کے وہ کسی سے نہیں ڈرتا سو میرے خیال میں عدلیہ کے حوالے سے مختلف قسم کی افواہیں پھیلانے والے آج نہیں تو کل اپنی موت آپ مر جائیں گے!
سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس سردار رضا خان کا ”اضافی یا اختلافی نوٹ“ عوام کے دلوں کی آواز ہے کوئی شک نہیں کہ سابق جرنیل حکمران نے این آر او صرف اور صرف ”ذاتی مفاد“ حاصل کرنے کے لئے جاری کیا اور اس وقت کیا جب سیاسی اخلاقی قانون اور انسانی لحاظ سے وہ بہت کمزور ہو چکا تھا۔ این آر او اسے ”قومی مفاد میں“ جاری کرنا ہوتا تو یہ کام اقتدار کی مسند پر سوار ہونے کے فوراً بعد ہی کر دیتا۔ رسوائے زمانہ سیاست دانوں اور افسروں کو یہ ”تحفہ“ اس نے اس وقت دینے کا فیصلہ کیا جب اپنا اقتدار اسے ڈوبتا دکھائی دینے لگا تھا۔ اقتدار اس کا اس کے باوجود نہ بچ سکا البتہ تاریخ میں اپنا نام لکھوا گیا۔ اس حوالے سے کہ پاکستان کے اقتدار پسند جرنیل اپنی ذات اور اقتدار بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والوں کو ”فرشتہ“ تک قرار دینے سے گریز نہیں کرتے۔ سپریم کورٹ کا شکریہ کہ بذریعہ جرنیل ”فرشتے “ قرار پانے والوں کو عوام کے سامنے جس نے بے نقاب کر کے رکھ دیا اور اس سے بڑھ کر خوشخبری یہ ہوتی گر اس جرنیل حکمران کو بھی گرفت میں لایا جاتا جو پاکستان کو گہری کھائی میں پھینک کر اس تاثر کے ساتھ فرار ہو گیا کہ کوئی مائی کا لال اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا! ملک سے فرار ہونے والے سابقہ جرنیل حکمران نے این آر او اس لئے جاری کیا تھا کہ اگلے نو برس وہ ان ”فرشتوں“ کے کاندھوں پر سوار ہو کر گزارنا چاہتا تھا کل تک ان میں سے اکثر جو اس کے نزدیک اتنے بڑے ”شیطان“ تھے کہ ان کے بارے میں ارشاد فرماتا یہ ملک دشمن ہیں اور انہیں کبھی واپس نہیں آنے دوں گا۔ وہ سمجھتا تھا ملک صرف اسی کے باپ دادا کی جاگیر ہے اور سیاستدان اس کے ”مزارعے “ ہیں۔ سو پانچ برسوں تک وہ ”مسلم لیگی مزارعوں“ کو تگنی کا ناچ نچاتا رہا۔ پھر وہ اس کے نزدیک اس لئے قابل اعتبار نہ رہے کہ اس کے ہر حکم بجانے لانے کے عمل پر انہوں نے بھی لعنت بھیجنا شروع کر دی تھی۔ شاید اس لئے کہ اس کے احکامات انسانی و اخلاقی اقدار کے بھی منافی ہوتے تھے محض این آر او جاری کرنے پر اسے مجرم ٹھہرانا زیادتی ہے۔ اس کے جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی جس روز اصلی اور مکمل حالت میں وجود میں آ گئی مجھے یقین ہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوا سزا سے بچ نہیں سکے گا۔
بدقسمتی سے پاکستان میں سزا کے مستحق ہمیشہ کمزور ہی ٹھہرے یا پھر زیادہ سے زیادہ کم طاقتور.... یہ بھی غنیمت ہے ورنہ ماضی میں طاقتوروں کے قانون کیا جج تک اپنے ہوتے تھے۔ وہ دور بھی ہم نے دیکھا جب عدلیہ کے ارباب اختیار عدالتوں کے حوالے سے نہیں سیاسی جماعتوں یا مختلف پریشر گروپوں کے حوالے سے شناخت رکھتے تھے۔ کسی کو سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا جج کہنے کے بجائے کہا جاتا تھا یہ فلاں فلاں پارٹی یا فلاں فلاں جرنیل کا جج ہے۔ سو عدلیہ کے ایسے ارباب اختیار کسی وزیر شذیر، افسروں یا حکمرانوں کے جرموں پر سزا دینا تو درکنار ان کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھنے کی جرا¿ت بھی نہیں کرتے تھے۔ صد شکر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ آج عدلیہ میں بے وردی حکمرانوں اور سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کرنے کی جرا¿ت پیدا ہوئی ہے تو کل وہ وقت بھی آئے گا جب ” باوردی مجرموں“ پر ہاتھ ڈالنا بھی ناممکن نہیں رہے گا۔ ”ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے محمودوایاز“ اور دنیا ہمارے بارے میں بھی کہہ سکے گی کہ پاکستان میں قانون کی خلاف ورزی کی کسی کو جرا¿ت نہیں ہونی چاہیے خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ تب عدلیہ کے کسی معزز رکن کو کوئی اضافی یا اختلافی نوٹ بھی تحریر نہیں کرنا پڑے گا۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں