36 کروڑ کے سیاسی سینٹری انسپکٹرز!

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 22 فروری ، 2012
سینٹ کے یہ الیکشن وزیراعظم گیلانی کو 36 کروڑ روپے میں پڑے۔ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والی حکومت کیلئے یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے۔ اس طرح حکومت اور اپوزیشن میں صلح بھی پھر ہو گئی ہے۔ آئندہ عام الیکشن میں بھی اس طرح کی مفاہمت کی صورتحال نظر آ رہی ہے۔ جس طرح سینٹ کے الیکشن میں ”دھاندلی“ نہیں ہوئی۔ کرپٹ وزیراعظم کے بقول عام الیکشن میں بھی ”دھاندلی“ نہیں ہو گی۔ روپے پیسے کی سیاست کرنے والے سیاستدانوں کی موجاں ای موجاں۔پہلی بار صدر زرداری کی کامیاب اور حیرت انگیز سیاست کے منظر دیکھے۔ ہر بار اپوزیشن جب حکومت کو گرانے کیلئے بڑھکیں لگاتی ہے۔ فرینڈلی اپوزیشن سے نکل کر سرکاری اپوزیشن میں پھنس جاتی ہے۔ کوئی واقعہ سامنے آتا ہے۔ کتنے میڈیا ملازم اور سیاستدان تاجر کہہ رہے تھے کہ ہم سینٹ کا الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ اس میں سپریم کورٹ اور آئی ایس آئی کو بھی شریک کیا گیا۔ مگر سب کچھ اس طرح تحلیل ہو گیا جس طرح شوگر دودھ میں حل ہو جاتی ہے۔ ان کے پاس شوگر کی فیکٹریاں ہیں۔ 20 ویں ترمیم بھی منظور ہو گئی۔ 18 ویں ترمیم بھی اسی طرح منظور ہوئی تھی۔ وہاں مفادات تھے اب معاملہ نقد و نقدی تھا۔ہم نے کبھی کسی جمہوریت میں ساری سینٹ بلامقابلہ منتخب ہوتے نہیں دیکھی تھی۔ اس میں صدر زرداری کی سیاست کا حصہ وافر ہے۔ نوازشریف کی اپنی باری کی سیاست کا حصہ بھی کم نہیں۔ بلامقابلہ سنیٹرز خواتین کی مخصوص نشستوں سے بھی کمتر لگتے ہیں۔ اب تو مخصوص نشستوں پر ”منتخب“ ہونے والی خواتین زیادہ ”نمائندہ“ لگنے لگی ہیں۔ آئندہ عام الیکشن میں یہی طریقہ انتخاب استعمال کیا جائے گا۔ چنانچہ لوگوں کی یہ بات بھی مٹی میں مل جائے گی کہ ہم ووٹرز ہیں اب اس ملک کی جمہوریت میں ووٹرز نام کی کوئی مخلوق نہیں ہو گی۔ آج کل جلسوں کی مصیبت آئی ہوئی ہے۔ اس سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ سیاستدان ہمیشہ کیلئے وعدے پورا نہ کرنے کے الزام سے بھی بچ جائیں گے۔سنیٹرز کا مرتبہ امریکہ وغیرہ میں ممبر پارلیمنٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔ ہم نے اس کی بے مثال کامیابی کے بعد سنیٹرز کے ”مرتبے“ میں اور ”اضافہ“ کر دیا ہے۔ اب انہیں سیاسی سینٹری انسپکٹر کہا جانا چاہئے۔ سینٹری انسپکٹر جس طرح صفائی کے نام پر صفایا کرتے ہیں سیاستدان گندگی اور بندگی میں فرق مٹا دیتے ہیں۔ سیاسی سینٹری انسپکٹرز بھی ناقابل فراموش کردار ادا کریں گے۔ کابینہ میں سنیٹرز کی تعداد زیادہ ہے۔ جتنے وزیر شذیر وزیراعظم گیلانی سے زیادہ حیثیت اور اختیار رکھتے ہیںوہ سارے کے سارے سنیٹرز ہیں۔ رحمان ملک اس کی سب سے بڑی مثال ہے، وہ بھی بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے۔ اب وزیراعظم گیلانی کی وکالت کے بعد اعتزاز بھی بلامقابلہ سنیٹر بنے ہیں۔ انہیں چیف سینٹری انسپکٹر کا خطاب ملنا چاہئے۔
وزیراعظم گیلانی نے سنیٹرز کو پہلے فنڈز دینے کی کوشش کیوں نہ کی تھی۔ اب تو یہ سیدھی سیدھی سیاسی رشوت ہے۔ سیاسی رشوت رشوت سے زیادہ رشوت ہوتی ہے۔ اسی کا نام کرپشن ہے اور اکا دکا لوگوں کے علاوہ سارے سیاستدان پرلے درجے کے کرپٹ ہیں۔ جو کرپٹ نہیں ہیں وہ بھی تھوڑے بہت کرپٹ ضرور ہوتے ہیں۔ کبھی کسی نے سنا ہے کہ پولیس اہلکار یا افسران اور بعض خاص محکموں کے ملازمین کرپٹ نہیں ہیں۔ آدمی تھانیدار ہو اور کرپٹ نہ ہو۔ آج کل کوئی وزیر شذیر ہو یا صرف منظور نظر سیاستدان ہو تو وہ کرپٹ ضرور ہو گا۔ کسی کو کرپٹ نہ کہیں سیاستدان کہہ دیں۔سینٹ کے انتخاب اور 20 ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے جس طرح کروڑوں روپے ریوڑیوں کی طرح بانٹے گئے۔ لطف آ گیا۔ کاش!یہ کروڑوں روپے کسی منصوبہ بندی کیلئے ہوتے۔ یہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو دیئے جاتے تو لوڈشیڈنگ اتنی نہ ہوتی۔یہ آج کل ایسے ہی ہے جیسے بینظیر انکم سپورٹ کی فرزانہ راجہ ”مستحقین“ میں پیسے بانٹتی ہے۔ اس میں فرزانہ راجہ کا حصہ اتنا ہوتا ہے کہ وہ اب فرزانہ مہاراجہ بن گئی ہے۔ اس میں اور لوگوں کا بھی حصہ ہے۔ عوام بے چارے بھکاری بنا دیئے گئے ہیں۔ بھیک دینے والے اپنے لئے کچھ رکھ لیں تو یہ بھیک نہیں ہوتی۔ ”کمشن یا کرپشن“ ہوتی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ کے نام پر جتنا پیسہ ضائع کیا گیا ہے۔ اس سے کئی ترقیاتی کام کئے جا سکتے تھے کہ لوگ بھکاری بھی نہ بنتے اور انہیں روزگار بھی مل جاتا۔ ترقی و خوشحالی بھی ہوتی۔ اگر روٹی کپڑا مکان کا نعرہ کوئی نظریہ بنتا تو اس ملک کے شہری ذلت اور اذیت کا شکار نہ ہوتے۔ راجہ پرویز اشرف لوڈشیڈنگ کے بہانے ناکارہ رینٹل پاور پلانٹ لانے میں کامیاب ہوئے اور مہاراجہ پرویز اشرف بن گئے۔ پیپلز پارٹی میں رانیاں اور مہارانیاں بھی بہت ہیں۔ اب فرینڈلی اپوزیشن اور مفاہمتی حکومت میں فرق مٹ گیا ہے۔ مشاہد اللہ خان اب بھی سینٹری فنڈز ہڑپ کرنے کے بعد ٹی وی چینل پر حکومت کو گالیاں دیں گے۔ اسحاق ڈار‘ نوازشریف کے رشتہ دار ہیں۔ میں بیشتر سنیٹرز اور ممبران اسمبلی کو نہیں جانتا۔ کچھ لوگوں کو صرف ٹی وی چینل پر ایک دوسرے کو ایک جیسے الزام لگاتے دیکھتا ہوں۔ کچھ کو واقعی جانتا ہوں۔ کچھ کیلئے کبھی دوستی کی خوشبو محسوس کرتا تھا۔ دوستی کی ایک بدبو بھی ہوتی ہے اور یہ دشمنی سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ اے این پی کے زاہد خان اور حاجی عدیل بڑھ بڑھ کر پاکستان کے خلاف بیان دیتے ہیں۔ حاجی عدیل ایک اور حج کر آئیں گے۔ زیادہ ثواب ہو گا۔ طارق عظیم جنرل مشرف کا وزیر شذیر تھا۔ آج کل اپوزیشن لیڈر ہے۔ ایسے وزیر شذیر عمران کے سنیٹر بننے کی تیاری میں ہیں۔ راجہ ظفرالحق جنرل ضیا کے اوپننگ بیٹسمین تھے اب نوازشریف کے وکٹ کیپر ہیں۔ میرے دل میں ان کی بڑی عزت ہے مگر ابھی اُنہیں صرف 35 لاکھ ملے ہیں۔ ظفر علی شاہ سے بھی ایک تعلق ان سے ملے بغیر محسوس ہوتا ہے۔ انہیں پیسے اچھے مل گئے ہیں۔ تقریباً 88 لاکھ ہے۔ پروفیسر ساجد میر کو 83 لاکھ ملے۔ اپنی سیاست کی سربلندی کیلئے یہ کم رقم نہیں ہے۔ جہانگیر بدر میرے یونیورسٹی فیلو دوست ہیں۔ اسے صرف 5 لاکھ .... اپنوں کے ساتھ یہ زیادتی ہے۔مشاہد اللہ خان کو ایک کروڑ 87 لاکھ ملے۔ اب تو وہ ٹی وی چینل پر پیپلز پارٹی کیلئے ہتھ ہولا رکھا کریں گے۔ صفدر عباسی نے صدر زرداری کی مخالفت اسی لئے کی تھی کہ اسے 22 لاکھ مل جائیں۔ آج کل ناہید خان بھی بیروزگار ہے۔ بے چارے فیصل رضا عابدی کو صرف 70 ہزار دیئے گئے۔ وہ جتنا ٹی وی چینلز پر بولتا ہے۔ مجلسوں میں بولتا تو کروڑوں کما لیتا۔ بابر غوری کو کیوں ایک لاکھ 80 ہزار ملے۔ ان کے پاس شپنگ کی وزارت جو ہے۔ ہمارے رحمن ملک کو ایک کروڑ 71 لاکھ مل گئے۔ یہاں بھی اس کی کوئی مہارت کام آ گئی ہو گی۔ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالغفور حیدری ایک کروڑ 27 لاکھ 70 ہزار لے گئے۔ ثابت کر دیا کہ وہ حضرت مولانا کے سچے پیروکار ہیں۔ شاہد بگتی کو 39 لاکھ مل گئے نجانے وہ اکبر بگتی کے کیا لگتے ہیں۔ نیلوفر بختیار کو دو کروڑ ملے۔ وہ بااختیار اور بے اختیار کے درمیان ہے اور دونوں سے بڑھ کر ہے۔ مطلب آپ خود نکال لیں۔ سب سے زیادہ روپے ہمارے گارڈن کالج کے دوست پرویز رشید نے لئے۔ اس کھیل میں اول آنے پر ان کو مبارک ہو۔ آج کل وہ مسلم لیگ ن کی قیادت کا خاص بندہ ہے۔ کبھی وہ بھٹو کا عاشق تھا۔حیرت ہے کہ سنیٹرز کو ایک جیسے پیسے کیوں نہیں ملے۔ یہ تخصیص بلکہ تفریق اچھی نہیں لگی۔ میں پروفیسر خورشید اور پروفیسر ابراہیم کو سلام کرنے کا اعزاز حاصل کروں گا۔ انہوں نے 20 ویں ترمیم کے خلاف ووٹ دیا ا رو یہ فنڈ بھی نہیں لیا تو پھر اس فنڈ کو کیا کہیں گے۔ شکر ہے کہ ترمیم متفقہ طور پر منظور نہیں ہوئی۔ 21 ویں ترمیم آنے والی ہے۔ اس کیلئے بھی کوئی ایسا ہی طریقہ نکل آئے گا۔ سب سے زیادہ خوشی اعتزاز احسن کی ہوئی اسے سیاسی چیف سینٹری انسپکٹر کہنا چاہئے۔ وزیراعظم گیلانی کی وکالت کی یہ فیس بہت زیادہ ہے۔ فنڈز ابھی نہیں ملے مگر سینٹری فنڈز کے مقابلہ میں ”بلامقابلہ کامیابی“ کم نہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں