جارحیت اور مدافعت.....نیرنگ خیال
پروفیسر سید اسراربخاری ـ 22 دسمبر ، 2008
بمبئی حملوں کی تحقیقات جاری ہیں، تاحال پاکستان کو کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کئے گئے، بظاہر بھارت کے شہر ممبئی میں جو کچھ ہوا وہ اْس کا اندرونی معاملہ ہے، جس طرح پاکستان میں میریٹ ہوٹل کا واقعہ ہوا تو پاکستان نے بھارت پر کوئی کیچڑ نہیں اچھالی بلکہ اسے فقط دہشت گردی کا ایک واقعہ قرار دیا، اس نے ایسی کوئی جنگ کی صورتحال پیدا نہ کی، اور نہ ہی بھارت کو نازیبا انداز میں دھمکیاں دیں۔ مگر یہ افسوسناک بات ہے کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر حملے کی دھمکیاں دینے لگا ہے، نہ صرف یہ بلکہ منموہن سے فوجی قیادت نے میٹنگ کی ہے، اور وزیراعظم ہاؤس میں وار روم قائم کر دیا گیا ہے۔اس وقت پاکستان ہر طرح مدافعانہ پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہے۔ بھارت کو کوئی دھمکی دی گئی ہے اور نہ کوئی چیلنج، البتہ اتنا وزیر خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے جتنی کارروائی کی اس کے برابر کارروائی پاکستان کی طرف سے کی جائے گی، شاید پاکستان کے خلاف بھارت کو بعض قوتوں نے جو منصوبہ تیار کر کے دیا ہے، وہ اس پر عملدرآمد کے ممبئی حملوں کو ایکسپلائٹ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان اگرچہ اپنے طور پر الرٹ ہے، مگر جو تیاریوں کا طوفان ہمسایہ ملک میں برپا ہے، اْس سے تو یوں لگتا ہے کہ بھارت پاکستان سے کسی سابقہ پروگرام کے تحت لڑنے کی تیاریاں کر رہا ہے، بہرحال جس نے بھی بھارت کو پاکستان پر حملے کا مشورہ دیا ہے وہ پاکستان ہی کا نہیں بھارت کا بھی دشمن ہے کیونکہ ماہرین کی رائے ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو بھارت کو زیادہ نقصان ہوگا، فوج کا تو کام ہی حکم ملنے پر لڑنا ہے۔ چاہے مناسب ہو یا نامناسب مگر بھارتی نیتاؤں اور خاص طور پر منموہن سنگھ کو سوچ سمجھ سے کام لینا چاہئے اگرچہ وہ خود لالہ جی کی لگام بنے ہوئے ہیں لیکن انہیں اپنے وزیر خارجہ کو لگام دینے کی کوشش کرنی چاہئے،یہ نہ ہو کہ ایک جذباتی وزیر خارجہ پورے بھارت کی لٹیا ڈبو دے، ہمارے وزیر خارجہ نے بجا طور پر کہا کہ ہم جوش سے نہیں ہوش سے کام لے رہے ہیں، اور ہم ہرگز باقی دنیا سے الگ تھلگ نہیں، ہم اقوام متحدہ کے ممبر ہیں، اور ساری عالمی برادری بھارت کی دھمکیاں بھی سن رہی ہے، اور ہماری خاموشی بھی دیکھ رہی ہے، ہمارے خارجہ امور کے وزیر نے زور دے کر کہا کہ ہماری دفاعی تیاری مکمل ہے، مگر ہم وہ زبان اور انداز اختیار نہیں کرنا چاہتے جو میرے بھارتی ہم منصب نے اختیار کر رکھا ہے، اگر بھارت نے وار روم قائم کر لیا ہے، تو انشاء اللہ بھارت WAR کرے گا اور ہم وار کریں گے جو کہ بہت کاری ہوگا۔ ہمارے محب وطن دانشور یہ کہتے رہے کہ یہ تجارتی روابط قائم نہ کرو، یہ سمجھوتہ ایکسپریس مت چلاؤ، دوستی بس چالو نہ کرو، یہ فنکاروں اور دیگر طائفوں کا آنا جانا ترک کر دو، کیونکہ کشمیر کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا، بھارت نے ہمیشہ جارحیت کی پاکستان نے ہمیشہ مدافعت کی ہے اور بالعموم یہ ایک جنگی حکمت ہے کہ مدافعت جارحیت پر غالب آ جاتی ہے‘ جارحیت طاقت کا اظہار ہے‘ مدافعت طاقت کی ذخیرہ اندوزی ہے‘ جوکہ جنگ میں جائز ہے۔ بھارت نے جو زبان اختیار کی اور جتنا واویلا برپا کیا اُس سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ اگر ہم اُسے اپنا ازلی دشمن سمجھتے ہیں تو بے جا نہیں‘ آج جو لوگ دنیا بھر میں دہشت گردی کا رونا روتے ہیں اُن کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ دہشت گردی کی ماں جارحیت ہے‘ اگر کوئی ملک جارحیت نہ کرے تو دہشت گردی پیدا نہ ہو‘ کیونکہ دہشت گردی جبر کا نتیجہ ہے‘ صرف بھارت اور پاکستان ہی کی بات نہیں اگر ہم اپنے ملک میں ہم وطنوں کے ساتھ بھی جارحانہ رویہ رکھیں گے‘ تو یہ جبر ہو گا اور مجبور شخص تنگ آمد بجنگ آمد پر آمادہ ہو جائے گا‘ ہم اندر باہر کہیں بھی جارحیت کے قائل نہیں‘ بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ صنعتی طور آج جتنا آگے نکل چکا ہے وہ بیرونی ممالک کی سرمایہ کاری کے سبب ہے‘ اگر بھارت جنگ کا پنگا لے گا تو اُس کے ہاں موجود بیرونی صنعتی تنصیبات کا کیا بنے گا‘ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جنگ سے بھارت کو پاکستان کی نسبت زیادہ نقصان ہو گا‘ اس لئے وہ صرف مکھرجی کی گیدڑ بھبھکیوں پر گزارہ کر کے پاکستان کو ہراساں کر رہا ہے‘ ان حقائق کو دیکھتے ہوئے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاک بھارت جنگ نہیں ہو گی‘ مدافعت اور جارحیت دو لفظ ہیں‘ اگر اس خطے کو بیرونی قوتوں سے خالی کرنے اور اسے امن کا گہوارہ بنانا ہے‘ دونوں ملکوں کو مدافعت اختیار کر کے جارحیت سے گریز کرنا ہو گا۔ کیا بھارت کے نیتائوں کو اس بات کا شعور نہیں کہ اس وقت افغانستان بیرونی فورسز کے قیام سے پاکستان اور بھارت کا معاشی لحاظ سے بہت نقصان ہو رہا ہے اور دونوں ملک درآمد برآمد اور بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے بند گلی بن جائیں گے‘ پاکستان اپنے حجم کے لحاظ سے اتنا طاقتور ہے کہ اپنی مدافعت کر سکتا ہے‘ رہی بات بھارت کے بڑا حجم کی تو پاکستان نے راس کماری تک پہنچنے کا بندوبست کر لیا ہے‘ بھارتی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں