”استثنیٰ“ ختم کیا جائے۔۔۔!
طیبہ ضیاء ـ 21 جنوری ، 2012
صدر کلنٹن کا کیس نجی نوعیت کا تھا، جسے پاکستان کی سیاست میں ”ذاتی زندگی“ کہا جاتا ہے مگر امریکہ کی عدالت نے کلنٹن کی ذاتی زندگی کو بھی سر عام ننگا کر دیا جبکہ ایک مادر پدر آزاد معاشرے میں گرل فرینڈ کا ایشو معمولی سمجھا جاتا ہے البتہ کرپشن کا جرم ناقابل معافی ہے مگر ریاست کے حاکم پر خواہ فوجداری مقدمہ ہو یا دیوانی، جرم کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ سپر پاور کا صدر بدکردار یا اخلاقی لحاظ سے کمزور ہو‘ امریکہ کا آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس صورتحال میںاستثنیٰ کی شق صدر کے جرم کے سامنے بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ صدر زرداری کے خلاف جرائم کی طویل فہرست کا حوالہ خود امریکی کئی بار دے چکے ہیں بلکہ (مسٹر ٹین پرسنٹ) امریکنوں کا ایجاد کیا ہوا خطاب ہے جبکہ زرداری کے صدر بننے کے بعد امریکی میڈیا نے انہیں (مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ) کا بھی اعزاز دیا۔ زرداری امریکہ کے صدر ہوتے تو ”معاملہ“ کبھی کا آر یا پار لگ چکا ہوتا۔ نبی کریم کے آئین پر بھٹو کے آئین کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے اپنا آئین مرتب کرتے وقت قرآن پاک سے بھی رہنمائی لی جبکہ پاکستان کے آئین میں کرپٹ صدر کواستثنیٰ غیر اسلامی اور غیراخلاقی شق ہے۔ صدر خواہ زرداری ہو یا کوئی زید بکر، جرم معمولی ہو یا سنگین‘ فوجداری ہو یا دیوانی‘ ہیڈ آف سٹیٹ کو استثنیٰ دینے سے انصاف کا ترازو غیر متوازن ہو جاتا ہے لیکن پاکستان کی دنیا، ساری دنیا سے الگ ہے، یہاں لہو لعب کو بھی معمولی اور قتل کو بھی معمولی سمجھا جاتا ہے مگر امریکہ کی سپریم کورٹ کرپٹ اور بے حیاءحکمران کو گھر بھیجنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ کلنٹن کا ذاتی سکینڈل پوری دنیا کے سامنے رسوائی کا باعث بن گیا حالانکہ سپرپاور کے حکمران کو عدالت میں بلاکر ایک عام انسان کی طرح ذلیل کرنا بعض حلقوں میں معیوب سمجھا گیا۔ جب کلنٹن کی اہلیہ اپنے شوہر کے سکینڈل پر خاموش رہنا چاہتی تھی پھر عدلیہ کو سوتن بننے کی کیا ضرورت تھی؟ چونکہ کامیاب ریاستوں کا راز بااصول اور وزنی ”ترازو“ کا مرہون منت ہے لہذا دونوں پلڑوں کا متوازن رکھناضروری ہے۔
امیر المومنین عمر بن خطابؓ مسجد نبوی میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ان کے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا۔ وہ یہ کہہ رہا تھا ”اے عمر! تمہارے لئے جہنم ہے“۔ امیر المومنینؓ نے حاضرین سے فرمایا ”اس آدمی کو میرے پاس لاﺅ“۔ جب وہ آیا تو آپ نے پوچھا ”تم نے یہ بات کیوں کہی؟ وہ کہنے لگا ”آپ اپنے حکام کو مقرر کرتے وقت ان سے حلف تو لیتے ہیں مگر ان کا محاسبہ نہیں کرتے کہ انہوں نے حلف کی پاسداری کی یا نہیں؟ امیر المومنینؓ نے پوچھا ’کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگا ’مصر میں آپ کا جو حاکم ہے، اس نے آپ کی شرائط کو فراموش کر کے ان باتوں کا ارتکاب کیا جن سے آپ نے منع فرمایا ہے‘۔ حاکم مصر کے خلاف شکایات کی تفصیل سننے کے بعد امیر المومنینؓ نے قبیلہ انصار کے دو آدمیوں کو بغرض تفتیش مصر روانہ کیا اور فرمایا کہ حاکم کے متعلق وہاں کے لوگوں سے استفسار کرو اگر اس کے خلاف شکایات درست پائی جائیں تو حاکم کو میرے سامنے پیش کرو‘۔ دونوں انصاری مصر پہنچے تو حاکم مصر کے خلاف شکایات کی رپورٹ درست ثابت ہوئی لہذا دونوں انصاری حاکم کے گھر پہنچے اور اسے باہر آنے کے لئے کہا۔ حاکم باہر آیا تو انصاریوں نے اسے امیر المومنینؓ کا حکم نامہ پہنچایا۔ وہ اسے لے کر امیر المومنین عمر فاروقؓ کی خدمت میں پہنچے۔ امیر المومنینؓ اسے پہچان نہ سکے۔ وہ مصر کا حاکم بن کر جانے سے پہلے کمزور صحت کا مالک تھا مگر مصر کا حاکم بننے کے بعد عیش آرام کی وجہ سے خوب صحت مند اور تازہ دم دکھائی دے رہا تھا۔ امیر المومنین ؓ عمر فاروق نے اس کی خوشحالی اور شباب دیکھ کر کہا ”تیرا ناس ہو! جس بات سے تجھے منع کیا گیا تھا اس کو تو نے گلے لگا لیا مگر جس بات کا حکم دیا گیا تھا اس کو فراموش کر بیٹھا۔ فرائض منصبی کو فراموش کرکے، عیش و آرام کے مزے لوٹتا رہا‘ اللہ کی قسم! میں تجھے عبرتناک سزا دوں گا۔ پھر امیر المومنینؓ نے اون کا پھٹا ہوا لباس‘ ایک لاٹھی اور صدقے میں آئی ہوئی تین سو بکریاں منگوائیں اور حاکم مصر سے فرمایا ’یہ لباس زیب تن کرو‘ میں نے تمہارے باپ کو اس سے بھی ردی لباس پہنے ہوئے دیکھا۔ یہ لاٹھی اٹھاﺅ جو تمہارے باپ کی لاٹھی سے کہیں بہتر ہے اور جا کر بکریاں چراﺅ‘ وہ شدید گرمی کا زمانہ تھا۔ جب حاکم مصر واپس ہوا تو امیرالمومنینؓ نے اسے بلایا اور پوچھا ’جو کچھ میں نے کہا‘ امید ہے تمہیں سمجھ لگ گئی ہو گی‘۔ وہ آپ کے قدموں میں گر گیا اور کہنے لگا‘ یا امیرالمومنینؓ! یہ مشقت مجھ سے نہیں ہو سکتی۔ خدارا! میرے حال پر رحم فرمائیں۔ اب آپ کو وہی رپورٹ پہنچے گی، جو آپ کا حکم ہو گا‘۔
پھر امیر المومنینؓ نے اسے اس کے سابقہ عہدے پر فائز کر دیا۔ اس کے بعد وہ آدمی مصر کا مثالی حاکم ہو گیا۔۔۔! کیوں کہ اس کا حاکم عمر فاروقؓ تھا جو استثنیٰ پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ جس کا ایمان اور انصاف اسے یہی سکھاتا تھا کہ اللہ و رسول کے آئین اور قانون سے بغاوت کا نتیجہ موت ہے۔ اصلاح کی مہلت بھی اسے دی جاتی تھی جو اپنے جرم پر ڈھٹائی کا ثبوت نہ دے بصورت دیگر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا تھا۔ نبی کریم کو استثنیٰ حاصل رہا اور نہ خلفاءراشدین سنت محمدی سے بغاوت کی جرات کر سکے۔ فوجداری مقدمہ اور دیوانی مقدمہ‘ کے ہیر پھیر میں الجھانے سے صدر زرداری کے مقدمات گول نہیں کئے جا سکتے، سپریم کورٹ کو ٹھوس فیصلہ سنانا ہو گا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے گزارش ہے کہ وہ آئین کی اس غیر اسلامی و غیر اخلاقی شق ”استثنیٰ“ المعروف ”کھلی چھٹی“ کو آئین سے خارج کریں تاکہ کرپٹ حکمرانوں کے تحفظ کے تمام راستے بند کئے جا سکیں۔ اسلام میں جرم پر ڈھٹائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی قانون کرپٹ حکمرانوں کی حمایت کر سکتا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں