شاندار جلسہ خواتین کراچی میں ”مردانہ“ بلوچستان
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 21 فروری ، 2012
میں بلوچستان کے بارے میں اگلے کالم میں کچھ سنسنی خیز تہلکہ خیز اور معنی خیز انکشافات کروں گا۔ کچھ مسئلہ ہوتا ہے۔ اسے سازش کے ذریعے ایشو بنا دیا جاتا ہے۔ اب تو میرے سامنے الطاف حسین کی وہ تقریر ہے جو خواتین کے بہت بڑے بلکہ سب سے بڑے خواتین جلسے میں کی ہے۔ و ہ خواتین کے سامنے بلوچستان کے حقوق کی بات کر رہے تھے۔ میں اعلانیہ اعتراف کرتا ہوں کہ الطاف حسین اپنی چند باتوں کی وجہ سے مجھے پسند ہے۔ میں نے پہلی بار لاہور میں الطاف بھائی کیلئے محبت کا پروگرام کیا تھا۔ قومی یکجہتی کی محبت کا پیغام پورے پاکستان کیلئے ہے۔ مجھے اعتراف ہے الطاف حسین کا اور مجھے اختلاف بھی الطاف حسین سے ہے۔ ہمارے میڈیا کے لوگ کسی کا صرف اعتراف کرتے ہیں اور کسی سے صرف اختلاف کرتے ہیں۔ خوشامد اور خوش آمدید بیک وقت کرتے ہیں۔
اسے تسلیم کرو کہ صرف خواتین کا اتنا بڑا جلسہ پاکستان میں نہیں ہوا۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی بات الطاف حسین نے کی۔ اس طرح دوسرا کوئی سیاستدان نہیں کرتا۔ موسیقی کا انتظام بھی تھا۔ یہ ”انتظام“ تحریک انصاف نے شروع کیا۔ ابرار الحق وغیرہ کو اسی لئے ساتھ ملایا ہے۔ یہ ترانے پاکستان کے حوالے سے ہوں۔ حمیت کے حوالے سے بھی ہوں۔
ایم کیو ایم کی طرف سے خواتین کے جلسے میں پنجابی ترانوں کا مزا آ گیا۔ ”بسم اللہ کروں“ بے چارے بابر اعوان نے بھی یہی ترانہ پڑھا تھا۔ اس پر توہین عدالت لگ گئی۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے توہین کیلئے نہیں تفریح کیلئے یہ بول پڑھے تھے۔ توہین عدالت کی توہین کا فیصلہ کون کرے گا۔ یہاں ایم کیو ایم کی خواتین نے پارٹی پرچم کے رنگ کی چوڑیاں اور لباس پہن رکھا تھا۔ اچھا لگ رہا تھا مگر بہت اچھا منظر ہوتا کہ کچھ خواتین نے پاکستان کے پرچم کے رنگ کی چوڑیاں اور لباس پہنا ہوتا۔ خوبصورت اور چنچل گلوکارہ شازیہ خشک نے اپنے گیتوں سے جلسہ گاہ میں سماں باندھ دیا۔ میرے خیال میں شازیہ خشک اردو سپیکنگ نہیں ہے؟ اردو سپیکنگ تو میں بھی ہوں کہ یہ میری قومی زبان ہے۔ ہم پنجابی تو خط بھی اردو میں لکھتے تھے۔ تقریر ہمیشہ اکثر اردو میں کی جاتی ہے۔ اب پنجابی کا رواج چلا ہے اور میں خوش ہوں کہ پنجابی ہوں اور پاکستانی ہوں۔ میں نے اپنے پہلے کسی کالم میں لکھا تھا کہ اب ہمیں کچھ کچھ پنجابی بننا ہو گا اور یہ بات پاکستان کے حق میں ہو گی اور دوسرے صوبوں سے یکجہتی کیلئے بھی ضروری ہے۔ اب ایم کیو ایم میں چاروں صوبوں کے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ افتخار رندھاوا ہمارے پہلے ملنے والوں میں سے ہے۔ اب اسے ہماری ضرورت نہیں رہی۔ ویسے اس کے پاس وقت بھی نہیں۔ مگر ہم پنجاب میں ایم کیو ایم کیلئے اس کی خدمات اور قربانیوں کے مداح ہیں۔ راو خالد ایک نوجوان ملتان میں ہے۔ وہ ایم کیو ایم کیلئے عشق رکھتا ہے۔ ہفتے میں دو ایک بار اس سے ٹیلیفون پر بات ہو جاتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں ایم کیو ایم نے بہت کام کیا۔ ۔ پنجاب میں کراچی سے سیف یار خان نے بھی بہت کام کیا ہے۔ پنجابی لوگوں میں زاہد ملک کا نام قابل ذکر ہے۔ سابق ایم این اے طاہرہ آصف کیلئے ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ بہت سرگرم ہیں۔ کراچی سے خوش بخت سے بہت پرانی شناسائی ہے۔ کمپیئرنگ میں ان کا ایک نام ہے۔ نسرین جلیل کشور زہرا اور نسیم اختر‘ نسیم کیلئے مجھے معلوم نہیں کہ وہ خاتون ہیں۔ ایم کیو ایم میں بہت سے لوگ کام کرنے والے ہیں۔ مصطفی کمال بابر غوری فیصل سبزواری فوزیہ اظہار رضا ہارون کے علاوہ بہت لوگ سٹیج پر تھے۔ وہ خواتین جیسے لگ رہے تھے۔ ماحول کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ بہت بولنے والی خواتین الطاف حسین کے کہنے پر مکمل ڈسپلن یعنی خاموشی میں چلی گئیں۔ فاروق ستار جیسا معقول اور غیر جذباتی آدمی بھی جھومے بغیر نہ رہ سکا۔ جلسے گاہ کے باہر کھانے پینے کے علاوہ مہندی کا انتظام بھی تھا۔
الطاف حسین نے خواتین کے جلسے میں خواتین کیلئے بھی بات کی۔ شہید ہونے والوں کی بیٹیوں بہنوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ عورت کے بااختیار ہونے کی بات کی۔ حقوق نسواں کے حوالے سے یہ بہت اظہار ہے کہ ہم نے عورت کو بے اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک بے اختیاری تو اختیاری اور اضطراری ہے۔ ”مینوں لگ گئی بے اختیاری“ ہمارے بااختیار لوگوں کے پاس یہ کیفیت نہیں۔ اسی لئے وہ ظالم ہیں اور صرف حاکم ہیں۔ حاکم ظالم نہ بنیں تو انہیں حاکم ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ حاکم ہونے اور بااختیار ہونے کا ایک کمپلیکس بھی ہے اور یہ ہمارے نااہل اور کرپٹ وزیراعظم گیلانی میں بہت ہے۔ آصف ہاشمی اس کے سب سے بڑے وعدہ معاف گواہ ہیں۔ ایسے حکمرانوں سے محکوم اچھے ہیں کہ وہ احساس کمتری کا شکار تو نہیں۔ دوسری بے اختیاری مجبوری ہے اور یہ خطرناک ہے اور بیماری زیادہ تر عورتیں اس کا شکار ہیں۔ عورتوں کو ایسے شکاریوں سے بچانے کی ضرورت ہے جو وڈیرے ہیں سردار ہیں اور حکمران ہیں۔ عورت کو صرف اجازت دی جائے کہ وہ اپنا سچا کردار ادا کر سکیں تو یہ ملک جنت بن جائے۔ وہ گھر کو جنت بنا سکتی ہے تو ملک بھی ہمارا گھر ہے۔ مگر ہم اسے پرایا گھر سمجھتے ہیں۔ یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ وہ عورتیں کتنی ہیں جو گھر کو جنت بنا دیتی ہیں۔ ہم صرف اتنا کریں کہ عورت کی عزت کریں۔ اس کے احترام کیلئے کوئی اہتمام کریں۔ کتنی زیادہ عورتیں اکٹھی کسی نے نہ دیکھی ہوں گی۔ انہوں نے مل کر قومی ترانہ پڑھا۔ پاکستانیت کی خوشبو پھیلتی چلی گئی۔ یہ ایک انوکھا واقعہ ہے کہ مرد گھر بیٹھے رہے اور خواتین جلسہ گاہ میں موجود تھیں۔ کراچی کے ہی ایک دوست شاعر حسن اکبر کمال کا ایک شعر کراچی کی ساری محترم خواتین کی خدمت میں عرض ہے
کیا دن تھے کمال اُس کو ستاتی تھی شب و روز
خوشبو کی طرح گھر میں بکھر جانے کی خواہشیں
ایک بات بہت خوب کی الطاف حسین نے کہ سیاسی مخالفین کیلئے بہنیں بیٹیاں ہی کافی ہیں اور یہ ایک کھلم کھلا سچ ہے۔ حزب اختلاف میں پیپلز پارٹی سے زیادہ مسلم لیگ ق کی عورتوں کی کارکردگی کا ہر شخص اعتراف کرتا ہے۔ اب ہر اسمبلی سے خواتین ممبران کی بازگشت میڈیا پر سنائی دیتی ہے۔ موروثی سیاست میں خواتین بھی آگے آ رہی ہیں۔ الطاف بھائی نے اس کی مخالفت کی۔ صحیح معنوں میں عام عورت بااختیار ہو تو یہ مضبوط پاکستان کی ضمانت ہو گی۔
خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہوئے الطاف حسین نے بلوچستان کو حقوق دلانے کی بات کی۔ مجھے معلوم نہیں کہ بلوچوں کے حقوق دوسرے صوبوں کے حقوق سے کتنے مختلف ہیں۔ سندھی پنجابی اور سرحدی بھی اتنے ہی مظلوم اور محروم ہیں۔ کراچی کی خواتین کے سب سے بڑے جلسے میں بلوچستان کے مردوں کے حقوق کی بات کسی اور موقعے پر کی جاتی تو زیادہ موثر ہوتا۔ الطاف بھائی کو یاد ہو گا کہ ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ بلوچستان میں زیادتی ہوئی تھی تو انہوں نے بہت احتجاج کیا تھا۔ اس کا کیا بنا۔ اب احتجاج کس کے خلاف ہے؟ یہ بات تو درست ہے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں سے بلوچستان علیحدگی کے دہانے پر آ کھڑا ہوا ہے۔ مشرقی پاکستان کو الگ امریکہ نے کیا اور اگر بھارت فوجی مداخلت نہ کرتا تو کبھی یہ واقعہ نہ ہوتا۔ بلوچستان میں بھی یہ صورتحال ہے۔ چند امریکی اور بھارتی بلوچستان میں شرپسندی پھیلا رہے ہیں۔ ان کے ایجنٹ علاقے میں ان کا کام کر رہے ہیں۔ کچھ کرے گا تو امریکہ اسرائیل یورپ اور بھارت کرے گا۔ دشمن ملکوں کو غدار صرف پاکستان سے میسر آتے ہیں؟ میں حیران ہوں کہ پھر ہم نے ایٹم بم کس کیلئے بنایا ہے۔
ایک غیر متنازعہ علاقہ بلوچستان کیلئے امریکہ کی قرارداد غنڈہ گردی ہے۔ کسی کو کشمیر میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ الطاف حسین اسی جوش سے امریکی اور بھارتی اور اب یورپی اور اسرائیلی حکمرانوں کیلئے بھی بات کریں۔ عالمی جنگ کا خطرہ کسی کو نظر نہیں آتا اور بلوچستان میں گڑبڑ کے بعد ایٹم بم چلانے سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ یہ بیان ہی دیا جائے تو اسرائیل اور بھارت کا تماشہ ساری دنیا دیکھے گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں