قیدی جینز کے
رفیق ڈوگر ـ 20 جون ، 2009
ایک وقت تھا کہ بزرگ دعا دیا کرتے تھے ’’خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے‘‘ اب ایسا وقت ہے کہ ہر کوئی اپنے پیاروں کے لئے دعا کرنے لگا ہے ’’خدا محفوظ رکھے ہر انسان سے‘‘ انسانوں نے بلائوں کا روپ رنگ کیسے اختیار کر لیا ہے؟ غور کریں اور ایک دو واقعات سن لیں۔
بائیس سال پہلے میں نے اس اندلس کی تلاش کا پروگرام بنایا جس کی خودکشی کے اسباب اہل فکر و نظر صدیوں سے تلاش کرتے آئے ہیں وہ مسلم اندلس جس کا اس وقت کی دنیا میں کسی بھی حوالے سے کہیں بھی کوئی ثانی نہیں تھا بہت پڑھا بہت پرکھ پڑچول کی اور اس اندلس کے آثار اور درودیوار سے اس کی خودکشی کی کہانی سننے چل پڑا۔ اکیلا ہی کوئی جان نہ پہچان‘ نہ کوئی ویزہ لگوایا‘ ٹکٹ خریدا اور سامان باندھ لیا‘ جنرل قمر علی مرزا (مرحوم) تھوڑے سے کیا بہت سے حیران رہ گئے ’’یہ چٹ جیب میں رکھ لو میں نے لندن ٹیلیفون کر دیا ہے تمہارا قیام وہیں ہو گا اپنا گھر ہے ایڈریس اور ٹیلیفون نمبر اس چٹ میں ہیں گنوا نہ دینا‘‘ لندن اترے تو پوچھا گیا ویزہ کیوں نہیں لگوا کر آئے ’’آپ جب برصغیر گئے تھے تو ویزہ لگواکر گئے تھے؟ ‘‘ بات لمبی ہے وہ مسکرایا اور ایک ماہ قیام کا ویزہ لگا دیا۔ جنرل صاحب کے عزیزوں کے ہاں اپنے گھر سے بھی زیادہ آرام و سکون ہوتا تھا رات کو ان کے دوست احباب آ جاتے تھے اور واقعات و حادثات کا ذکر چل نکلتا تھا انہی میں سے ایک صاحب نے بتایا کہ سال رفتہ وہ پاکستان گیا تو پنڈی چکوال کے گردونواح میں عزیز واقارب نے خوب آئو بھگت کی سب سے شاندار دعوت کا اہتمام ان کے عزیزوں کے گائوں کے ایک بڑے چودھری نے کیا ’’اپنے گائوں کا داماد آیا ہے‘‘۔ اس نے بتایا کہ جب وہ پاکستان سے واپس لندن کے لئے سامان باندھ رہے تھے تو وہی ’’اپنے گائوں کا داماد آیا ہے‘‘ والے چودھری بھی وداعی ملاقات کے لئے آئے۔ ان کے کوئی اقارب لندن میں ہوتے تھے ’’آپ کو زحمت نہ ہو تو یہ چپلوں کے دو جوڑے لیتے جائو ان کے لئے انہیں بڑا شوق ہے چکوال کے بنے چپلوں کا ‘‘ داماد نے سسرالی گائوں کے چودھری صاحب کے دئیے ان کے اقارب کے لئے چپلوں کے دو جوڑے سامان میں رکھ لئے اور لندن واپس پہنچ گئے پاکستان کے سفر اور میل ملاوٹ کی تھکاوٹ اتار کر ایک شام چپلوں کے وہ جوڑے نکالے اور ان سسرالی چودھری کے اقارب کے ہاں جانے کے لئے تیار ہو گئے ان دنوں لندن پولیس میں ان کا اپنا ایک اقارب اعلیٰ عہدے پر ہوتا تھا وہ آیا ہوا تھا چپلوں کے جوڑے دیکھ کر پریشان ہو گیا‘ چھری منگوائی ان کے تلوے کھلوائے تو نہایت ہی مہارت سے خانے بناکر ان میں چرس بھر دی گئی تھی۔ لندن ائرپورٹ حکام کے اپنے ایک محکمہ کے اعلیٰ ملازم کے احترام کے سبب وہ صاحب اپنے سسرالی چودھری صاحب کی گائوں کے داماد سے محبت کے عذاب سے بچ گیا تھا۔
اس سے بھی پرانی بات ہے ایک دفعہ میں ملک پور آیا تو نانا جی نے ماموں سے کہا ’’جائو رفیق کو شالامار کا میلہ دکھلا لائو‘‘ میلے میں ان کے ایک تعلق والے میاں صاحب مل گئے ’’ہمارا بھانجا آیا ہے جا نہیں سکتا‘‘ باغبانپورہ میں میاں صاحب یا ہمارے ماموں میاں نے بہت بھانجا نوازی کی۔ ان دنوں میں گورنمنٹ کالج لائل پور میں یا زیر سائنس ہوتا تھا۔ گائوں آیا تو وہی باغبانپورہ والے میاں ماموں اپنے چند ملازموں کے ہمراہ لاہور سے وہاں گئے ہوئے تھے غیرآباد زمین کو آباد کرنے کے لئے نیا نیا کنواں بنوایا تھا۔ میاں ماموں اپنے چند ملازموں کے ساتھ وہیں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے اور اردگرد کے دیہات سے دودھ کا کھوا خرید کر کراچی بھیجا کرتے تھے۔ کراچی والوں کی بدقسمتی ایک صبح سویرے گائے کے ایک بچے نے اس چوبچے سے پانی پی لیا جہاں میاں ماموں کے ملازم کھوئے کے کنستر وغیرہ دھویا کرتے تھے انہیں کنواں چلاکر وہ پانی کھیتوں کی ہریالی میں اضافہ کرنے کا اس گائے کے بچے نے موقعہ ہی نہیں دیا تھا اور اس جرم میں وہیں دم توڑ گیا تھا۔ ماما میاں اور کوئی شبہ کرے؟ معلوم ہوا کہ کنستروں میں نیچے چرس بھر کر اُوپر کھویا بھر دیتے تھے اور گائے کے بچے کو اس چرس کا نشہ چڑھ گیا تھا جن دیہات سے وہ کھویا لاتے تھے وہاں میانوالی کی طرف سے چرس وافر آیا کرتی تھی۔ ماموں میاں نے قہقہ لگایا اور سامان باندھ کر لاہور واپس آ گئے۔ اگر میں ان اپنے ماموں میاں صاحب کا نام لکھ دوں تو مانے گا کوئی؟ اور اگر اس زمانے میں ہمارے ہاں چھاپہ پڑ جاتا تو کوئی مانتا کہ اس دھندے میں ہمارے اجداد کا کوئی ہاتھ ہی نہیں؟ وہ جو اعتماد کے اندھے پن میں شبہ کرنے کو بھی گناہ عظیم سمجھتے تھے۔
میرے لندن کے لئے سامان سفر باندھنے کی افواہ پر مصطفی احمد نے سوئی گیس کارپوریشن کے خرچ پر ہدایت کی تھی ’’اگر کوئی منت بھی کرے کہ میرے فلاں عزیز کے لئے یہ دوائی لے جائو تو بھی نہ لے جانا اور کسی عورت مرد ہمسفر کے لئے ہمدردی کے عذاب میں نہ پھنس جانا کوئی منت بھی کرے کہ یہ میرا سامان ذرا پکڑ لو تو ہاتھ تک نہ لگانا‘‘
میاں منظر بشیر مرحوم ہر بات کھل کر بتا دیا کرتے تھے۔ چرس سمگلنگ کی سزا کاٹ کر واپس آئے تو ایک روز عادت سے مجبور میں نے پوچھ لیا ’’ہوا کیا تھا؟‘‘ میاں جانے یا اس کا خدا جانے جواب تھا ’’ایک ہمسفر نے اپنا سامان ہماری ٹرالی پر رکھ دیا تھا اور اس میں چرس تھی‘‘ اس شہر اور ملک کے ایک معزز ترین خاندان کا میاںمنظر بشیر ناکردہ گناہ کی بھاری سزا اور عذاب کاٹ آیا تھا۔ میاں صاحب سے اپنی جان پہچان کے حوالے سے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اس سزا اور عذاب کا ہرگز ہرگز حقدار نہیں تھا۔
انگلینڈ مقیم ایک ہم جماعت ملنے آئے تو ان کے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا اس کی شرافت دیانت خاندانی مقام و مرتبہ کی تعریف و توصیف کے بعد بتایا کہ انہوں نے اس کے ساتھ شراکت بزنس شروع کیا ہے سرمایہ ان کا یعنی ہمارے دوست کا ہے مال ان کے دیانتدار دوست کے نام پر بک کروایا گیا ہے بیچے گا وہ اور منافع ففٹی ففٹی کر لیا کریں گے۔ ہم نے ان نوجوان کی خاندانی جامع تلاشی لی اور اس کے جانے کے بعد اپنے دوست سے کہا ’’تمہاری رقم ماری گئی‘‘ اس نے کافی بُرا مانا۔ اگلے سال آیا تو حیرانی سے پوچھا ’’تمہیں وہ ’’الہام کیسے ہو گیا تھا؟‘‘ عرض کیا انسان کوئی بھی ہو اپنے خاندانی جینز سے بغاوت نہیں کر سکتا۔ میاں منظر بشیر بھی اپنے خاندانی جینز سے بغاوت نہیں کر سکتا تھا۔ تو پھر کیا ہیں اسباب انسان کے جن بن جانے کے؟ جس بھی کسی کے جینز میں کوئی خرابی نہیں وہ گر سکتا ہے انسانیت کے مقام بلند سے؟ مگر چھوڑیں اس جینز کی قید کا جھگڑا۔ آپ کے صدر مکرم کا من موہن سنگھ کے ساتھ مسکراہٹ تبادلہ کیسا رہا ؟۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
نابینا ہتھنی سے مراد وزارت خزانہ تھی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں