”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 20 جنوری ، 2012
شعیب بن عزیز کا یہ لازوال مصرع وزیراعظم گیلانی پر صادق آتا ہے مگر آج میں اس صورتحال کے لئے کوئی اور بات کر رہا ہوں۔ کہاں کہاں یہ مصرع ہمیں یاد آتا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبل از وقت الیکشن چاہتے ہو تو ہم سے بات کرو۔ پہلے یہ بات چودھری شجاعت نے کی تھی کہ اگر نواز شریف ہمارے پاس آ جاتے تو ملک کے صدر ہوتے۔ اس کا جواب پرویز رشید، رانا ثناءاللہ وغیرہ نے دیا کہ ہم ایسی صدارت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ نواز شریف اس کے بعد زرداری صاحب کی صدارت کو جمہوریت سمجھ کر سپورٹ کرتے رہے۔ اب وہ اس صدارت کو جمہوریت کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جمہوریت ہے کیا؟ اب نواز شریف نے چودھری صاحب کو کہا ہے کہ گول مول بات نہ کرو۔ حیرت ہے کہ اتنی سیدھی بات نواز شریف کو سمجھ نہیں آئی۔ وہ اس بات کا مطلب مجید نظامی سے پوچھ لیں جو تمام مسلم لیگوں کو متحد کرنے کی آرزو دل میں لئے پھرتے ہیں۔ چودھری صاحب نے ہمیشہ صلح صفائی کی بات کی ہے۔ اب بھی وہ حکومت اور فوج، حکومت اور عدلیہ کے حوالے سے ایسا رویہ اپنانے کی بات کرتے ہیں جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ ایم این اے شیخ وقاص اکرم نے قومی مکالمے کے لئے چودھری شجاعت کی بات سننے پر زور دیا ہے۔ یہ بات صدر زرداری کے لئے بھی غور کرنے کی ہے اور نوازشریف کے سوچنے کی ہے۔ عمران خان کا دھڑکا نوازشریف کے دل کی دھڑکن میں سمایا ہوا ہے۔ تو وہ بالآخر پیپلز پارٹی کی طرف رجوع کریں گے۔ یہ دونوں کے لئے خطرناک ہو گا۔ اب پیپلز پارٹی کے ساتھ ق لیگ بھی ہے۔ اس حوالے سے نوازشریف کیا کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ ن لیگ حکومتی اتحاد بنائے تو یہ جائز ہے۔ ایک خبر یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ وزیراعظم گیلانی کا جانا تو ٹھہر گیا ہے۔ کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ چودھری پرویز الٰہی کا نام بھی وزیراعظم کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ یہ بات مسلم لیگ ن کے لئے بہرحال پریشانی کا باعث ہو گی۔ اور اگر یہ ہو جاتا ہے اور لوگوں کے مسائل کی طرف بھی حکومت کی توجہ مبذول ہوتی ہے بجلی اور گیس کا مسئلہ کسی طرح حل کر دیا گیا خواہ یہ عارضی طور پر ہی ہوا تو اس کا فائدہ کس کو ہو گا اور نقصان کس کو پہنچے گا۔ آخر کار ن لیگ تحریک انصاف کی طرف جائے گی اور اگر جائے گی تو کن شرائط پر جائے گی۔ پارٹی کا لیڈر کون ہو گا؟
رحمان ملک نے ایک ہوائی چھوڑی ہے کہ میرے پاس نوازشریف کے لئے کچھ ایسی باتیں ہیں کہ اگر منظرعام پر لے آﺅں تو وہ نااہل ہو جائیں گے یہ بات تو رحمان ملک کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔ وہ یہ بات نہیں بتاتے اور وہ نہیں بتا سکیں گے تو کیا وہ خود نااہل نہ ہوں گے؟ ان کی خاموشی اس ضمن میں اب غداری کے مترادف ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اس سے زیادہ سیریس ہے کہ چودھری نثار مجھے اکساتے رہتے ہیں کہ میں نوازشریف کے خلاف یہ باتیں دستاویزی شکل میں قومی اسمبلی کے اندر لے کے آﺅں۔ اتنا تو ہمیں معلوم ہے کہ چودھری نثار نوازشریف کی بے جا نوازشوں کے باوجود اندر سے نوازشریف کے خلاف ہیں۔ وہ یہ کوشش کرتے رہتے ہیں کہ نوازشریف پر ننگی اور گندی تنقید کی بوچھاڑ ہوتی رہے۔ وہ بظاہر نوازشریف کے حق میں بات کرتے ہیں مگر وہ حق ناحق میں بھی سیاست یعنی منافقت کرتے ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن سے مراد مسلم لیگ نثار سمجھتا ہے۔ کئی لوگوں کو خواہ مخواہ اکسایا کہ وہ نوازشریف کے لئے ایسی ویسی بات کریں۔ جن دنوں ایم کیو ایم کا جھگڑا پیپلز پارٹی کے ساتھ تھا تو خواہ مخواہ ایم کیو ایم کو نشانہ بنایا گیا۔ نوازشریف نے آزادکشمیر میں شائستگی کے ساتھ مگر غیر ضروری بات کی۔ دوسرے دن قومی اسمبلی کے باہر چودھری نثار نے الطاف حسین پر سوچ سمجھ کر ذاتی تنقید کی۔ اس کی مطلقہ بیوی کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے جواب میں ایم کیو ایم نے جو کچھ کہا اس سے دکھ ہوا۔ بات گھروں کے اندر لے جانے کے پیچھے کیا راز ہے۔ کیا نوازشریف نے چودھری نثار سے پوچھا کہ الطاف حسین کے خلاف یہ بات کیوں کی گئی ہے؟ یہ ایک منصوبہ بندی ہے جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے تھا۔ فیصل آباد کے بڑے جلسے میں خواہ مخواہ عمران خان پر تنقید کی گئی۔ ویسے آجکل خود عمران خان اپنے اوپر تنقید کی دعوت عام دے رہا ہے۔ کسی دوسرے کے خلاف بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے۔ چودھری نثار نے کہا کہ اسلام آباد میں عمران خان کا عالیشان گھر تین سو کنال پر واقع ہے۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے لوگ رائے ونڈ محلات پر تنقید کرنے لگے ہیں۔ سیاست دانوں اور حکمرانوں کو عام چھوٹے گھروں میں رہنا چاہئے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی مثالیں ہیں۔ چودھری نثار نے مخالفین کو موقع دیا کہ وہ ان کی بجائے نوازشریف کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ رحمان ملک چودھری نثار کے اکسانے پر اتنی سی بات کر سکتے تھے جو انہوں نے کر دی ہے۔ سیاست میں ادھوری باتیں کرنے کا بڑا پرانا رواج ہے۔ بات پوری کرنا چاہئے اور سچی بات کرنا چاہئے۔ مگر ہم سیاست کہتے ہی جھوٹ بولنے کو ہیں۔
چودھری نثار نے وزیراعظم گیلانی کے شعر پڑھنے کے بعد شعر پڑھا۔ وزیراعظم گیلانی کا شعر بے موقع تھا۔ اس موقعے پر اس شعر کا کیا مطلب ہے۔ ویسے بھی مطلب جاننے کی وزیراعظم کو کیا ضرورت ہے۔ اُسے تو اس کے بیانات کا مطلب دوسرے سمجھاتے ہیں اور وہ معافی مانگ لیتے ہیں۔ وزیراعظم گیلانی نے مشہور ادبی شخصیت نامور شاعر احمد ندیم قاسمی کا شعر سنایا
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
سنگ زنی سے مراد بیان بازی ہے تو وہ وزیراعظم گیلانی نے بھی بہت کی ہے۔ بیان بازی اور الزام بازی ایک ہی اظہار ہے۔ یہ اعزاز کے ساتھ دفنانے کی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ یہ سیاسی موت ہے تو کیا اس کا وقت وزیراعظم گیلانی کے لئے آ گیا ہے۔ مصنوعی سیاسی شہادت بھی اس کے نصیب میں نہیں ہے۔ اس کا مقدر بے موت سیاسی موت مرنا ہے۔ اس کے جواب میں چودھری نثار نے برمحل شعر پڑھا۔ وزیراعظم گیلانی نے بیڈ گورننس کے جو نادر نمونے پچھلے چار برسوں میں پیش کئے ہیں تو اس کا نتیجہ ناکامی کے علاوہ بدنامی بھی ہے۔ پسپائی بھی رسوائی بھی۔ جنرل مشرف سے حلف لیکر عدالت میں ایک ملزم کے طور پر پیش ہونے تک تاریک تاریخ ہے جس پر ہم سب شرمندہ ہیں
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے ”سیاست“ کے آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی
چودھری نثار تک یہ شعر انوکھی تخلیقی خوشبو والے شاعر شعیب بن عزیز کے کسی دوست نے پہنچایا ہو گا۔ اب یہ شعر اکثر لوگوں کو یاد ہے۔ اپنے دل کے قبرستان میں زندہ تر شاعر کو خود شعیب نے بڑے اعزاز کے ساتھ دفنایا ہے۔ اس شاعر پر سنگ زنی بھی اس نے خود بلکہ خودبخود کی ہے۔ سرکاری منصب کی خواہش میں اس نے اپنے دل کی آرزو کو زندہ نہیں چھوڑا اور مرنے بھی نہیں دیا۔ وہ افسر بھی جینوئن ہے۔ وہ ریٹائر ہے تو بھی افسر ہے۔ افسر تھا تو ریٹائر لگتا تھا۔ اس شعر پر وزیراعظم گیلانی اور سارے وزیر شذیر غور کریں۔ چودھری نثار نے شعر پڑھا ہے تو اس پر غور بھی کرے۔ زندگی اور شرمندگی ہم معانی ہو جائیں گے۔
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں