افسرانہ توڑ پھوڑ‘ جوڑ توڑ…حسب توفیق

توفیق بٹ ـ 20 جنوری ، 2009
وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی کا قومی سلامتی کے امور کے مشیر کو برطرف کرنے کے بعد دوسرا بڑا دھماکہ یہ قرار دیا جا رہا ہے کہ گزشتہ ہفتے اُنہوں نے ایک درجن کے لگ بھگ وفاقی سیکرٹریوں کے محکمے تبدیل کر دئیے۔ اس سے بھی بڑا دھماکہ ہوتا اگر محکمہ کے بجائے وہ سیکرٹریز تبدیل کرتے۔ چلئے فی الحال اتنا بھی کافی ہے کہ اُنہیں سیکرٹریوں کے محکمے تبدیل کرنے کی اجازت مل گئی۔ ممکن ہے یہ اختیارات کی پہلی قسط ہو اور اگلے مرحلے میں اُنہیں کسی سیکرٹری یا اعلیٰ افسر کو او ایس ڈی بنانے یا کسی او ایس ڈی کو اعلیٰ عہدے پر تعینات کرنے کے اختیارات بھی مل جائیں۔ اب یہ اُمید بھی بر آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کسی روز اپنے پرنسپل سیکرٹری کو تبدیل کرنے کے اختیارات بھی اُن کے پاس ہوں گے کاش وہ عوام کی تکلیفیں اور پریشانیاں دور کرنے کے اختیارات بھی استعمال کر سکیں۔ وہ ہفتے میں دو یا کم از کم ایک بار لاہور ضرور تشریف لاتے ہیں۔ لاہور کے شہریوں کو عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے صوبائی حکمران ہی کم نہیں کہ اُوپر سے مرکزی حکمران بھی چلے آتے ہیں اب تو کِسی جگہ ٹریفک جام ہو‘ ایمبولینسیں چیخ و پکار کرتی ہوئی سنائی دیں تو لوگ فوراً اِس یقین میں مبتلا ہونے لگتے ہیں کہ وزیراعظم لاہور میں کہیں جلوہ افروز ہیں۔ شہر میں اُن کی مصروفیات تقریباً پوشیدہ ہوتی ہیں جیسے اِس سے قبل ہر ’’ویک اینڈ‘‘ لاہور میں انجوائے کرنے والے جرنیل حکمران کی ہوتی تھیں۔ اُن کی خدمتِ عظمیٰ میں عرض ہے کبھی کبھی دوسرے شہروں کو بھی شرف ملاقات بخشا کریں کہ پاکستان صرف ایک دو شہروں کا نام نہیں۔ بہرحال وفاقی افسروں کے تبادلوں کا اختیار ملنے پر ہم دل کی گہرائیوں سے اُن کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اُمید ہے صدر مملکت کے ساتھ اب اُن کے تعلقات میں بہتری آئے گی جس پر سب سے زیادہ اطمینان محترمہ شیری رحمن کو ہو گا کہ ’’اطلاعات کے مطابق‘‘ دونوں کے تعلقات کی خرابی کا سب سے زیادہ نقصان بھی اُنہی کو ہو رہا تھا۔
حالیہ تبادلوں کے مطابق خصوصی تعلیم کے وفاقی سیکرٹری جی ایم سکندر کو سیکرٹری ہائوسنگ بنا دیا گیا ہے۔ قلندرانہ خوبیوں کا مالک یہ افسر پنجاب میں مسلسل پانچ برسوں تک گریڈ بائیس کے جس عہدے پر تعینات رہا اب وہاں گریڈ اٹھارہ کا افسر اپنے باس کی شہرتوں کو ’’چار چاند‘‘ لگاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب میں اعلیٰ عہدوں پر یعنی بڑے گریڈوں پر چھوٹے گریڈ کے افسروں کی تعیناتیاں کن نفسیاتی وجوہات کی بناء پر کی جا رہی ہیں یہ راز کچھ امراض کی طرح اب بالکل پوشیدہ نہیں رہا۔ جونیئر افسروں کی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں یقیناً قابلِ برداشت اور قابلِ داد ہوتیں گر یہ افسر عوامی بھلائی کے لئے کچھ کارکردگی کا مظاہرہ کر پاتے۔ پنجاب کے محترم چیف افسر اپنے ’’ماتحت سینئروں‘‘ سے جس قِسم کا ’’حسن سلوک‘‘ بھری محلوں میں فرمانے لگے ہیں اُس کے نتیجے میں سینئر‘ اہل اور عزت نفس کی حفاظت کرنے والے افسران پنجاب میں تعینات ہونا تو درکنار اس کے بارے میں سوچنا بھی پسند نہیں کرتے۔ عزت نفس کی حفاظت کے ’’جرم‘‘ میں مرکز کی طرف دھکیلے جانے والے سینئر ترین افسر نے گزشتہ روز فون پر فرمایا ’’یہاں آ کر یوں لگا جیسے سسرال سے میکے آ گیا ہوں‘‘۔ ایک شعر بھی اُس نے سنایا تھا۔ ؎
نجانے ہونا ہے کیا اور کیا نہیں ہونا
مگر یہ طے ہے کہ قتلِ انا نہیں ہونا
سیکرٹری لیول کے افسروں کو ٹی ایم اوز کی سطح پر لا کر سڑکوں پر صفائی وغیرہ چیک کرنے کے ’’فرائض‘‘ پر مامور کر دیا جائے تو ایسی ’’شعرانہ آہوں‘‘ کا نکلنا قدرتی امر ہے کہ ؎
میں اپنے حبس میں مر جائوں گا مگر مجھ کو
گلی گلی میں بھٹکی ہوئی ہوا نہیں ہونا
ایک وقت تھا افسران پنجاب میں آنے کے لئے سفارشیں ڈھونڈتے تھے اب جانے کے لئے ڈھونڈتے ہیں۔ جی ایم سکندر‘ سلمان صدیق‘ تیمور عظمت عثمان اور ان جیسے کچھ اور عزت پسند افسروں نے قبل از وقت صوبہ چھوڑنے کا فیصلہ کر کے ڈھیر سارا خراج تحسین سمیٹا ہے‘ وہ جانتے تھے سمندر کو گندہ نالہ بنا دیا جائے گا جہاں مگر مچھوں سے بیر نہیں لیا جا سکتا۔ اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کے لئے اب بہت سے افسران اور بھی تیار کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں مستقبل میں انتظامی سطح پر کوئی خوشگوار تبدیلی رونما نہ ہوئی تو پنجاب میں اعلیٰ عہدوں کے لئے اہل افسروں کو ڈھونڈنے کا عمل اُڑتی چڑیا کے پر گننے کے مترادف ہو گا۔ ایک زمانہ تھا کسی افسر کو اچھا عہدہ ملنے پر مبارکباد دی جاتی تھی اب پنجاب میں او ایس ڈی ہونے پر مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں کہ جان چھوٹی سو لاکھوں پائے۔ کل ایک پولیس افسر کو او ایس ڈی ہونے پر ’’بیج میٹوں‘‘ نے جمخانہ کلب میں عشائیہ دیا۔ میں ایک ذاتی مصروفیت کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکا مگر سنا ہے مسٹر او ایس ڈی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ حیرت انگیز بات ہے صوبے میں تبادلاتی طوفان بلکہ طوفانِ بدتمیزی برپا کر دینے کے باوجود سسٹم میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہیں آئی تو پھر اِس تبادلاتی طوفانِ بدتمیزی پر اُٹھنے والے اخراجات کا ازالہ کیسے ہو سکے؟
جناب ظفر محمود کی اصل پہچان ناول نگار کی ہے۔ ابھی تک ہمیں اُن کا صرف ایک ناول ’’23 دن‘‘ پڑھنے کو ملا اس کے بعد انہوں نے شاید کچھ لکھا ہی نہیں ممکن ہے محترم مختار مسعود کی طرح وہ بھی اس اصول پر ڈٹے ہوئے ہوں کہ ’’تھوڑا لکھو تے ستھرا لکھو‘‘۔ اس سے قبل وہ پٹرولیم اور قدرتی وسیلوں کے وفاقی سیکرٹری بھی رہے‘ کچھ عرصہ او ایس ڈی شپ کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد اب کیبنٹ ڈویژن کے سیکرٹری بنائے گئے ہیں اس محکمے کے وزیر ڈاکٹر بابر اعوان ہیں‘ اپنے نئے سیکرٹری کی طرح انتہائی پڑھے لکھے‘ نفیس‘ دوستدار‘ باصلاحیت اور انا پسند… اب دیکھئے ایک میان میں ایک جیسی دو تلواریں کیسے اور کب تک رہتی ہیں؟ دونوں کے دوست کی حیثیت سے ہم دونوں کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں۔ جناب سلمان غنی بھی بالآخر مرکز سدھار گئے۔ اس سے قبل چیئرمین پی اینڈ ڈی کی حیثیت سے انہوں نے پنجاب بھی ’’سدھارا‘‘ تھا۔ پھر یہاں اُنہیں فالتو سمجھ لیا گیا حالانکہ ایسے اہل افسروں کی موجودگی خود پنجاب کے لئے باعثِ اعزاز تھی۔ صوبے کے ایک اعلیٰ افسر چونکہ ان سے مسلسل خطرہ محسوس کر رہے تھے تو ایسی صورت میں اُن کا مرکز سدھارنا لازمی امر تھا۔ مرکز میں اُنہیں سیکرٹری تجارت مقرر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے محنتی افسروں کی کوئی فہرست ترتیب دی جائے تو وہ پہلے نمبر پر ہوں گے۔ سسرال سے میکے آنے پر ہم اُنہیں بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں‘ اس اُمید بلکہ یقین کے ساتھ کہ جن اہل و سینئر افسروں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں وقتاً فوقتاً اُن کے آنسو پونچھنے اور آہ وزاریاں سننے لاہور آتے رہیں گے۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز کو ریٹائرمنٹ کے بعد شاید کنٹریکٹ پر ’’کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی‘‘ کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے وہ ایک محنتی اور باصلاحیت پولیس افسر ہیں‘ اُن کی صلاحیتوں سے مزید فائدہ اٹھانے کا عمل مرکزی حکومت کے لئے یقیناً سودمند ثابت ہو گا۔ کچھ برس قبل پنجاب میں سی آئی ڈی کے سربراہ کی حیثیت سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے اپنی جان پر کھیل کر کام کرتے رہے اب سی آئی ڈی کے افسران دو روپے کی روٹی نہ بیچنے والے ’’دہشت گردوں‘‘ کی تلاش میں رہتے ہیں جس کے نتیجے میں اصل دہشت گرد خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور حکمرانوں کو دعائیں دیتے ہیں کہ اللہ اُن کی ساری توجہ دو روپے کی روٹی کی طرف ہی لگائے رکھے تاکہ بے گناہ انسانی جانوں سے کھیلنے کا کاروبار وہ آسانی سے کرتے ہیں۔ بہرحال حالیہ تبادلوں کے نتیجے میں سسٹم میں کوئی بہتری آئے نہ آئے اتنا ضرور ہوا کہ محترم وزیراعظم کچھ بااختیار بااختیار سے دکھائی دینے لگے۔ ہم اُن کی بااختیاری پر بے اختیار خوش ہیں‘ دعاگو بھی کہ اللہ کرے زور تبادلہ اور زیادہ۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں