انقلاب یا عذاب؟
توفیق بٹ ـ 19 اکتوبر ، 2009
وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیری لوگر بل پر اپنی طرف سے زبردست دلائل دئیے۔ ایسے دلائل شاید ’’امریکی وزیر خارجہ‘‘ بھی نہ دے سکتے۔ یوں محسوس ہوتا ہے وہ جمہوری نہیں جرنیلی حکومت کے وزیر خارجہ ہیں۔ دو برس قبل اللہ کو پیاری ہونے والی جرنیلی حکومت کے وزیر خارجہ بھی امریکی مفادات کا تحفظ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ اسی لئے تو ہم بار بار عرض کرتے ہیں پاکستان میں حکومت نہیں امریکی غلاموں کی شفٹ تبدیل ہوئی ہے۔ جرنیلی حکومت کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری آج چونکہ حکومتی مجبوریوں سے آزاد ہیں تو اُن کے خارجی بیانات سے یوں محسوس ہوتا ہے اُن سے بڑھ کر محبِ وطن شاید ہی پاکستان میں کوئی ہو گا۔ حیرانی اِس بات پر ہے محض ’’دو ٹکیاں دی نوکری‘‘ کی خاطر وزیروں شذیروں کی حُب الوطنیاں خراٹے کیوں لینے لگتی ہیں؟ یہ کسی ایک وزیر کا مسئلہ نہیں‘ سیاسی و جرنیلی ادوار کے تمام وزیروں کے بیانات اُٹھا کر دیکھ لیں حکومت میں ہوں تو اور راگ الاپتے ہیں‘ حکومت سے باہر ہوں تو اِن کی ’’راگنیاں‘‘ اور ہوتی ہیں ممکن ہے اِس روایت کو جناب شاہ محمود قریشی بھی برقرار رکھیں اور جب حکومت سے باہر ہوں تو فرمائیں کیری لوگر بِل ہماری حکومت کی سب سے بڑی حماقت تھی۔ جیسے 1999ء کی ’’بارھویں شریف‘‘ کو اُس وقت کے آرمی چیف کو برطرف کرنا جناب نوازشریف کی سب سے بڑی حماقت تھی!
بعض لوگوں کے خیال میں دونوں ’’حماقتوں‘‘ کے نتائج بھی ایک جیسے ہی ہوں گے مگر ہم تو ہمیشہ سے دعاگو ہیں ’’منتخب حکومتیں‘‘ اپنی مدت پوری کریں۔ پر کیا کریں ’’منتخب حکومتوں‘‘ کو اپنے پائوں پر کلہاڑا مارنے کی ایسی عادت پڑی ہے کہ ’’چھٹتی نہیں ظالم منہ سے لگی ہوئی‘‘۔ لاہور کے ڈسٹرکٹ نائب ناظم عظیم حنیف کی منطق اِس حوالے سے حیران کن ہے۔ فرماتے ہیں ’’اصل میں منتخب حکومتیں دو اڑھائی برسوں بعد جان بوجھ کر ایسی خرابیاں پیدا کر دیتی ہیں تاکہ اُنہیں اقتدار سے باہر کر دیا جائے اور یہ ایک بار پھر مظلوم بن کر عوام کے در پر دستک دینا شروع کر دیں‘ اِس روایتی نعرے کے ساتھ کہ ہمیں تو مدت پوری کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا تھا‘‘ … تو جناب ہم پاکستان کی ’’اصل قوتوں‘‘ کی خدمت میں ہاتھ باندھ کر عرض کرتے ہیں کہ اب کے بار ان ’’منتخب حکومتوں‘‘ کو مدت پوری کرنے کا پورا موقع دیا جائے تاکہ ہر بار چہرے پر نیا نقاب ڈال کر نقب زنی کرنے والوں کی حقیقت سے عوام مکمل طور پر آشنا ہو جائیں!
وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی فرماتے ہیں کیری لوگر بِل کی امداد سے ملک میں انقلاب آئے گا۔ ہم اُن کی خدمت میں عرض کرتے ہیں قرضوں اور بھیک سے انقلاب آنا ہوتا تو کب کا آ چکا ہوتا۔ پاکستان میں انقلاب تو پتہ نہیں کب آتا ہے ’’عذاب‘‘ آتا رہتا ہے‘ کبھی فوجی اور کبھی غیر فوجی حکومتوں کی شکل میں کہ اب تو دونوں قسم کی حکومتوں کے عزائم ایک جیسے ہی ہوتے ہیں‘ لٹو اور پھٹو وغیرہ۔ کوئی لوٹ مار کر کے ملک سے باہر چلا جاتا ہے تو کوئی لوٹ مار معاف کروا کر ملک کے اندر چلا آتا ہے اور آتے ہی ایسے عہدے پر براجمان ہو جاتا ہے کہ حیرت سے لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ اب اِن وزیروں شذیروں کو کون سمجھائے کہ پاکستان میں انقلاب اُسی روز آئے گا جب حقیقی معنوں میں کوئی منتخب حکومت برسرِ اقتدار آئے گی۔ ’’اندرونی و بیرونی قوتوں‘‘ کے وعدوں اور معاہدوں کے زور پر منتخب ہو کر آنے والی حکومتوں سے رتی بھر توقع نہیں کی جا سکتی کہ کوئی انقلاب برپا کریں گی۔ پچیس تیس فیصد ’’فرشتوں‘‘ کے ووٹ لے کر اقتدار میں آنے والی ’’منتخب حکومتیں‘‘ ایسے ہی کارنامے کرتی رہیں گی جیسے کرتی رہی ہیں اور کرتی جا رہی ہیں!
کیری لوگر بِل کے حوالے سے قوم کی اصل ترجمانی وطن عزیز کی سب سے قد آور صحافتی شخصیت جناب مجید نظامی نے یہ کہہ کر کی ہے کہ ’’یہ بِل پاکستان کو اغواء کرنے کی کوشش ہے‘‘۔ مجھے یقین ہے اِس کوشش کو ناکام بھی مجید نظامی جیسی شخصیات ہی بنائیں گی کہ ملک کے ’’مشہور و معروف محبِ وطن سیاستدانوں‘‘ کا کردار تو بس بیانات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بیانات بھی ایسے دیتے ہیں جیسے گانے گاتے ہیں۔ کِس قدر المیہ ہے قوم کی ’’راہبری‘‘ کے دعویدار ’’راہزنوں‘‘ کے ساتھ مِلے ہوئے دِکھائی دیتے ہیں۔ گر ایسے نہ ہوتا تو کیری لوگر بِل کے خلاف بھی ویسے ہی سڑکوں پر نکلتے جیسے عدلیہ کی بحالی کے لئے نکلے تھے کہ یہ پاکستان کی سلامتی اور وقار کا مسئلہ ہے جو عدلیہ کے مسئلے سے رتی بھر کم اہمیت کا حامل نہیں۔ جناب شاہ محمود قریشی فرماتے ہیں ’’کیری لوگر بِل کی شقیں پاکستان کی قومی پالیسی کے عین مطابق ہیں‘‘۔ میرے خیال میں پاکستان کی ’’قومی پالیسی‘‘ موجودہ حکمرانوں کی نظر میں اِن دنوں یہ ہے امریکی غلامی کی انتہا کر دو‘ اِس قدر کہ این آر او جیسے ’’بہشتی دروازے‘‘ اِن کے لئے آئندہ بھی کھلتے رہیں۔ اِن کے لئے تو کیری لوگر بِل بھی ایک بہشتی دروازہ ہے‘ جِس سے گزر کر دوسرے بڑے نمبر کا دولت مند پاکستانی حکمران ممکن ہے پہلے بڑے نمبر کا دولت مند پاکستانی حکمران بن جائے۔ کاش وہ پہلے بڑے نمبر کا عزت مند پاکستانی حکمران بننے کی کوشش کرتا‘ جیسی کوشش اُس کے شہید سسر اور شہید بیوی نے کی‘ اور اپنا نام پاکستانی دِلوں کی دھڑکن بنا گئے!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں