حکومت ہے کہاں؟

ریاض الرحمن ساغر ـ 19 جنوری ، 2011
صنعت و حرفت‘ معیشت ہے کہاں؟
ملک ہے زرعی‘ زراعت ہے کہاں
چھاپنے کو نوٹ ہے یہ اک ”پریس“
کوئی پوچھے ”بنک دولت“ ہے کہاں
گیس بجلی اور پانی کی کمی
کیا بڑی؟ چھوٹی سی صنعت ہے کہاں
صدر نے کل کی ہے جس طاقت کی بات
پیش امریکہ وہ طاقت ہے کہاں
امن قائم جو کراچی میں کرے
ڈھونڈئیے اسکو‘ حکومت ہے کہاں
قتل ڈاکے اور اغوا عام ہیں
مال اور جاں کی حفاظت ہے کہاں
دھوپ پانی اور ہوا تو ہے بہت
روٹی کپڑا اور کوئی چھت ہے کہاں
کیسے متبادل ذرائع سے جئیں
اسطرح جینے کو صحت ہے کہاں
صدر صاحب بات سیدھی کیجئے
قرض کی پینے میں لذت ہے کہاں
”آئی ایم ایف“ سے جو ڈر کر ہم جئیں
اسطرح جینے میں غیرت ہے کہاں
غربت و افلاس کیسے دور ہو
لٹ چکی جو ملکی دولت ہے کہاں
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں