رانیاں اور آنٹیاں……؟؟چادر چار دیواری اور چاندنی

بشری رحمن ـ 19 جنوری ، 2009
یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا، اور یہ کوئی عجیب خبر نہیں ہے۔ اس سے پہلے جنرل رانی کے ایسے ہی کارنامے مشہور ہوئے، وہ جرنیلوں کا دور تھا۔ اس میں بھی رانیوں کا دور دورہ تھا۔ جمہوری ادوار میں بھی آنٹی طاہرہ جیسی کئی رانیوں کی حکمرانی کے قصے زباں زد عام ہوئے تھے… ہوتے رہتے ہیں۔ بندہ بشر جو ہوا۔ جہاں بندہ بشر ہوگا وہاں حشر نشر تو ہوگا ہی۔ اس کو ہوا دینے کی کیا ضرورت ہے۔ حسنِ اتفاق سے کچھ رانیاں اور آنٹیاں منظر پر نکل آتی ہیں مگر بہت سے پردہ نشینوں کے نام اوٹ میں ہی رہ جاتے ہیں۔
اب جب آنٹی کینڈی کی کارروائیاں اور جگ ہنسائیاں منظر پر آ گئیں۔ تو لوگ باگ تعجب سے کون کب کہاں پوچھنے لگے… کیونکہ کچھ لوگوں کو ہمیشہ ان کے ٹھکانوں کی معلومات درکار ہوتی ہیں۔ ہماری بات کا مطلب غلط نہ لیا جائے وہ تو اخلاق سدھار اور کردار سدھار والی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ جن کو ایسی بدنام زمانہ آنٹیوں سے ملنے کا اشتیاق ہوتا ہے۔
اخباروں نے لکھا ہے کہ آنٹی کینڈی ہے تو جیل میں، مگر رہتی ہے کھیل میں… اسے وہاں بھی وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ گھروں میں سڑتی ہوئی اور چولہے کی آگ میں مرتی ہوئی بہت سی بیویاں جل بھن کر کباب ہو رہی ہیں کہ جنہیں صبح سے شام ہو جاتی ہے گھر اور بچوں کے ساتھ مشقت کرنے میں وہاں جیل میں آنٹی کینڈی کو دو مشقتی عورتیں دی گئی ہیں جنہیں وہ مشقت کرنے کی تربیت دیتی ہیں۔ دو موبائل فون مہیا کئے گئے ہیں تاکہ ان کے کاروبار میں مندی نہ آئے اور ان کا رابطہ بڑی بڑی شخصیات سے رہے۔ سوئی گیس میں کمی آتی جا رہی ہے اور بجلی ہے کہ جھلک دکھا کر چھپ جاتی ہے تو ایسے میں آنٹی کینڈی کی پیدا کردہ حرارت کی ضرورت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔
یوں تو تفصیلات میں رقم ہے کہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے 2006ء میں چھاپہ مار کر ڈیفنس کے علاقے کی مشہور نائیکہ شمع یاسمین عرف آنٹی کینڈی کو 5 کلو ہیروئن افیون اور جعلی کرنسی سمیت گرفتار کیا تھا۔ جسے خصوصی عدالت سے اڑھائی سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن آنٹی کینڈی کی راہ و رسم ایسے میں کام آئی ہے۔ اسے تو جیل خانے میں کوئی ذہنی یا جسمانی تکلیف نہیں ہے مگر جیل سے باہر اس کے مہربان کافی تکلیف میں ہیں۔ بعض بدباطن اشخاص خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کر لیتے ہیں بعض بدبودار لوگ معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ پھر قتل بھی کر دیتے ہیں۔ ان کے لواحقین کو انصاف دلانے کے لئے بڑی بڑی شخصیات کبھی اتنی سرگرم نہیں ہوتیں جتنی کہ وہ ان سردیوں کے موسم میں آنٹی کینڈی کو رہائی دلانے کے لئے سرگرم نظر آرہی ہیں۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ ایسی آنٹیاں اور رانیاں ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔ سرمائے کے علاوہ ایسی عورتیں اعلیٰ شخصیت کی درونِ میخانہ کارکردگی کا ایک انسائیکلو پیڈیا ہوتی ہیں۔ اس لئے جس شخصیت نے کبھی یونہی سرراہے ان کے کنویں سے دو گھونٹ پی لئے ہوتے ہیں۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جاتی ہیں۔ یہ کبھی کبھی گرفتار ہو جانے والی نائیکہ نما چیزیں خود بڑے بڑے شہ زوروں کو گرفتار کرنے میں ماہر ہوتی ہیں۔ ان کو اسیرِ زلف دوتا کرنے کے اتنے گْر ازبر ہوتے ہیں کہ پولیس تو ان کے سامنے طفلِ مکتب نظر آتی ہے۔ اسی لئے ایسی عورتوں کو جیل سے رہائی دلانے میں پولیس کے بعض افسر اور جیل خانہ جات کے بعض ارباب بھی شامل ہو جاتے ہیں اور دو زانو کہتے رہتے ہیں؎
تیری زلفوں سے جدائی تو نہیں مانگی تھی
قید مانگی تھی رہائی تو نہیں مانگی تھی
اور پھر جب یہ عورتیں بڑی سرخروئی کے ساتھ آزاد ہوکر اپنے اڈے پر جاتی ہیں تو جاتے جاتے کہتی جاتی ہیں؎
تو نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
اب دیکھئے آنٹی کینڈی نے جیل خانے کے اندر کتنے فلاحی کام کئے ہیں۔ یعنی دو بوتلیں خون کی دیں۔ کس کو دیں یہ معلوم نہیں۔ اللہ کرے یہ خون کسی خاتون یا بچی کو نہ دیا گیا ہو۔ کسی ڈاکو یا لٹیرے کے حصے میں آیا ہو۔ کیونکہ اس خون نے نہ معلوم کتنے ہنستے بستے گھروں کا خون نچوڑا ہوگا۔ غریب گھرانے کی عورتیں زچگی میں خون کی کمی سے مر جاتی ہیں مگر ایسی عورتیں جیل کے اندر خون کی زیادتی سے مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ خون دینا تو ثواب کا کام۔ مگر دوسری گھریلو عورتوں کے ارمانوں کا خون کرنا ثواب کا کام نہیں۔ کیا دو بوتلیں اس خون کا کفارہ ہو سکتی ہیں۔
پھر آنٹی کینڈی نے 3 ماہ کلام پاک ناظرہ پڑھایا ہے۔ یہ تجربہ کیسے لگا ہے؟ اور ایک ماہ بیوٹی پارلر کی ٹریننگ بھی مفت دی ہے۔ یہ ٹریننگ کن عورتوں کو دی ہے کیونکہ جیل کے اندر جو عورتیں لائی جاتی ہیں وہ ایسے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں کبھی سلیقے سے اوڑھنا پہننا اور منہ دھونا بھی نصیب نہیں ہوا تو جیل کے اندر انہیں ہار سنگھار کی تربیت دینے سے کیا ان کے احوال میں بہتری آ جائے گی… سبحان اللہ…!! ع
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
شیخ سعدی کی ایک حکایت یاد آ گئی۔ رقم فرماتے ہیں۔ جب عزیز مصر کی بیوی زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو گناہ پر آمادہ کرنا چاہا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ انہیں جیل خانے میں ڈلوا دے گی تو انہوں نے فرمایا تھا کہ اے اللہ مجھے قید کی مصیبت اس گناہ کے مقابلے میں قبول ہے۔ جس کی طرف مجھے بلایا جا رہا ہے۔آگے چل کر وہ ایک اور حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش سمندر کے کنارے اس حالت میں زندگی گزار رہا تھا کہ اس کے جسم پر چیتے کے ناخنوں کا لگا ہوا ایک زخم ناسوْر بن چکا تھا۔ اس ناسور کی وجہ سے درویش بہت تکلیف میں تھا۔ مگر شکایت کا لفظ زباں پر لانے کی بجائے وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتا تھا۔ اس سے سوال کیا گیا کہ اے مرد خدا یہ کون سا موقع ہے شکر بجا لانے کا۔
اس نے جواب دیا۔ میں مصیبت میں مبتلا ہوں۔ اللہ والے گناہ کے مقابلے میں مصیبت کو پسند کرتے ہیں اور پھر یہی وہ مقام ہے جہاں پچھلے گناہوں سے معافی ملتی ہے اور تطہیر نفس بھی ہوتی ہے۔
ٹھہرئیے…!کچھ شخصیات حرکت میں آ گئی ہیں۔
اور حرکت میں برکت ہے…!!؎
تیرے کرم ہی پر ہے جب مدارِ عفو و عطا
تو پھر گناہوں کا میرے حساب رہنے دے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں