پھر وہی کھوئی ہوئی یاد آئی…؟.....چادر چار دیواری اور چاندنی
بشری رحمن ـ 19 دسمبر ، 2008
ہوائی جہاز جب کسی صحرا کے اوپر سے گزرتا ہے تو عجب دیدنی منظر ہوتا ہے، سناٹا بولتا ہے اور بے راستوں کی وادیاں بانہیں پھیلائے خوش آمدید کہتی رہتی ہیں۔ صحرا کے اندر سڑکیں نہیں ہوتیں، چوراہے اور دوراہے بھی نہیں ہوتے۔ درختوں کے جھنڈ اور شرمیلی ڈالیاں بھی نہیں ہوتیں، پورے صحرا میں لکیریں نظر آتی ہیں جس طرح ہاتھ پر لکیریں ہوتی ہیں ہاتھ کی لکیریں قدرت ڈالتی ہے مگر صحرا میں لکیریں ہولے سے چلنے والی صحرائی ہوا ڈالتی ہے۔ یہ لکیریں سڑکوں کا کام دیتی ہیں، سمتوں کو متعین کرتی ہیں۔ پر ان راستوں کا اعتبار نہیں ہوتا۔ دبے دبے قدموں سے چلنے والی ہوا کبھی کبھی یہ معدوم راستے مٹاتی ہوئی چلتی ہے۔ جدھر رخ کرتی ہے، جس رخ سے چلتی ہے ادھر راستہ بن جاتا ہے۔ صحرائی لوگ زیادہ تر پیدل چلتے ہیں یا اونٹ پر سواری کرتے ہیں جسے عرف عام میں صحرائی جہاز کہا جاتا ہے۔ راہ گیروں کے قدموں کے نشان بھی راستہ بناتے جاتے ہیں اور آبادیوں کا پتہ دیتے ہیں اگر رات کو آندھی چلے اور قدموں کے یہ نشان مٹ جائیں تو کوئی بھی راہ رو بھٹک سکتا ہے۔ اونچے نیچے زرد ٹیلے، کہیں کہیں کٹیلی جھاڑیاں تا حد نظر ریت ہی ریت… پھر بھی ریگستان میں قدرت کا حسن بکھرا نظر آتا ہے۔ پہاڑوں کے اوپر بھی سفر کر کے دیکھا،جہاز کے شیشوں سے سمندری ملکوں کو بھی دیکھا، پرواز کے دوران شہری جگمگ کرتی آبادیاں بھی دیکھیں… مگر صحرا کو دیکھنا کتنا اچھا لگتا ہے، صحرا کی بات ہی اور ہے۔
میں بہاولپور جانے کا بہانہ ڈھونڈتی رہتی ہوں جیسے جی میں پڑا کوئی لڑکپن کا کھلونا ڈھونڈنے کی تمنا ابھی باقی ہو۔ چولستان کی ہوا میں کوئی خاص بات ہے، اترتے ہی مجھے گلے لگا لیتی ہے اور میری جنم جنم کی تھکن اتر جاتی ہے اس مرتبہ مجھے چولستان فلورل گروپ کمیٹی کے ارکان نے بطور خاص بلایا تھا اور میں حیران تھی کہ یہ کون ہے جسے صحرا میں پھول کھلانے کا شوق چرایا ہے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس حسن کار کی کرتا دھرتا محترمہ نصرت بلال ہیں جو جامعہ بہاولپور کے وائس چانسلر کی بیگم ہیں اور جنہیں فلاحی اور فنکارانہ کام کرنے کا اعلیٰ ذوق ملا ہے۔ انہوں نے بہاولپور کی بہت سی خوش ذوق خواتین کا گروپ بنا کے آرائش گل اور زیبائش ماحول کی ایک دنیا بنا رکھی ہے جس میں یونیورسٹی کی طالبات بھی شامل ہیں۔ یہ تنظیم انہوں نے بہاولپور میں 2006ء میں بنائی تھی ہر سال آرائش گل کا ایک مقابلہ ہوتا ہے اور پھولوں کی نمائش بھی۔ اس مقابلے میں شریک ہونے کے لئے فلورل گروپ کی بہت سی ارکان خواتین اسلام آباد اور کراچی سے بھی آتی ہیں۔ اس مرتبہ یہ ’’مقابلہ حسن گل و برگ‘‘ فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے منعقد ہوا۔ گل کاری اور گل آرائی کی یہ محفل محض ایک فنکشن نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس پردہ معذور اور لاچار بچوں کے لئے سکول کھولنا، انہیں تعلیم سے آراستہ کرنا اور انہیں قدرتی محرومیوں کے احساس سے نجات دلا کے زندگی کی ڈگر پر لانا بھی ہے۔
بیگم نصرت بلال ایک انتھک خاتون ہیں وہ جہاں جاتی ہیں کوئی کام کرنا شروع کر دیتی ہیں، وہ لوگوں میں اور چیزوں میں حسن تلاش کرتی ہیں، وہ لوگوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔ خصوصیت سے گھر بیٹھنے والی بیگمات اور فارغ التحصیل طالبات کے لئے وہ نئے نئے مشاغل ایجاد کرتی رہتی ہیں۔ دراصل ہمارا معاشرہ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے آباد ہے جو صلہ اور ستائش کی پرواہ کئے بنا اچھے کام کئے چلے جا رہے ہیں اچھا عمل تقسیم کئے جا رہے ہیں، سونے والوں کو جگائے چلے جا رہے ہیں، اور کہتے رہتے ہیں ع
کچھ اچھا کام کر لو چار دن کی زندگانی میں!
یوں بھی ایک عرصہ سے ہمارے ملک میں پھولوں کی قدر کرنے کا رواج سا پڑ گیا ہے اور سینکڑوں نرسریاں شہر شہر طرح طرح کے پھول اگا رہی ہیں پہلے ہر موقعے پر پھول پیش کرنے کا رواج نہیں تھا مگر اب باقاعدہ آرائش گل ایک فن مانا جانے لگا ہے۔
چولستان میں بھی خورد رو جھاڑیاں اور طرح طرح کی گھاس ہوتی ہے، شہری پھولوں کو صحرائی جھاڑیوں کے ساتھ اس قدر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کہ عقل دنگ ہو کے رہ جاتی تھی، ٹھیک ہے جو پھولوں سے پیار کرتے ہیں وہی پھولوں کی زبان بھی سمجھتے ہیں۔ پھولوں کی زبان سمجھنا ایک علم ہے ایک سائنس ہے جب آپ پھولوں کو سجا رہے ہوتے ہیں تو آپ کو سمجھنا پڑتا ہے کہ کون سا پھول، کونسی کلی، کون سا شگوفہ کس مقام پر رہنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی ہمسائیگی میں کس قسم کی جھاڑیاں اور ڈالیاں پسند کرتا ہے اگر آپ پھولوں کی زبان نہیں سمجھتے تو پھول آپ سے خفا ہو جاتے ہیں اور سارا گلدستہ گونگا ہو جاتا ہے۔ یہ ساری باتیں نصرت بلال صاحبہ اور ان کی تربیت یافتہ خواتین مجھے بتاتی جا رہی تھیں یہ ایک انعامی مقابلہ تھا سمجھ میںآیا کہ شاعر نے یہ کیوں کہا تھا ع
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
یہاں پر اگر میں محترمہ قدسیہ نثار کا ذکر نہ کروں تو بات مکمل نہ ہو گی۔ قدسیہ صاحبہ نے جامعہ بہاولپور میں پہلی بار فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا اجراء کیا ہے۔ نصرت بلال صاحبہ اگر پھولوں کی زبان سمجھتی ہیں تو قدسیہ نثار صاحبہ رنگوں کو زبان عطا کرتی ہیں۔ ان کے ڈیپارٹمنٹ کو دیکھ کے جی بہت خوش ہوا بے شمار طلباء و طالبات ان کے زیر نگرانی پینٹنگز کرتے ہیں مناظر قدرت کو رنگوں میں منتقل کرتے ہیں۔ پورٹریٹ بناتے ہیں، مجسمہ سازی کرتے ہیں۔ پرنٹنگ میں مہارت حاصل کرتے ہیں وہاں بھی چاروں طرف ٹیلنٹ بکھرا ہوا دیکھا باصلاحیت لوگ زیادہ تر بڑے شہروں سے دور قدرتی فضاؤں میں پلتے ہیں اور اپنی ملکی ثقافت اور معیشت کو مالا مال کرتے ہیں۔
یہ ارتقاء نہیں تو کیا ہے…اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور… ارتقا نہیں تو کیا ہے…یہاں بہاولپور ڈویژن کے علاوہ دور دراز سے بھی طلباء و طالبات داخلہ لینے کے لئے آتے ہیں۔ یہاں میڈیکل کالج بھی ہے اب ایک زرعی یونیورسٹی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسے گندم اور دیگر اجناس میں خودکفیل ہونا چاہئے، ہر صوبے میں زرعی یونیورسٹیاں ہونی چاہئیں اور فارغ التحصیل طلباء کی اعانت اس طرح سے ہونی چاہئے کہ وہ اپنی ہی زمین پر اپنی توانائی صرف کریں اور ملک کو خود کفالت کی ڈگر پر لے آئیں۔ میرا خیال ہے ہم تلخ و ترش سے بہت گزر چکے اب ہمیں ایسی ڈگر اپنانی چاہئے کہ دوسروں کے کئے ہوئے اچھے کام جاری رکھے جائیں، سیاسی مخالفتوں کے چکر میں پھنس کے ارتقا کے عمل کو روکنا نہیں چاہئے جس شدت سے آبادی بڑھ رہی ہے اسی تیزی سے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں نوجوان نسل کو موقع دیا جائے کہ ہر فیلڈ میں آگے آئیں اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں۔ چند دن میں نے اپنے صحرا میں گزارے ، بچھڑی ہوئی یادوں کے ساتھ اور محبت کرنے والے چہروں کے ساتھ…ایک شام خواجہ غلام فریدؒ کی کہانیاں سننے میں بسر ہوئی۔ صوفی شاعر نہ ہوتے تو لوگوں کے دل زندہ کیسے رہتے۔پاکستان صوفیوں کی سرزمین ہے ایک خوبصورت ملک ہے، قدرت کی عنائتیں چار سو بکھری پڑی ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی شناخت کریں اپنے وسائل استعمال کریں۔ دنیا کا مقابلہ کریں اور اپنی نئی نسل کے دلوں میں امید اور امنگ کے پودے لگاتے جائیں جہاں جس جگہ جو بھی شخص بہت اچھا کام کر رہا ہے اگر اسے سراہا نہ سکیں تو اس کے راستے کی دیوار بھی نہ بنیں۔ مجھے یہ سن کر بہت اچھا لگا کہ جناب وائس چانسلر بلال صاحب نے یونیورسٹی کے اندر انقلابی اقدام کئے ہیں اور بہت کام کیا ہے۔ہمارے ہاں رواج پڑ گیا ہے کہیں کچھ برا ہو جاتا ہے تو ہر محفل میں اسی پر مغز ماری کرتے رہتے ہیں لیکن کہیں اگر کچھ اچھا ہو رہا ہو تو اس کا ذکر کرنا بے معنی سمجھتے ہیں۔میرا تو یہ عالم ہے کہ؎
ان درختوں اور پرندوں کو دعا دیتی ہوں میں
ورنہ بیش ازیک نفس دنیائے آب و گل نہیں!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں