دکھوں پر بھنگڑے

رفیق ڈوگر ـ 18 مارچ ، 2009
دید شنید
کسی کے دکھ درد پر بھنگڑا ڈالنا کوئی خوشگوار حرکت نہیں پھر جب دکھ ہو بھی کسی قبلہ حضرت پیر الطاف حسین کا اور حضرت ہی مولانا فضل الرحمن کا توایسی حرکت بہت ہی بے برکت ہوسکتی ہے۔ پندرہ مارچ کی دوپہر جب لاہور کے جی پی او چوک میں کالاکوٹ ’’برادری‘‘ کی حمایت میں جنگ آزادی لڑی جارہی تھی اور اہل لاہور میاں نوازشریف کی گاڑی کے آگے پیچھے دوڑ رہے تھے تو مولانا فضل الرحمن کو وفاق بہت ہی خطرے میں دکھائی دے رہا تھا اس دکھ میں وہ ٹیلیویژن چینل والوں سے خلاف عادت لڑ ہی پڑے تھے ظاہر ہے پاکستان کا دکھ تھا اس سے بڑا دکھ اور کیا ہو سکتا تھا وہ فرما رہے تھے کہ وفاق پاکستان کے تین صوبے سندھ، بلوچستان اور سرحد اس تحریک سے الگ ہیں یہ صرف پنجاب کی تحریک ہے اس سے وفاق کے لئے شدید خطرہ پیدا کیا جارہا ہے۔ ابھی ہم ان کے دکھ میں شامل ہونے کے لئے وضو کے مراحل میں ہی تھے کہ ایک اور خبر آگئی تھی کہ پیر الطاف حسین نے تو اہل مارچ کی طرف سے صدر آصف علی زرداری اور سندھ کے خلاف نعروں کے خلاف حکومت کو نوٹس بھی جاری کردیا ہے کہ اگر اس نے ایسے سندھ دشمن عناصر کیخلاف کارروائی نہ کی تو وہ پورے اڑتالیس گھنٹے کے بعد حکومتوں سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ان کی متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے ہنگامی طور پر اس بارے میں اجلاس بھی کرلئے تھے اور ایک متحدہ قرارداد بھی منظور کرلی تھی۔ ایک پیر باتدبیر کا دکھ اور ایک حضرت اور مولانا کا دکھ اسی سے نڈھال حالات میں ہم پر لانگ مارچ کا بائیکاٹ کردیا تھا لیکن سولہ مارچ کی خبر صبرنامہ میں کراچی سے پشاور تک اور کوئٹہ سے اسلام آباد تک اس لانگ مارچ کی کامیابی پر لوگوں کو خوشیاں مناتے اور بھنگڑے ڈالتے دیکھ کر ہم سوچ میں ڈوب گئے کہ اس قوم کو کیا ہوگیا ہے ملک کے چاروں صوبوں کے عام و خاص ایک ہی صوبے کی تحریک کی کامیابی پر کیوں بھنگڑے ڈال رہے ہیں انہیں نہ کسی پیر کا خیال ہے نہ حضرت اور مولانا کا احترام ہے اور نہ ہی وفاق پاکستان کا کوئی ان جیسا دکھ ہے کراچی میں بھی بھنگڑے ڈالے جارہے ہیں خوشیاں منائی جارہی ہیں کوئٹہ میں بھی اور پشاور میں بھی قاضی حسین احمد کا تو پتہ نہیں کیا حال ہوا ہوگا حضرت اور مولانا ایم ایم اے قبلہ کے دکھ درد اور یہ بھنگڑے دیکھ کر ہمیں تو بہت صدمہ ہوا تھا اور بھی کوئی اس لانگ مارچ اور اس سے وفاق کے لئے خطرہ کے مولانا کے فتویٰ سے دکھی ہوا تھا؟اگر تھا تو وہ کون ہوگا؟ ایک تو وہی ہوں گے جن کی وفاق کے اتحاد اور تحفظ والی حکمرانی اور خدمات کے اعتراف کے لیے پیر صاحب کی متحدہ اور مولانا کی ایم ایم اے نے آئین میں سترہویں ترمیم کی منظوری میں ساتھ دیا تھا اور کوئی؟ اخبارات کے صفحات اور ٹیلیویژن چینل اس بارے میں کچھ نہیں بتا رہے تھے آصف علی زرداری اور ان کے مشیر داخلہ کے دکھوں کے بارے میں بھی کہیں کوئی خبر نہیں سنائی اور دکھائی گئی تھی ہر طرف پاکستان کے اندر اور باہر ہر طرف خوشیاں ہی منائی جارہی تھیں لوگ بھنگڑے ڈال رہے تھے، مٹھائیاں تقسیم کررہے تھے اور میاں محمد نوازشریف وفاق پاکستان کے لئے خطرہ لانگ مارچ کی کامیابی کو پاکستان کے لئے ایک نئے دور کا آغاز قرار دے رہے تھے کچھ ویسی ہی باتیں کررہے تھے جیسی باتیں حضرت و مولانا کے دکھوں میں اضافہ کرنے کے لئے پندرہ مارچ کی دوپہر ممتاز بھٹو اور سندھ عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو نے کی تھیں اور اس لانگ مارچ کو جمہوریت کے لئے سندھ کے لئے اور ملک کے لئے نیک شگون قرار دے رہے تھے۔ رسول بخش پلیجو نے تو سندھ سے لاہور تک سفر کی صعوبتیں اٹھا کر اپنے دستہ سمیت اس لانگ مارچ میں شرکت بھی کی تھی اور اسے سندھ کے کھلے دل والوں کے دلوں کی دھڑکن بتایا تھا اس لانگ مارچ کو جلدیا بدیر ملک میںتبدیلی کا آغاز قرار دیا تھا۔ سابق وزیراعظم پاکستان میر ظفراللہ خاں جمالی سے جب مولانا کے دکھ کے سیاق و سباق میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پنجاب مثالی صوبہ ہے باقی لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں اور چلیں گے، انہوں نے تو اس لانگ مارچ کو ایک ریفرنڈم قرار دے کر ہمارے دکھ یا افسوس میں مزید اضافہ کردیا تھا جب وہ وزیراعظم ہوتے تھے تو پیر صاحب کی متحدہ ان کی خوشیوں اور وردی شاہ صاحب کے دکھوں میں شریک ہوتی تھی۔ حضرت اور مولانا ان کے قائد حزب اختلاف ہوتے تھے اور وہ ان پرانے تعلقات کا بھی کوئی عزت و احترام نہیں کررہے تھے۔ ایک خبر یہ بھی تھی کہ صدر مکرم آصف علی زرداری کو جن اہل قیادت نے ’’ڈٹ جائو اور ڈٹے رہو‘‘ کا مشورہ دیا تھا۔ ان میں بھی حضرت اور مولانا اور منظور وٹو شامل تھے، باقی جن کے نام شامل تھے وہ تو صدر مکرم کے گھر کے لوگ تھے سلمان تاثیر، فاروق نائیک اور رحمان ملک تو ان کے ہی بنائے سجائے کہے جاسکتے ہیں۔ ان کے اس مشورے کے باوجود صدر مکرم نے ڈٹے رہنے کے عزم اور ارادہ میں نرمی دکھا کر مولانا کے دکھ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ظاہر ہے اس نرمی نے بھی ہمیں دکھی ہی کیا ہے۔ صدر مکرم کے نرمی دکھانے یا مولانا کے مشورہ پر عمل نہ کرنے کے بعد سے ہم نے حضرت اور مولانا کو کسی چینل میں جلوہ فروز نہیں دیکھا۔ کوئی چھوٹا دکھ ہے؟ وفاق کے دکھ سے بڑا کونسا دکھ ہوسکتا ہے؟ کریں تو کیا ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ان کے دکھوں پر بھنگڑے ڈالنے والوں کو ہم نہیں روک سکتے، شریفین اور اہل پنجاب کو وفاق کے خلاف سازش سے باز رکھنا ہمارے بس میں نہیں۔ کیسے بٹائیں یا سانجھا کریں پیر باتدبیر اور حضرت و مولانا کے دکھ کو؟ یہی دعا کرسکتے ہیں ہم تو کہ تمہارا دکھ رہے سلامت!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں