لوڈشیڈنگ کا ایک اطمینان بخش پہلو

خالد احمد ـ 17 مارچ ، 2010
کچھ لوگ پیڑوں کی طرح ہوتے ہیں‘ ان کی محبت ہمارے دلوں میں کونپل کی طرح سر نکالتی ہے اور سرزمین دل میں جڑیں چھوڑتی چلی جاتی ہے حتٰی کہ وہ ہمارے اندر ایک چھتنار برگد کی طرح چھاونی جما لیتی ہے اور ہم کڑی دھوپ میں بھی ان کی ”دراز پلکوں کے سائے سائے“ سفر کرتے رہنے اور منزل جا لینے کے لائق ہو جاتے ہیں!
یہ محبت ہمارے دلوں میں جنم لیتی ہے اور ہمیشہ شاداب رہتی ہے کیونکہ یہ ”سود و زیاں“ سے بالا ہوتی ہے! محبت کا جواب محبت سے ملے یہ لازم نہیں! لیکن محبت کے جواب میں احترام یقیناً ملتا ہے کیونکہ محبت کرنے والے ”احترام محبت“ کے لائق تو یقیناً ہوتے ہیں! آپ انہیں دل میں جگہ دیں نہ دیں مگر انہیں اپنے محبوں کی ”صف“ سے نکال دینے کا حق اور اختیار تو آپ کے پاس ہوتا ہی نہیں! انہیں تو اس بات کی بھی پروا نہیں ہوتی کہ آپ یہ جانتے بھی ہیں یا نہیں کہ ہم آپ سے محبت کرنے والوں میں سے ایک ہیں!
’اہل فکر‘ یہ اور کچھ ایسی ہی باتیں سوچتے اور انہیں ”لائن اپ“ کرتے ”ادبی بیٹھک“ پہنچے تو اہل غور ”یوم قرارداد لاہور“ کی سترویں سالگرہ کے حوالے سے ”پاکستان“ اور پاکستانی صحافت میں اپنی اشاعت کے ستر سال پورے کرنے والے ”نوائے وقت“ کے جشن کا پروگرام ترتیب دئیے بیٹھے تھے! ہم یہ ”ترتیب“ دیکھ کر پریشان ہو گئے!ع
میں نے سوچا تو سن لیا تو نے
پھول کھلنے سے پہلے ہی ”چن“ لئے جانے پر ایک نئی مسرت ہمارے پہلو سے پھوٹی کہ یہ پھول ”گل سر سبد“ تھا!
”جشن نوائے وقت“ کے عنوان سے برپا ہونے والی تقریب میں ہر طبقہ فکر سے ادبا اور شعراء کے لئے دعوت نامے جاری ہوں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جس تحریک کے ساتھ ”دانش“ ہم سفر نہ ہو وہ تحریک راستے میں دم توڑ جاتی ہے! اور اس کا بہترین اظہار ”ادب“ میں ہوتا ہے! جس ”تحریک“ کو بھی دیکھئے اس کی کامیابی کے بنیادی محرکات میں اس معاشرے کے ادبا اور شعراء کا کردار ناقابل فراموش رہا ہے! اور آج کا ”نوائے وقت“ دائیں یا بائیں سے بلند ہو کے صرف اور صرف ”پاکستان“ اور ”استحکام پاکستان“ کے لئے ”نشان جمہوریت“ جناب مجید نظامی کی سربراہی میں ”اپنی منزل“ کی طرف بڑھتا نظر آرہا ہے!
پاکستانی عوام نے منزل کا سراغ پا لیا ہے! ”عدل اور احسان“ پر مبنی معاشرے کے قیام کے علم برداروں کے ساتھ ”نوائے وقت“ کی کریمانہ محبت کا اظہار ان عناصر کی بھی نشاندہی کرتا نظر آرہا ہے‘ جنہیں مستقبل بہت بڑی ذمہ داری سونپنے والا ہے! پاکستانی عوام کے جھکے ہوئے کاندھے وہ بوجھ ”ووٹ کے زور پر“ جھٹک دینے کے اہل ہو چکے ہیں‘ جو ان کی گردن میں طوق کی طرح ڈال دیا گیا ہے! اور آنے والے زمانے میں دو جماعتی نظام کا التزام از خود ہوتا دکھائی دینے لگا ہے!
اس تمام سفر کے دوران اہل کارواں‘ ”جرس کارواں“ کے ساتھ اپنے غم بھول کر قومی اہداف کے حصول کے لئے ”پاپیادہ“ چلتے رہے! وقت آگیا ہے کہ اب ان کے لئے ایک مضبوط ریاست کے ”مضبوط تر ستون“ مہیا رہیں اور ہم ایک ”مضبوط تر ریاست“ کے طور پر ابھریں! ہمارے بارے میں ”ناکام ریاست“ جیسی تذلیل آمیز اصطلاحات کا استعمال بند ہو اور دنیا پر ثابت کر دیں کہ ہم اپنے مسائل خود حل کرنے کے لائق تھے مگر ہم پر کبھی ”اعتماد“ کیا ہی نہیں گیا!
پاکستان کے دانشور طبقات بہت ژرف نگاہی اور باریک بینی کے ساتھ لب کشا ہو رہے ہیں! تمام نیوز چینل نئے پروگراموں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ رہی ہے کہ شرکاء کو ”لڑا بڑا“ کر ”چینل پالیسی“ چلانا ممکن نہیں رہی! نواز۔ زرداری ملاقات قوم کی بیداری کے لئے بہت کچھ لے کر آرہی ہے!
جناب شہباز شریف کی ”سیدھی سی بات“ کے ساتھ ذرائع ابلاغ کا حالیہ ”سلوک“ پاکستانی سیاست میں ”فرنٹ مینوں“ کی قسمت پر مہر لگا چکا ہے! اور یوں اپنے اپنے ادارے کا ”اعتبار“ گنوا دینے والے لوگ ابھی یہ بات نہیں جان پائیں گے کہ انہوں نے اس لڑائی میں کیا ”شے“ گنوا کر محض ”اشیائ“ کے ڈھیر حاصل کئے ہیں اور اس ڈھیر کا تعفن اپنے تمام ناظرین کے لئے کیسی ”سر گرانی“ کا باعث بنا رہا ہے! بقول جناب شہزاد اظہر
بس ایک پل کو تب و تاب دیکھیئے میری
میں جھلملا کے دوبارہ نظر نہیں آتا
نجی چینلز کی جھلمل سکرینیں اب روشنی کی جگہ اندھیرے تقسیم کر رہی ہیں اور ”لوڈشیڈنگ“ اب اطمینان کا سانس مہیا کرنے لگی ہے!
a
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں