بدترین بیماری
رفیق ڈوگر ـ 17 مارچ ، 2010
ہاں تو جو ایک اور محاورہ زندہ و جاوید کر دیا ہے۔ نظم رواں نے وہ کچھ اس طرح ہے کہ مچھلی پتھر چاٹ کر ہی واپس لوٹتی ہے۔ اگر کسی شکاری کے جال میں کوئی ایسی مچھلی آ جائے کسی چھوٹے بڑے جوہڑ میں سے، جو اسے پسند نہ ہو یا پھر بہت زیادہ پسند آ جائے اور وہ اسے کسی دریا میں یا سمندر میں پھینک دے تو وہ مچھلی اس بحر بیکراں کو اپنی ملکیت جان کر جولانیاں دکھانا شروع کر دیتی ہے پانی کے بہاﺅ کے اُلٹے رخ تیرنا شروع کر دیتی ہے اسے اپنی ہی ملکیت جو سمجھ رہی ہوتی ہے۔ لوٹتی تب ہے جب کسی چٹان سے ٹکرا کر اپنا سر پھوڑ لیتی ہے۔ نا آشنا جو ہوتی ہے دریا اور سمندر سے اس کی تہہ میں پائی جانے والی چٹانوں کے وجود سے اور ان کی اصلیت سے تو پھر جو بھی کوئی مینڈک یا کچھوا ایسی انجان مچھلی کی پانیوں کی روانی کے اُلٹے رخ جولانیوں پر ڈھول بجائے وہ اس کا عاشق ہوتا ہے یا کسی نئے شکاری کا ایجنٹ ہے؟ وہ جو بھی ہو ایسی مچھلی کا اصل دشمن تو اس کا اپنا اندھا پن ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس بے چاری مچھلی کا اندھا پن جسے کوئی شکاری کسی جال سے بچا کر کسی بحر میں پھینک دیتا ہے خلاق المعانی ابو طالب کلیم کا فرمان ہے
روشن دلاں خوشامد شاہاں نگفتہ اند
آئینہ عیب پوش سکندر نمی شود
یہ کہ ایسے اہل فکر و دانش جن کے دل روشن ہوں وہ کبھی بھی شاہوں کی خوشامد نہیں کیا کرتے کیونکہ فکر روشن آئینہ ہوتی ہے اور آئینہ تو سکندر اعظم کا عیب بھی نہیں چھپایا کرتا۔ سکندر یونانی مار دھاڑ کرتا ہوا وہاں تک آ گیا تھا جسے زمانہ قدیم میں گندھارا کہا جاتا تھا۔ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے نواح میں کہیں اس کے دربار عام میں کسی تاریک دل خوشامدی نے اس کی خدمت کا قصیدہ عرض کرنا شروع کیا ہی تھا۔ کہ اس نے حکم دیا تھا کہ اسے اٹھا کر پاس سے گزرتے دریا میں پھینک دیا جائے اس کے اس حکم پر فوری عمل کیا گیا تھا ”یہ میرا دشمن ہے“ سکندر نے اس سزا کا سبب بتایا تھا اس کا یہ فیصلہ اس کے ساتھ سفر کرنے والے تاریخ نویسوں کی تاریخوں میں محفوظ ہے۔ مولانا رومی کا فرمان ہے
علتے بدتر زپندار کمال
نیست اندر جانت اے مغرور منال
یعنی اے مغرور گمراہ تیری روح میں کمال کے گھمنڈ سے بدتر کوئی اور بیماری نہیں اس مرض کا علاج مولانا نے کیا بتایا ہے؟ جاننے والے جانتے ہیں۔ اللہ ہر مچھلی کو ایسے علاج کی چٹان سے ٹکرا جانے سے بچا لے لیکن اگر کوئی، ایسی ناسمجھ مچھلی کو چٹانوں سے بچنے کا مشورہ دے اس کے بچ جانے کا آرزو مند ہو تو جوہڑوں کے گند مند پر پلنے والے مینڈک اور ان کے سردار ٹرانے کیوں لگتے ہیں؟ اگر کوئی مینڈک برا نہ مان جائے تو روشن دل دانائے روم کے دو اشعار کا ترجمہ یہ ہے کہ ”فرعون کے انجام کا حال سن کر عقلمند انسان تکبر اور مستی کو اپنے دل سے نکال دیتا ہے لیکن اگر وہ غرور اور خود پرستی کو اپنے دماغ سے نہیں نکالے گا تو آنے والے لوگ اس کی گمراہی سے عبرت حاصل کریں گے“ کیا ویسے ہی جیسے جانے والے باوردی فرعون کے انجام سے چودھری برادران تک عبرت حاصل کر رہے ہیں ان دنوں؟ یاد ہے آپ کو اس آمریت کے گندمند پر پلنے والے مینڈکوں اور ان کے سرداروں کی ٹرٹراہٹ۔ یاد کریں اور عبرت حاصل کریں اس کے اور اس کے مینڈکوں کے انجام سے ،اگر آپ میں عبرت حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو۔ ورنہ دانائے روم کا فرمان ہے
ورتو دیو خویشتن را منکری
چوں روی آنجا تو روشن بنگری
مکر خود راگر تو انکار آوری
از ترازو و آئینہ کے جاں بری
یعنی اگر تو اپنے اندر شیطان کے وجود سے انکار کرتا ہے تو اس روز جب تیرے اعمال کو ترازو میں رکھا جائے گا اور تجھے آئینہ دکھایا جائے گا تو کسی طرح جان نہیں بچا سکے گا۔
ہاں تو یہ کارنامہ نہیں اس نظام اور اس کے مالکوں کا کہ انہوں نے پنجابی زبان کے پرانے محاورے پھر سے زندہ کر دئیے ہیں؟ کیا پنجابی ادبی بورڈ والے اس خدمت کے ادبی اعتراف کے لئے کوئی چھوٹا موٹا سیمینار کریںگے؟ وہ نہیں تو سرائیکی والے ہی کچھ کریں ان کا تو ویسے بھی فرض بنتا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سرائیکی تحریک کے قائد عوام تاج محمد لنگاہ نے ”سرائیکی قوم“ کے علاقہ کا جو نقشہ بنایا اور ہمیں دکھایا تھا اس میں ”لاڑکانہ تک پھیلے سرائیکی لوگ“ شامل تھے بلکہ اس سے بھی آگے بلوچستان کا کچھ علاقہ بھی تھا اور صوبہ سرحد کا ڈی آئی خاں کا علاقہ بھی اور بے نظیر کے پہلے دور میں حاکم علی زرداری نے اسلام آباد میں دیوان فریدؒ کی جسجو تعارفی تقریب کا اہتمام کرایا تھا اس میں انہوں نے ”ہم سرائیکیوں پر پنجابیوں کے مظالم“ گنوائے تھے اس حوالے سے ملک پر حکمرانی کس کی ہے بنتا نہیں سرائیکی والوں کا یہ فرض؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں