صوفی صدر آصف علی زرداری؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 17 مارچ ، 2010
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام عالمی صوفی ازم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف زرداری صوفی صدر لگ رہے تھے۔ کم از کم اس وقت تو ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔ صدر زرداری ہمیں سنبھلنے نہیں دیتے، کبھی کبھی ان کی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ کبھی بہت اچھی لگتی ہیں، کبھی وہ پریشان کر دیتے ہیں کبھی حیران کر دیتے ہیں جیل میں آصف زرداری سے کئی ملاقاتیں ہوئیں، کچھ ملاقاتیں ایوان صدر میں بھی ہوئیں، قیدی تو وہ یہاں بھی ہیں مگر جیل میں قیدی اور قائد میں کوئی فرق محسوس نہ ہوتا تھا۔ اب ہوتا ہے، قائد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو قیدی سمجھتا رہے قیدی ہونے اور اپنے آپ کو قیدی محسوس کرنے میں فرق ہے۔ یہ فرق آدمی کو بھول جاتا ہے، رائے ونڈ محل میں اٹک قلعہ کیسے یاد رہ سکتا ہے، شریف برادران اپنے اندر اٹک اٹک کے سیاست کریں تو بات بنے۔ جو مشکلیں ایوان صدر میں صدر زرداری کو پیش آئیں وہ آج کسی دوسرے سیاستدان کو درپیش نہیں۔ صدر زرداری نے اے پی این ایس کے اجلاس میں مجیب الرحمن شامی کی بامعنی اور معنی خیز تقریر کے بعد کہا کہ میں نے لکھنے والے اور بولنے والے لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کیا۔ وہ شاید جانتے ہوں کہ صبر کا اجر اسے ملتا ہے جو اجر کا طالب نہیں ہوتا محبت کرنے کا اجر محبت کرنے کی بے قراری اور سرشاری میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بات حساب کتاب میں آ جاتی ہے اس سے بالاتر ہو کر آدمی کو بغیر حساب ملتا ہے اور وہاں سے ملتا ہے جہاں سے اسے امید بھی نہ ہوتی، اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر زرداری کی بجائے کوئی اور ایوان صدر میں ہوتا تو خودکشی کر چکا ہوتا۔ وہ زندہ ہیں بلکہ زندہ تر ہونے کی خواہش میں مبتلا ہیں خواہش اور کوشش میں فاصلہ نہیں بڑھنا چاہیے۔ جتنی تنقید صدر زرداری پر ہوئی، جتنی جائز ناجائز مخالفت ان کی ہوئی کوئی اور اسے برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ بے نظیر بھٹو کو صدر زرداری اپنی لیڈر کہتا ہے اس نے بیوی کو بی بی بنا دیا ہے مگر بے نظیر بھٹو کو یہ لوگ کب کے ایوان اقتدار سے نکال باہر کر چکے ہوتے۔ صدر زرداری نے کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی اور اپنی شکست کو شکست فاتحانہ سمجھ لیا ہے۔ آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ کس حکمران کو راس ہے آنے والے زمانے میں سب کو پتہ چل جائے گا۔
برادرم سجاد جہانیاں کے کالم میں اے پی این ایس کے اجلاس کی بات بہت خوبصورتی سے ہوئی ہے۔ میں وہاں نہ تھا، میں صوفی کانفرنس میں بھی نہ تھا۔ فخر زمان نے پنجابی کانگریس میں بھی اس طرح کی محفلیں کرائی تھیں اس کا غیر سرکاری انداز سرکاری اسلوب سے اچھا تھا مگر ایوان صدر میں سرکاری اجلاس کو واقعی صدر زرداری نے صوفیانہ محفل بنا دیا۔ میں نے جیل میں زرداری صاحب سے پوچھا تھا کہ رہائی کے بعد کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”میں اپنے اونٹوں سے ملوں گا“ اونٹ ایک صابر جانور ہے مگر وہ اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے سے انتقام ضرور لیتا ہے۔ صدر زرداری کو بے نظیر بھٹو کی یہ بات یاد ہے ، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ وہ اگر پاکستان سے انتقامی سیاست کا خاتمہ کرے اور لوگوں کو ریلیف دے حکمرانوں کو دکھ بانٹ لینے کا طریقہ تو آنا چاہئے۔ صدر زرداری نے کہا کہ ”میں موت سے نہیں ڈرتا “ مگر زندگی کا خوف اس سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ مولا علیؓ کے ساتھ تصوف کے چار سلسلوں میں سے تین سلسلے روحانی طور پر منسوب ہیں۔ انہوں نے فرمایا موت میری محبوبہ ہے، یہ کتنی رومانٹک بات ہے۔ موت سے عشق کے لئے زندگی سے پیار بڑا ضروری ہے۔ زندگی جو آج شرمندگی اور درندگی کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے۔ زندگی کو ایک اور زندگی بنانے والے موت کو محبوبہ بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ سوہنی موت کے لئے سوہنی زندگی ضروری ہے۔ مولا علیؓ نے یہ بھی فرمایا کہ ”موت میری محافظ ہے“ کسی کی موت کل ہے تو آج اسے کوئی نہیں مار سکتا۔ ہمارے حکمرانوں اور افسروں نے سیکورٹی کے نام پر جو تماشا بنا رکھا ہے وہ عوام کو صحیح طرح سے تماشائی بننے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔
صدر زرداری نے نہ جانے یہ بات کس جذب و مستی میں کہی ہے کہ ”میں موت کا انتظار کرتا ہوں“ موت کا اعتبار موت کے انتظار سے زیادہ خوبصورت ہے، اس نے اپنے ہاتھوں سے بے نظیر بھٹو کو دفنایا اور یہ خواہش کی کہ ”میں یہاں دفن ہونا چاہتا ہوں‘ میں موت کی کوٹھڑی سے ایوان صدر میں آیا ہوں“ بی بی اور بھٹو ایوان اقتدار سے موت کی کوٹھڑی کی طرف گئے تھے راستہ ایک ہے مگر سفر مختلف ہے آدمی مسافر نہ بنے ہمسفر بنے
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
صدر نے کہا کہ صوفی ازم کو فروغ دے کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ تصوف کا ذوق ہر کسی کے پاس ہونا چاہیے اس کے بغیر زندگی دہشت گردی نہیں تو دہشت زدگی ضرور ہے اور دہشت زدہ بہرحال دہشت گرد سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس محفل میں کیا کوئی آدمی تھا جسے پتہ ہو کہ صوفی کون ہوتا ہے ۔ قرة العین حیدر کہتی ہے کہ ”صوفی وہ ہے جو منع نہیں کرتا، جو طمع نہیں کرتا اور جو جمع نہیں کرتا“ صوفی ازم کانفرنس میں شریک لوگ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان صفات کا عکس بھی ان کے دل میں ہے۔ ان کی زندگی اس کے برعکس تو نہیں گزر رہی؟ میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیر نیازی کو مخدوم گیلانی کے شہر ملتان، ایک مشاعرے میں چند سو روپے زیادہ مل گئے تو اس نے مجھے پکارا کہ ادھر آو، میں افراط زر کا شکار ہو گیا ہوں! جب تک اوپر کے پیسے اس نے لٹا نہ دیئے اسے چین نہ آیا اب جن کاروباری سیاستدانوں، حکمرانوں، افسروں کے پاس زر، زن، زمین کا افراط ہے وہ لوگوں کا سکھ چین اڑائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ انبار بیرون ملک کیوں لگا رکھے ہیں۔ صوفی ازم کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ سب کچھ لا کے مادر وطن پر نچھاور کر دیا جائے۔ صدر زرداری اس حوالے سے پہل کریں یہ لمحہ جو آج کل ان پر طاری ہے اس سے کبھی نہ نکلیں اور لوگوں کو خون اور آنسووں کی دلدل سے نکالیں، خدا کی قسم وہ یہ کر سکتے ہیں بس وہ ایسے ہی رہیں جیسے اس تقریر کے دوران تھے۔ کیا ایک اور اچھی بات انہوں نے کی کہ درد دینے والا بہادر نہیں ہوتا، درد سہنے والا بہادر ہوتا ہے اور انہیں معلوم ہے کہ بہادر کبھی ظالم نہیں ہوتا
جہڑیاں تھانواں صوفیاں جا کے لیئاں مل
اوہ اوہناں دے درد دی تاب نہ سکیاں جھل
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں