ملک پیارا کہ تخت!
ریاض الرحمن ساغر ـ 17 مارچ ، 2010
سرحدی، سندھی، بلوچ
اور پنجابی کی سوچ
ایک ہے اور نیک ہے
مل کے دشمن لو دبوچ
مت نہ ہوآپس میں تنگ
سب کے دل میں ہو امنگ
جیت لیں دشمن سے جنگ
ہے قہوی ایک رنگ
قوم یہ مخلوط ہو
ملک یہ مضبوط ہو
خبث باطن کے سبب
کیوں کوئی مخبوط ہو
کہہ رہا ہے کون کیا
سمجھو مطلب بات کا
نیتوں کا حال تو
بس خدا ہے جانتا
عذر گر کامل نہ ہو
بحث لاحاصل نہ ہو
ترک کر دو راستہ
جب کوئی منزل نہ ہو
صرف تہمت مت دھرو
دم حقیقت کا بھرو
راہ دکھلاو درست
قوم کو اے رہبرو
مرحلہ یہ سخت ہے
یہ گھڑی بدبخت ہے
تم کو پیارا ہے یہ ملک
یا کہ تاج و تخت ہے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں