آصف علی زرداری کا دھرنا
رفیق ڈوگر ـ 17 مارچ ، 2009
پندرہ مارچ کا سارا دن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صاحب کو ’’آصف علی زرداری کو رہا کرو‘‘ کے نعرے لگاتے رہے ان کی پارٹی اور کابینہ کے کچھ ارکان بھی ان کے ساتھ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ان کے قائد عوام اور بی بی جی کی پارٹی اور جموریت کو بچانے کے لئے ان کے صدر آصف علی زرداری کی رہائی ضروری ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے کا چوک اسی طرح میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ جس طرح 9اپریل 1977ء کے دن بنا رہا تھا۔ میاں محمد نواز شریف کا لانگ مارچ رواں دواں ہو گیا تھا صدر پاکستان آصف علی زرداری اس صورت حال کے خلاف ایوان صدر میں دھرنا مارے بیٹھے تھے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ’’آصف علی زرداری کو رہا کرو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے لیکن ان کے مشیر داخلہ اور گورنر پنجاب ان کی آواز پر کان دھر رہے تھے اور نہ ہی اپنے اور ہمارے صدر کی دھرنا بے بسی پر کوئی توجہ دے رہے تھے۔ آخر رات گئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل کیانی سول لباس میں ایوان صدر میں داخل ہوئے اور آصف زرداری کو دھرنا ختم کرنے پر تیار کر لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی کی روحیں لازماً ان کی شکر گزار ہو رہی ہوں گی۔ جنرل کیانی پہلے بھی ان کی رہائی یا سلجھائی کے لئے آتے رہے تھے مگر اس وقت وہ وردی میں ہوتے تھے اور کسی باوردی شخص کی مداخلت کو وہ پسند نہیں کر سکتے تھے۔ وہ سول لباس میں آئے تو آصف علی زرداری نے دھرنا ختم کر دیا لیکن کیا انہیں رہا بھی کر دیا ہے ان کے مشیر داخلہ اور گورنر پنجاب نے؟ بلاول بھٹو زرداری ابھی زیرتعلیم و تربیت ہیں۔ اس سے فارغ ہو کر انہیں واپس آنا ہے اور گورنر پنجاب نے انہیں لاہور سے رکن اسمبلی منتخب کرانا ہے۔ اس پارٹی خدمت کرنے سے پہلے وہ اس کے باپ کو کیسے رہا کر سکتے ہیں؟ یہ تو ان کی اپنی پارٹی کے اصل مالک سے بے وفائی ہو گی اور ایسی حرکت انہوں نے کبھی کی نہیں۔ مشیر داخلہ جو بھی کوئی فریضہ ہم پاکستانی عوام سے تنخواہ وصول کر کے انجام دے رہے ہیں‘ ان کے ذمہ انہوں نے لگایا ہوا ہے جنہوں نے این آر او کرایا تھا۔ اس فریضہ میں یوسف رضا گیلانی کے اور ہمارے صدر مکرم کو کسی بھی صورت رہا نہ کرنا بھی شامل ہو گا۔ ان کی بھی مجبوری ہے وہ کیا کریں؟ وہ مشیر تو ہیں مان لیا ملازم تو نہیں ان کے۔ اور ہم اہل پاکستان کے۔ اور وہ مشیر ہیں کسی اور کے انہیں ورتتا کوئی اور ہے۔ مجبوری ہے ان کی۔ ان کی سول کپڑوں میں فوجی مداخلت پر صدر مکرم نے دھرنا ختم کر دیا۔ وزیراعظم نے عدلیہ کی بحالی کا اعلان کر دیا۔ اسی طریقہ سے جس سے ان کے یا ان کے پارٹی مالک کے ماہرین قانون و قنونی کہا کرتے تھے کہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اب ہو گیا ہے تو وہ کیا فرماتے ہیں بیچ اس بحالی کے؟ وہی جو قوم کے خرچ پر ساری قوم کو عذاب میں مبتلا رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ کرے گا ان میں سے کوئی شرم محسوس‘ ہو جائے گا اس شرم کے مارے ہم عوام کے خرچ پر ہمارا خون چوس چوس کر موٹا اور مزید چھوٹا ہونے کے کسی منصب سے الگ؟ امید تو نہیں۔ حکمرانی تو ہے ہی بے شرمی کی ہم پر مگر اس شرم والے معاملے کو چھوڑیں۔ اس کا داخلہ تو کسی چھوٹے سے ایوان میں بھی نہیں ہوتا۔ صدر آصف علی زرداری کے دھرنا چھوڑنے یا توڑنے کا سول لباس میں فوجی حکم مان لینے سے ملک کی وکیل برادری دھرنے کی آزمائش سے بچ گئی اور ان کی دو سال طویل آزمائش ختم ہو گئی اس کے لئے اسے کس کا شکر گزار ہونا چاہئے؟ ذاتی طور پر تو ہم اس کالا کوٹ برادری کے ہی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارے صدر مکرم کو دھرنا چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اگر وہ عزم و ہمت نہ دکھاتے تو میاں نواز شریف‘ قاضی حسین احمد اور عمران خان کیا کر سکتے تھے؟ اصل جنگ تو انہوں نے لڑی ہے باقی تو ان کے اتحادی تھے۔ اس جنگ میں کامیابی سے ہاتھ آنے والے مال غنیمت میں سے اس ملک اور اس کے عوام کے حصے میں بھی کچھ آئے گا۔؟ امید تو کرنا ہی چاہئے میاں نواز شریف نے ایک بار نہیں کئی بار اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے یا اپنے بھائی کے لئے نہیں جو بھی کچھ کر رہے ہیں ہمارے لئے اور ہمارے ملک کے لئے ہی کر رہے ہیں۔ اب عدلیہ تو آزاد ہو رہی ہے۔ کیا انصاف بھی آزاد ہو جائے گا؟ امید ہی کی جا سکتی ہے اور وہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ دنیا باامید قائم ہے۔ اگر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پارٹی مالک و مختار کو رہا نہ کروا سکے تو جو بھی خسارہ ہو گا ان کی پارٹی کے نابالغ مالک کا ہی ہو گا۔ اس پارٹی کو جس مقام اور منزل تک کوئی فوجی حکمران کبھی نہیں پہنچا سکا تھا بے وردی حکمران نے ایک سال میں پہنچا دیا۔ کیا شریف برادران اپنے برادر خور کی اس خدمت سے بھی انکار ہی کریں گے؟ یہ تو احسان فراموشی ہو گی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کا دھرنا توڑنا ایک نئے دور کا آغاز ہے اس حوالے سے تو ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ اس بار جو بھی ہوا ہے کسی اندرونی یا بیرونی ضامن کی ضمانت کا نتیجہ نہیں۔ شریف برادران کسی این آر او کے پابند نہیں مگر کیا وہ اپنی اس روایت اور آزادی کو برقرار رکھیں گے؟ اگر رکھیں اور رکھ سکیں اور کسی نئی بھوربن سودے بازی سے دامن بچا سکیں تو ہم کہہ سکیں گے کہ گول دائرے میں سفر سے نکلنے کی کوئی صورت بن رہی ہے مگر کیا سول لباس میں فوجی مداخلت کے بغیر ہماری قیادت و سیادت اس کامرانی تک پہنچ سکی تھی پہنچ سکتی تھی؟ مداخلت تو ہو گئی جس بھی انداز میں ہوئی۔ کہاں گئیں ہماری سیاسی قیادت و سیاست کی صلاحیتیں؟ چلو اس کو بھی چھوڑیں اور سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ مل کر دعا کریں کہ اللہ ان کے اور ہمارے صدر کو رہائی نصیب کرے اس کے بغیر نہ پارلیمنٹ آزاد ہو سکتی ہے نہ قانون کی حکمرانی قائم ہو سکتی ہے مگر جس قسم کی رہائی کا ہم نے صدر فضل الٰہی کے حوالے سے ذکر کیا تھا صدر آصف علی زرداری کی رہائی اس سے کافی مختلف ہے۔ وہ ان کی رحمان ملک سے رہائی کی دعائیں کر رہے ہیں۔ گورنر پنجاب سے تو شاید وہ رہا ہو جائیں مگر رحمان ملک سے ان کی رہائی بہت مشکل دکھائی دیتی ہے۔ آئو ہم سب مل کر یوسف رضا گیلانی کی آواز میں آواز ملا کر درخواست کریں۔ ’’آصف علی زرداری کو رہا کرو!‘‘
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں