یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین....؟

بشری رحمن ـ 17 جنوری ، 2010
آسمان سے برف برس رہی ہے۔ زمین پر دھند نے خیمے لگا رکھے ہیں۔ ماحول کی سانسیں اٹک سی رہی ہیں۔ درختوں اور پتوں نے گھبرا کر اپنی زیب و زینت اتار پھینکی ہے۔ سال بھر اترانے والے اور دل و ذہن کو گرمانے والے سبز پتے رنگ روپ چھوڑ کر زمین پر ڈھیر ہوئے پڑے ہیں۔ قوی الجثہ درختوں کی شاخیں ننگی ہو گئی ہیں۔ یخ بستہ ہوا ہاتھوں میں کوڑے لئے پھرتی ہے۔ جہاں سے گزرتی ہے لگاتی جاتی ہے۔ اڑاتی جاتی ہے۔ بتاتی جاتی ہے یہ نقشہ بھی بدلنے کو ہے۔ مگر بنی نوع انسان کی مٹی میں تو خالق نے چٹکی بے قراری کی، چٹکی بے یقینی کی، چٹکی وسوسوں کی اور چٹکی جلد بازی کی ڈال رکھی ہے۔ موسموں سے لاپرواہ، وہ اپنے مسائل کا واویلا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ گھر میں آٹا نہیں۔ چھت پر بجلی نہیں .... چولہے میں آگ نہیں .... سڑکوں پر امن نہیں .... جیب میں پیسہ نہیں۔
مگر پھر بھی پہیہ چل رہا ہے۔ کون چلا رہا ہے وقت کا پہیہ۔
ایسے میں سیاسی صورتحال بڑی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے بڑی جمہوری حکومت ایک چوراہے میں پھنس گئی ہے اور سب سے بڑی اپوزیشن راستہ دینے سے گریزاں ہے۔
قارئین کو یاد ہو گا مارچ 2008ءمیں ہم نے انہی کالموں میں لکھا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا اتحاد غیر فطری ہے۔ ان کا مزاج اور کلچر ایک دوسرے سے جدا ہے۔ ان کا ماضی ایک دوسرے سے الگ ہے۔ یہ ایک موڑ پر، ایک نظریہ ضرورت کے تحت اکٹھے ہوئے ہیں۔ ضرورت پوری ہونے کے بعد اکثر نظریہ بکھر جایا کرتا ہے۔ ملکی سیاست میں اس سے پہلے بھی کئی ایسے ضرورت والے نظریات ابھرے تھے۔ مشرق اور مغرب کو ایک مالا میں پرونے کی کوشش کی گئی تھی مگر کہاں ہے وہ مالا۔ اور کہاں ہیں وہ لوگ۔
سیاست میں اتحاد ضروری ہوتے ہیں اور جمہوریت میں اتحاد مجبوری ہوتے ہیں۔ کل کے دشمن آج کے دوست ثابت ہو جاتے ہیں۔ ماضی کے دوست حال میں سب سے بڑے حریف بن جاتے ہیں مگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں کوئی ادا مشترک نہیں ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ماضی بعید میں دونوں میں دشمنی کی ادا والی مخالفت رہی ہے۔ قارئین کو 88ءاور 90ءوالی اسمبلیاں تو یاد ہوں گی۔ ایک دوسرے کی زبانوں نے ایک دوسرے کے بارے میں کیا نہیں کہا۔
سیانے کہتے ہیں تلوار کا زخم مندمل ہو جاتا ہے مگر زبان کا زخم ہمیشہ ہرا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طرف کے لیڈران کے منہ سے تلخ فقرے برآمد ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بہت سنبھالتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کچھ کہتے کہتے رہ جاتے ہیں، رک جاتے ہیں۔ جہاں وہ رکتے ہیں۔ وہاں سے سرا ان کے حواری پکڑ لیتے ہیں اللہ سلامت رکھے ان کے حواریوں کو۔
آج کل اسلام آباد میں نیشنل اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ نون کی نمائندگی میں ان کا اپوزیشن لیڈر فل سپیڈ سے جا رہا ہے اور صدر آصف علی زرداری پر تابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں۔ اسمبلی سے باہر یا الیکٹرانک میڈیا پر دونوں جانب کے نمائندے ایک دوسرے کی خوب خبر لے رہے ہیں۔ الزامات کا جواب دے رہے ہیں اور لفظوں کی ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے۔
یہ محض ایک اتفاق نہیں ہے کہ جب صدر زرداری لاہور آئے تو شریف برادران ملک سے باہر تھے اور پروٹوکول دینے کی اذیت سے بچ گئے۔
ایسے میں گورنر سلمان تاثیر کو کچھ بھی کہنے کی اجازت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل کام جناب سلمان تاثیر ہی کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں اندر ہی اندر پکنے والا لاوا باہر نکل آئے اور سست روی سے ہونے والے کام میں تیزی آ جائے۔
مسلم لیگ نون پوچھتی ہے کہ سب سے بڑی جمہوریت کے بادشاہ یعنی صدر صاحب کو بار بار ساری صوبائی اسمبلیوں اور اب نیشنل اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کیا ضرورت ہے جبکہ ایک بار وہ اکثریت سے سے یہ ووٹ لے چکے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں۔ جب سربراہ کمزور پڑنے لگتا ہے تو اس کو اعتماد کے ووٹ کی آکسیجن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اپنی پارٹی کی طرف سے بھی بار بار کی یقین دہانی کی ضرورت ہوتی ہے حالانکہ یقین اور اعتماد تو انسان کے اپنے اندر ہوتا ہے من کی دنیا میں ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے مگر اس کی بدنصیبی یہ رہی ہے کہ جب بھی برسراقتدار آتی ہے سارے ملک کو پیپلز پارٹی بنا لیتی ہے حالانکہ سارا ملک پیپلز پارٹی نہیں ہے۔ پھر جھنڈے پیپلز پارٹی کے نظر آتے ہیں۔ بندے پیپلز پارٹی کے نظر آتے ہیں۔ کارندے پیپلز پارٹی کے نظر آتے ہیں۔ غریب پیپلز پارٹی کے نظر آتے ہیں۔ صنعتکار، تاجر، آجر، لاچار، بیمار اور گلفرار سب پیپلز پارٹی کے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ سوچ اور سکیم میں توازن ضروری ہے۔ ایک طبقہ ہے جو ہر حکومت میں مفادات حاصل کرنے کے لئے نکل آتا ہے۔
جتنے پروگرام بینظیر صاحبہ کے نام سے شروع کئے گئے ہیں۔ ان پیسوں سے پورے ملک میں بجلی اور گیس کا بحران دور ہو سکتا تھا۔ اگر ساری قوم کو یکساں طور پر مراعات ملنے لگیں تو بار بار اعتماد کے ووٹ کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہمارے ہاں ہر سیاسی حکومت غریبوں کو بھکاری بنانے پر آمادہ رہتی ہے۔ سائل بنا کے سہولیات دیتی ہے۔ ایسے بھی غریب ہیں جو ہر حکومت سے سہولیات لے لیتے ہیں اور پھر سائل بن کر آ جاتے ہیں۔ کامیابی تو یہ ہے کہ غریب نواز پالیسیاں بنائی جائیں اور گھروں میں بیٹھنے والے شرفاءکو سہولیات میسر آئیں۔ بجلی گیس سستی ہو، آٹا اور چینی سستی ہو، پنجاب میں روٹی سستی کرنے سے اور سندھ میں چینی سستی کر دینے سے غریب کے حالات نہیں بدل سکتے ....
ایسے ہی بے یقینی اور بدگمانی کے حالات میں 24 فروری کو ضمنی انتخابات کا اعلان ہو گیا ہے اور حلقہ 55 کے الیکشن میں ایک نیا اتحاد سامنے آ گیا ہے۔ نئے الزام اور نئے اہتمام بھی سامنے آئیں گے۔ تاہم الیکشن کروانے کا اعلان خوش آئند ہے۔ جب ہر نشے میں انجماد آ گیا ہے تو کم از کم الیکشن کی وجہ سے کچھ ہلچل تو ہو گی۔ بہت سے فیصلوں کا انحصار حلقہ 55 کے نتائج پر ہو گا۔ بہت سی خوش فہمیاں دم توڑیں گی اور بہت سی پیش بندیاں کام آئیں گی۔ عوام بیچارے صرف اس بات پر خوش ہو رہے ہیں کہ اب سارا مہینہ بس عوام عوام کی گردان ہو گی تاہم ایک میلہ پارلیمنٹ کے اندر بھی لگنے کو ہے
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں