مفاہمت، سینٹ اور حکومت پنجاب!
آفتاب اقبال ـ 17 فروری ، 2009
سندھ سے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے گیارہ سینیٹر بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔جہاں تک پنجاب حکومت کا تعلق ہے تو لگتا کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی، ق لیگ اور کسی حد تک نواز لیگ بھی شہباز حکومت کے پیچھے لٹھ لے کر پڑی ہوئی ہے۔اس جملۂ معترضہ میں نواز لیگ کی نمائندگی وہ عناصر کررہے ہیں جو دونوں بھائیوں کی نااہلی کے لئے دن رات دعا گو ہیں تاکہ کسی نہ کسی حوالے سے انکا اپنا سکوپ پیدا ہوسکے۔ مگرسچ پوچھیںتو شہباز شریف کی حکومت بھی فقط آصف علی زرداری ہی کی وجہ سے قائم ہے کہ موصوف آج بھی مفاہمت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ البتہ بعض اوقات پارٹی کے اندر موجود اینٹی شہباز پریشر اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ آپ بلبلا اٹھتے ہیں اور پھر یہ بات بھی ہم ریکارڈ پر لاچکے ہیں کہ آصف زرداری کے منہ سے ہم نے شہباز شریف کی تعریف ایک سے زائد مرتبہ سن رکھی ہے۔ بلکہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے ایک خصوصی سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ شہباز ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور تگڑے منتظم ہیں مگر گفتگو اور معاملات میں میرا ’’کمفرٹ لیول‘‘ نواز شریف کے ساتھ بہت اونچا ہے۔ یعنی یہ کہ میں انکے ساتھ ڈیلنگ کرتے وقت زیادہ آسانی محسوس کرتا ہوں۔ اس پر ہمارا دل تو چاہا کہ اگلا سوال بھوربن سمیت تمام سابقہ ڈائیلاگ بارے کریں مگر ایوان صدر میں بیٹھ کر یہ سوال کرنا ویسے ہی خاصا نامناسب تھا۔
سلمان تاثیر اگر شہباز شریف کی جان چھوڑے رکھیں تو بخدا وہ ایک نہایت خوشگوار، خوش مذاق اور خوش خوراک آدمی واقعہ ہوئے ہیں۔ خوش خوراکی کے حوالے سے یہ بات شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سلمان تاثیر ہریسہ اور سری پائے کے انتہائی خونخوار حد تک رسیا ہیں۔ اگر آپ انہیں لاہوری کھابوں و دیگر مقویات پرپورے خشوع وخضوع کے ساتھ ہاتھ صاف کرتا دیکھ لیں تو جو احساس فوری طور پر آپکے دل میں گھر کرے گا وہ یہ ہے کہ بیچارے نوازشریف صاحب تو خواہ مخواہ بدنام ہیں، اصل ’’خورندے‘‘ تو آپ ہیں۔
سلمان تاثیر کے ساتھ جب بھی میڈیا اور خصوصاً اس کے کاروباری پہلو پر گفتگو ہوئی ہمیں بڑا لطف آیا کہ یہ شخص انتہا درجے کا صحیح الدماغ واقع ہوا ہے۔ مگر جب وہ شہباز شریف کی’’رخصتی‘‘ کا پلان یا فارمولہ اعداوشمار کی روشنی میں آپکے سامنے رکھتے ہیں، اس وقت انکی کیفیت ایک پرجوش اور پرعزم بچے کی سی ہوتی ہے جو چیزوں کو ’’اوورسمپلی فائی‘‘ یعنی ضرورت سے کہیں زیادہ آسان اور سیدھا سادہ کرکے سمجھا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نمبر گیم میں بھی شہباز شریف کے پیر بظاہر بہت مضبوط ہیں۔ کم ازکم تیس ’’فارورڈ بلاکیے‘‘ آج بھی انکا دم بھرتے ہیں اور اگر فلور کراسنگ کی بنیاد پر انہیں ڈی پورٹ کر بھی دیا جائے تو انکے بارِ دیگر منتخب ہونے میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں۔
سلمان تاثیر کی سب سے بڑی معصومیت یہ ہے کہ وہ چودھری برادران پر تکیہ کرنے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے۔ حالانکہ انہیں سمجھنا چاہئے کہ چودھری کہتے جو مرضی پھریں، مگر بالآخر کریں گے وہی جو انہیں سوٹ کرے گا اور سوٹ انہیں یہی کرے گا کہ کسی نہ کسی طرح رائیونڈ پہنچ جائیں۔ مثال کے طور پر جس دن سلمان تاثیر کی چودھری برادران کے ساتھ حالیہ میٹنگ تھی، اس روز بھی ہماری اطلاع کے مطابق چودھری پرویزالٰہی پرویز ملک کے گھر پر پورا ایک گھنٹہ نواز لیگ کے ساتھ مذاکرات فرما کر تشریف لائے تھے۔ ان مذاکرات میں نواز لیگ کی نمائندگی اسحاق ڈار نے کی اور لطف کی بات یہ ہے کہ گورنر پنجاب اس مذاکراتی میٹنگ سے یکسر غافل تھے۔ جب انہیں اس کا علم ہوا تو وہ یوں حیران ہوئے جیسے انہیں پہلی بار معلوم ہوا ہو کہ خالص اور خاندانی سیاستدان دکھاتے کھبی مگر مارتے سجی ہیں۔ آصف زرداری، جو حیرت انگیز حد تک باخبر واقع ہوئے ہیں، انہیں پرویزالٰہی کی اس خفیہ میٹنگ کا علم، میٹنگ شروع ہونے کے پانچ منٹ پہلے ہی ہوگیا تھا۔
شہباز شریف کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بھی منوں کے حساب سے خیرسگالی ملتی رہتی ہے۔ پیپلزپارٹی پنجاب اس بات پر بھی کافی دل گرفتہ دکھائی دیتی ہے۔ دو روز پہلے جب وزیراعظم نجی دورے پر لاہور آئے تو ائیرپورٹ پر انکا استقبال کرنیوالوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ اس قطار کے آخری سرے پر بعض ایسے احباب بھی نظر آئے جنہیں دیکھ کر باقاعدہ عبرت ہوتی ہے کہ ایسے لوگ اپنی نااہلیوں کے سبب کس آسانی سے راندۂ درگاہ بن جاتے ہیں۔
ائیرپورٹ کے اسی استقبالیہ اجتماع میں حمزہ شہباز اور وزیراعظم کے بیٹے عبدالقادر گیلانی ایک دوسرے کے ساتھ لگاتار نتھی رہے۔ جیالے اس پر بھی خوب تلملائے مگر شاید اس قسم کے اشارے انکے لئے پیغام کی حیثیت رکھتے ہیں کہ شہباز حکومت کے ساتھ پنگا مت لینا۔
کل لاہور میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے جس کے سبب یہاں خوب رونق رہے گی۔ ہمارا اشارہ خدانخواستہ صرف شیری رحمن کی آمد ہی کی طرف نہیں بلکہ اور بھی بہت سوں کی طرف ہے۔ ایک اطلاع جو شاید فی الحال بہت کم دوستوں تک پہنچ پائی ہیں، یہ ہے کہ صدر آصف زرداری بھی سینٹ الیکشن سے پہلے لاہور آرہے ہیں اور انکا یہ دورہ خاصا طویل المیعاد ہے یعنی موصوف پورا ایک ہفتہ یہاں قیام فرمائیں گے۔ ان سات دنوں میں سے انکا ایک دن رائیونڈ بھی گزرے گا۔
اس قماش کی خبریں اصحابِ ’’ق‘‘ کیلئے بیحد بوریت کا باعث بنتی ہیں مگر سینٹ الیکشن کے بعد یہ احباب ایک بار پھر تازہ دم ہوکر سلمان تاثیر کی ولولہ انگیز قیادت میں اسی پرانے پراجیکٹ پر کام شروع کردیں گے!!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں