جو کچھ ہوگا اچھا ہوگا

رفیق ڈوگر ـ 15 مارچ ، 2009
حالات واقعات اور حادثات کے طوفان میں ڈبکیاں لینے کے مراحل میں رات اڑھائی بجے ایک شعر کا مفہوم سمجھ آ گیا۔ بچیکی مڈل سکول میں ہمارے کلاس روم کی دیوار پر لٹکتی کسی پُرانے شاعر کی نظم کا وہ شعر یا مصرع تھا ؎
یہ مت سوچو کل کیا ہوگا
جو کچھ ہوگا اچھا ہوگا
ہم سوچتے تھے یہ کیسا شاعر ہے جو کہتا ہے کل کے بارے میں سوچو ہی نہ آرام سے سو جائو جو کچھ بھی ہوگا اچھا ہی ہوگا۔ ماضی حال اور مستقبل‘ عدلیہ پر باوردی صدر کا خودکش حملہ‘ ہالبروک کی پریشانی‘ امریکہ کی خاتون سفیر کی بھاگ دوڑ اور اپنی زنانہ مونچھوں کو مردانہ وار تائو دینا‘ برطانیہ کے نوخیز وزیر خارجہ کے ہمارے اپنے سے کافی بزرگ و برتر قائد کرام کو مشورے‘ مولانا فضل الرحمان اور اسفندیارولی کی تین ٹانگوں کی مصالحتی ریس اور صدر مکرم کا عزم عالی شان‘ حالات کا کسی بھی پہلو سے تند پکڑتے تو دھاگا ٹوٹ جاتا تھا ہمیں ملک بھر کی کالا کوٹ برادری کے گلے میں ٹائی کا پھندا تنگ ہوتا دکھائی دینے لگا پھر خیال آیا نہیں ایسا نہیں ہو سکتا جو کچھ ہوگا اچھا ہوگا میچ کا فیصلہ ہو ہی جانا چاہئے۔ ڈرا میچ میں ہر کپتان کسی دھوکے میں رہتا ہے اپنی قوت اور کھیل کے بارے میں بھی اور مخالف کی صلاحیتوں کے بارے میں بھی جو بھی ہوگا گول دائرے میں نصف صدی کے سفر کی کوئی سمت تو متعین ہو جائے گی اور جو بھی سمت متعین ہوگی جو بھی فیصلہ ہوگا وسیع تر تناظر میں اچھا ہی ہوگا۔ رات گئے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی کیا ہوگا؟ دوسری طرف ہمارا خیال تھا بارک حسین اوباما ہی ہوگا اور کس کو جرأت ہو سکتی تھی اتنی رات گئے ایسی گستاخی کی؟ مگر وہ کوئی اور تھا ’’وہ بڑی جیل سے چھوٹی جیل‘‘ کی کہانی؟ کچھ لوگ سازشی بھی ہوتے ہیں اور ہماری این آر او جمہوریت تو غریب کی جورو ہی بن کر رہ گئی ہے اس کو ماں ماری کے خلاف جو کوئی بھی کرتا ہے‘ سازش ہی کرتا ہے۔ تو وہ کہانی ہم نے عوامی جمہوریت کے روٹی کپڑا اور مکان کے دورِ عروج میں جیل سے واپسی پہ لکھی تھی اور وہ کہتا تھا ملک کی وکیل برادری کی ہمت افزائی کیلئے سنا اور بتادو کہ ہم اہلِ صحافت تو تمہارے مقابلے میں بہت ہی تھوڑے تھے ہمیں ملک کی کسی سیاسی مذہبی پارٹی یا سول سوسائٹی کی بھی مدد نہیں میسر تھی اور ہم نے اس وقت چار ماہ اسی شہر لاہور میں گرفتاریاں دے کر تحریک کو کامیاب ہی نہیں کامران بھی کرا لیا تھا تم تو ہو بھی بہت سے اور تمہیں تو حمایت بھی بہت سے لوگوں کی حاصل ہے ویسے بھی ابھی موسم اتنا گرم نہیں ہوا۔ اب اتفاق کی بات ہے کہ اس تحریک میں روزِاوّل ہی مجھے ہی گرفتاری دینا پڑی تھی شاہد اسی لئے اس سازشی کا خیال ہوگا کہ اور تو کوئی جون کے مہینے میں ان سارے مراحل سے گزرا نہیں تھا۔ تین اور بھی تھے مگر وہ صحافی نہیں اخباری کارکن تھے۔ ہوا کچھ ایسے تھا کہ قائد عوام کے اپنے اخبار مساوات کے نصف درجن کے قریب کارکنوں کو اِدھر اُدھر کر دیا گیا تو پی یو جے یعنی پنجاب یونین آف جرنلٹس نے احتجاج کیا کوئی اثر نہ ہوا تو جلوس نکال لیا۔ دفعہ 144 تو ہوتی ہی تھی امن کی عصمت دری کمبل کرنے کے جرم میں سب اہل جلوس کو گرفتار کر لیا گیا۔ پی یو جے کی ایگزیکٹو میں سے لاہور میں موجود نہ ہونے کے سبب میں بچ گیا تھا ایک رات کی صحافت نوازی کے بعد اگلے روز سب کو باعزت و احترام حوالاتوں سے نکال دیا گیا تحریک جاری رکھنا ضروری تھا پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل نثار عثمانی نے کہا سب گرمی اور مچھروں سے لڑتے رہے ہیں گھروں کو چلے گئے ہیں ایک بندہ مشرق کے سرکولیشن سے آ گیا‘ دو مساوات سے آ گئے‘ چار سے کم تو 144 کی توہین کر ہی نہیں سکتے تھے ہم چاروں اسمبلی ہال کے سامنے پہنچے ہی تھے کہ لے جانے والے آ گئے ایک رات بتانے میں گزاری دوسری کیمپ جیل میں درجن بھر قسم قسم کے مجرموں اور مچھروں کے ساتھ ایک کوٹھڑی میں گزاری اگلے روز ہتھکڑیاں لگا کر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے لے گئے۔ ہم نے ہتھکڑیاں پہن کر تانگے میں سوار ہو کر لاہور دیکھا مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کے بعد اس ہوا بند کمرے میں کچھ وقت گزارا جس میں پیشیوں کیلئے جیل سے لائے مجرموں کو محفوظ رکھا جاتا ہے جیل پہنچے تو قصوری چکیوں یعنی پھانسی پانے کی سزا والے باعزت مجرموں کیلئے خاص طور پر بنائی اور بنوائی گئی چکیوں میں بند کر دیا گیا اور تحریک چل گئی شدید گرمی کے دنوں میں سارے پاکستان سے اخبار نویس لاہور آ کر گرفتاریاں دیتے رہے تھے اور چار ماہ بعد اپنے مطالبات منوا کر تحریک ختم کی تھی اور ’’بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک‘‘ کا وہ سیاحت نامہ واپسی پر لکھا تھا جو اورنگ زیب کہتا ہے کہ اس نے سینے سے لگا کر رکھا ہوا ہے اس سازشی کی خواہش تھی کہ کالا کوٹ برادری کی دلجوئی کیلئے فراہم کردیا جائے قائد عوام کی عوامی جمہوریت کے روٹی کپڑے مکان کے عروج کے دنوں میں یہی ایک سہ پہر فیلڈ سے واپس آیا تو عارف صاحب نے کہا بیگم رامے بڑی پریشان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس رامے صاحب کو گرفتار کر کے لے گئی ہے۔ پولیس والوں نے تصدیق کر دی نوائے وقت کے دفتر کے سامنے والے بڑے پولیس گھر لا رہے تھے میں بیرونی گیٹ سے اندر داخل ہوا تو رامے صاحب کی سواری بھی پہنچ گئی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ کوئی گواہ تو ہے۔ ان کے بہت سے ساتھی لاپتہ تھے اور ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا کر انہیں دلائی کیمپ سے رہائی دلائی تھی بڑے پولیس صاحب رامے صاحب کے ساتھ بڑے احترام سے پیش آئے اور کہا کہ وہ حوالات کے سارے کمرے گھوم پھر کر پسند کر لیں کہ کس میں بند ہونا چاہیں گے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا ایک کمرے میں دیواروں پر لکھی تحریریں پڑھ کر رامے صاحب کی تو سانس ہی اکھڑ گئی۔ ’’دیکھیں میرے آنے سے پہلے ہی انہوں نے دیواروں پر میرے خلاف نعرے لکھوا دئیے ہیں‘‘ بہت سے نعرے تھے جو سب ان کے ہی خلاف تھے۔ ان کی سانس اکھڑتی دیکھ کر مجھے بتانا پڑا کہ ’’نہیں رامے صاحب یہ ہمارے ان ساتھیوں نے لکھے تھے جنہیں آپ نے سرکاری مہمان رکھا تھا۔‘‘ وہ خاموش ہو گئے۔ مساوات کے مالک و مدیر میاں محمد حنیف رامے پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اور انہوں نے پوری قوت سے چار ماہ تک دفعہ 144 کی عصمت کی حفاظت کی تھی اور پہلے روز یعنی ہماری باقاعدہ گرفتاری سے پہلے اپنے جن بزرگوں کی انہوں نے عزت افزائی کی تھی ان میں نثار عثمانی‘ احمد بشیر‘ میاں شفیع (م ۔ش) سب ہی شامل تھے اور پھر وہی وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد حنیف رامے جس نے ایک روز اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کے ایک رکن کو یہ بھی دھمکی دی تھی کہ ’’تم ذرا اسمبلی سے باہر تو نکلو‘‘ حوالات کے اس کمرے میں سر جھکائے کھڑا تھا جس میں جون کی ایک خوشگوار رات ہم نے گزاری تھی۔ بدلتا ہے رنگ انساں کیسے کیسے؟ کیمپ جیل کے قیام و طعام کے وہ دن واقعی ہمارا تو بہت ہی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ہاں تو پھر کل جو کچھ بھی ہوگا اچھا ہی ہوگا۔ پرسوں بھی‘ ترسوں بھی اور اس کے بعد بھی کہ ہم نے کدھر جانا ہے کوئی راہ تو متعین ہو جائے گی۔ گول چکر کے چکروں سے تو نکلیں گے جہاں پچاس سال سے گھوم رہے ہیں اندھوں کی مانند اور ہمارے صدر مملکت تک کو ملک ملک گھوم کر ’’دے جا سخیا راہِ خدا‘‘ کی اپیلیں کرنا پڑ رہی ہیں اور کس کا کون سا مقدمہ لڑ رہے‘ کچھ نہیں کہہ سکتے وکلا اپنے خرچ پر عدلیہ کی آزادی کا مقدمہ لڑتے آئے ہیں تو چلو وہ کہانی پیش کر دیتے ہیں کہ ہم تو تمہارے مقابلے میں بہت تھوڑے تھے اور موسم بھی بہت گرم تھا اور دفعہ 144 کا محافظ دانشوروں کا دعویدار ہوتا تھا اور ہم نے ہمت نہیں ہاری تھی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں