یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 15 جون ، 2009
مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی دین دار آدمی تھے اور دلدار آدمی تھے مگر دنیادار نہ تھے۔ بہت سادہ اور آسودہ۔ وہ سیاسی مولانائوں کی طرح نہ تھے۔ امیر کبیر وہ بھی تھے مگر فقیر بھی تھے۔ فقیری میں امیری اور امیری میں فقیری کی۔ ان کے عظیم والد بھی ایسے ہی تھے۔ وہ اپنے والد کے جیسے تھے۔ خاکسار اور شاندار اور روادار۔ دین کی بات یقین کے ساتھ کرتے تھے۔ وہ حق الیقین کی منزل پر تھے۔ وہ اطمینان سے بھرے ہوئے تھے مگر ان کا دل اضطراب سے بھی لبریز تھا۔ انہوں نے اس دریا کو چھلکنے نہ دیا۔ ایسا کچھ بھی اپنے رویئے اور ارادے سے جھلکنے نہ دیا۔ درویش اور دوست تھے۔ دین و دنیا کی بھلائی ان کی آرزو میں زندہ رہتی تھی۔ وہ اسلامی اقدار اور مسلمانوں کی عظمت گم گشتہ کی حفاظت پر مامور تھے مگر ہم ان کی حفاظت نہ کر سکے۔ حکومت کیوں اعتراف نہیں کرتی کہ وہ ناکام ہو گئی ہے۔ نعیمی صاحب نام نہاد طالبان کے خلاف حکمرانوں سے زیادہ سرگرم تھے۔ وہ بہت مخلص تھے۔ حکمران تو مخلص ہیں کہ نہیں ہیں۔ مرکزی حکومت کے لئے تو میں مایوس ہوں۔ وہ تو نہ جانے کس حال میں ہے‘ کس خیال میں ہے۔ صرف مذمت کرنے اور امریکہ کی خدمت کرنے کے سوا ان کا کوئی ایجنڈا ہی نہیں۔ مگر پنجاب حکومت کو کیا ہوا اور وہ بھی شہباز شریف کی حکومت کہاں گئی۔ انکی انتظامیہ کے دور میں یہ دوسرا واقعہ ہوا ہے۔ جب وہ ایک مہینے سے کچھ زیادہ دن حکومت میں نہ تھے تو دو واقعات ہوئے تھے۔ ان کی حکومت کو دوبارہ آئے کچھ زیادہ دن نہیں ہوئے۔ لگتا ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو یہ ہو رہا ہے۔ یہ ہوتا رہے گا۔ شہباز شریف جامعہ نعیمیہ پہنچے۔ غم زدہ تھے وہ غم کو دشمن نہ بننے دیں۔ نواز شریف نعیمی صاحب کے جسد خاکی کے پاس آبدیدہ کھڑے تھے۔ آنسوئوں کو لہو کا گواہ کون بنائے گا۔ شہید نعیمی صاحب شریف برادران کے سچے ساتھی تھے۔ شریف برادران سچ کا ساتھ دیں۔ انہیں پتہ ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹا کون ہے۔ حکومت سے طاقتور یہ کون لوگ ہیں۔ ان کے پیچھے کون ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو پتہ ہے مگر انہیں پتہ نہیں ہے۔ تو کیا وہ اس میں شریک ہیں۔ اسے صدر مشرف نے آغاز کیا مگر امریکہ تو بہت پہلے سے ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے۔ ہر حکمران نے پہلے سے بڑھ کر امریکہ کی غلامی کی اور حالات مزید خراب ہوئے۔
پیپلز پارٹی والے ہر مسئلے کے لئے کہتے ہیں کہ انہیں یہ ورثے میں ملا ہے۔ امریکہ کی اطاعت بھی انہیں ورثے میں ملی ہے۔ حکومت بھی اسی کے لئے انہیں ورثے میں ملی ہے۔ دہشت گردی امریکہ نے یہاں بھجوائی ہے جو ہمارے حکمران صدر مشرف نے خود بلائی ہے۔ اب اسے صدر زرداری نے خوش آمدید کہا ہے۔ وہ بہت نچلے درجے کے امریکی اہلکار رچرڈ ہالبروک کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ صدر مشرف رچرڈ بائوچر کے لئے نیازمندی کی انتہا کرتے تھے۔ ایک تو یہ رچرڈ ہماری جان نہیں چھوڑتے۔ امریکیوں کو شبہ ہے کہ پاکستان کا ہر نیا حکمران پہلے جیسا بلکہ اسے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اس لئے امریکہ اپنا کوئی چھوٹا ملازم پہلے کے جیسا بلکہ اس سے زیادہ پاکستان دشمن یہاں بھیجتا ہے۔ وہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی اپنا ایک چھوٹا سا ملازم سمجھتے ہیں۔ یہ باتیں ایک تسلسل ہیں جو پاکستان میں برپا ہیں۔ مگر میں مولانا نعیمی کی شہادت پر بہت پریشان اور بے بس ہوں۔ حکمران ہر ایسے موقعے پر صرف مذمت کرتے ہیں اور بڑی ڈھٹائی سے کرتے ہیں۔ ہر بار کرتے ہیں اور بار بار کرتے ہیں۔ نہ جانے وہ کیا چاہتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ اور دکھ کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ وہ پاکستان کے حکمران نہیں۔ جس ملک پر حکومت کرتے ہیں اس کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ اس طرح دھماکہ کبھی حکمرانوں‘ افسروں اور پولیس افسروں کے دفتروں میں نہیں ہوتا۔ لبرٹی چوک میں ہوا۔ چند پولیس ملازموں کی جانیں گئیں۔ جن کو پولیس افسران نے اپنا کریڈٹ بنا کے پیش کیا۔ مناواں پولیس سنٹر پر بھی بیچارے پولیس ملازم دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ 15 ریسکیو پر حملے میں آئی ایس آئی کے دفتر سے فائرنگ کی وجہ سے دہشت گردوں کو جرات نہ ہوئی کہ وہ زیادہ نقصان کرتے۔
آئی ایس آئی کے لئے میرے دل میں بڑی قدر ہے۔ امریکہ اس کے خلاف ہے تو یہ اسکی نیک نامی اور کامرانی کی دلیل ہے۔ جو کردار اس ممتاز خفیہ تنظیم نے سوویت یونین کو اس خطے سے مار بھگانے میں انجام دیا تھا۔ وہ کردار امریکہ کو نکال باہر کرنے میں ادا نہیں کیا جا رہا ہے اب سوات وغیرہ میں ان کو مار پڑی ہے۔ تو وہ نہتے شریف شہریوں کی طرف آئے مگر انہوں نے مولانا نعیمی جیسے خاص آدمی کو بھی ٹارگٹ کیا۔ ہمیں جو ملنا چاہئے نہیں ملتا۔ ایک بڑے‘ سچے اور اچھے عالم دین تک دہشت گرد پہنچ گئے تو خفیہ تنظیمیں کہاں تھیں۔ اسلام دشمنوں کا دشمن سرفراز نعیمی کیا انکے لئے آسان شکار تھا۔ کیا حکمران اور افسران ہی اہم لوگ ہیں۔ یہ اطلاع تو دیتے ہو کہ اتنے دہشت گرد شہر میں داخل ہو گئے ہیں مگر انہیں پکڑتے نہیں۔ انہیں اپنا کام اتنی آسانی اور روانی سے کون کرنے دیتا ہے۔ خفیہ تنظیمیں کس خفیہ کام میں لگی ہوئی ہیں۔ لاہور پولیس کیوں اعتراف نہیں کرتی کہ وہ ناکام ہو گئی ہے۔ میرے دل میں آئی جی پولیس طارق سلیم ڈوگر کے لئے عزت ہے۔ وہ بہت مہارت اور دیانت سے کام کرنے والے آدمی ہیں مگر وہ بتائیں کہ جامعہ نعیمیہ کے اندر گھس کے ایک ظالم دہشت گرد نے وہ کر دکھایا ہے جو ہمیں شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ مسجدوں کی حفاظت پر پولیس مامور ہوتی ہے۔جامعہ نعیمیہ کے لئے ڈیوٹی پر لوگ کون سی ڈیوٹی دے رہے تھے۔ ڈاکٹر مولانا سرفراز نعیمی تو نام نہاد طالبان کے خلاف سینہ سپر تھے اور تم بھی تو کہتے ہو کہ ہم ان کے مقابلے میں ہیں۔ تمہیں کچھ نہیں ہوتا اور ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پاک فوج اور آئی ایس آئی اس مہم میں کامیاب ہو گی مگر اس سے پہلے ناکامیاں کیوں ہیں۔ انہیں ناکامیاں کہتے ہوئے دل لرزتا ہے۔ آخر عوام اور عوام میں سے خواص لوگ ہی کیوں مارے جاتے ہیں۔ یہ ایک سوال ہے جس کا کوئی جواب ہمارے حکمرانوں‘ افسروں اور پولیس افسروں اور خفیہ تنظیم والوں کے پاس نہیں۔ انہیں پاکستان کے دشمنوں نے لاجواب کر دیا ہے۔ اب تو پاکستانی خفیہ تنظیموں پر حرف آنے لگا ہے۔ ہمیں سی سی پی او لاہور‘ ایڈیشنل آئی جی پرویز راٹھور اور ایس ایس پی لاہور شفیق گجر سے پوچھنے کا حق ہے جب کہ میں ان دونوں کے لئے نرم گوشہ دل میں رکھتا ہوں مگر آج میرا دل ٹوٹا ہوا ہے اور یہ کئی بار ٹوٹا ہے۔ ٹوٹتا ہی رہتا ہے۔ کبھی افسران اور حکمران کی طرف سے یہ بیان نہیں آیا کہ یہ ہماری غفلت سے ہوا ہے۔ یہ ہماری ناکامی بلکہ بدنامی ہے۔
مولانا نعیمی جیسے جید انسان کی حفاظت ہماری پولیس اور دوسرے ذمہ دار اداروں کا فرض نہیں تھا؟۔ یہ شہادت مولانا کو امر کر گئی مگر تمہیں کہاں کھڑا کر گئی۔ تم جہاں بھی ہو اپنے آپ کو کٹہرے میں سمجھو مگر یہ نظر نہ آنے والی عدالت فیصلہ کرے گی۔ پولیس عام شہریوں کو جگہ جگہ پر ذلیل و خوار کرتی ہے۔ ایک تو وہ غم سے نڈھال ہوتے ہیں۔ اوپر سے انہیں پولیس صرف کارروائی ڈالنے کیلئے بے حال کر دیتی ہے۔ بدحال وہ پہلے ہی حکمرانوں کے ہاتھوں ہو چکے ہیں۔ اب علماء کیا کریں گے۔ حکمران اور افسران کہتے ہیں ہم سے تعاون نہیں ہوتا۔ تعاون کرنے والوں کے ساتھ یہ حال ہوتا ہے اور یہ ہونے دیا جاتا ہے۔ اسلام کو بدنام کرنے اور انتشار بڑھانے کی منصوبہ بندی خود ہمارے ہاں ہو رہی ہے۔ پاکستان خطرے میں ہے اور حکومت کرنے والے خوشحال ہوتے جاتے ہیں۔ مولانا نعیمی نے کہا کہ یہ ایٹمی پاکستان کے خلاف جنگ ہے مگر جنگ کا میدان تو گھر ہیں مسجد ہے اور ٹوٹا ہوا دل ہے۔ع
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
اپنوں کی لوٹ مار ختم نہیں ہوتی‘ غیروں سے کیا گلہ ہے۔ حکمران سیاستداں اور طالبان اسلام کو بدنام کر رہے ہیں مگر یہ بھی تو دیکھو کہ مسلمان ڈاکٹر سرفراز نعیمی جیسے لوگ بھی ہیں اور ایسے بہت مولانا ہیں جن پر ہمیں فخر کرنا چاہئے۔ ہم مولانا نعیمی شہید کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اپنے جسم و جاں کا نذرانہ پیش کر کے ہمیں سرخرو کیا ہے۔ حکمران تو طالبان کے خلاف کارروائی اپنی حکومت بچانے اور امریکہ کو خوش کرنے کیلئے کر رہے ہیں اور امریکہ بھارت کو خوش کر رہا ہے۔ ہمارے اصل حکمران تو مولانا نعیمی شہید جیسے لوگ ہیں۔ حکمران تو اپنی جان بچانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ امریکہ بھی طالبان کے خلاف نہیں۔ وہ انہیں استعمال کر رہا ہے۔ حکمرانوں میں جرأت نہیں کہ کہ وہ بھارت‘ افغانستان‘ اسرائیل اور امریکہ کا نام بھی لیں۔ حالانکہ وہ ہی اصل دشمن ہیں۔ حکمران تو دشمنوں کے بہانے سے اپنوں کے دشمن ہیں۔ پورا ملک میدان جنگ بنا ہوا ہے اور حکمران محاذ پر نہیں ہیں۔ وہ صرف اپنی فوج امریکہ کے کہنے پر بھارتی بارڈر سے فاٹا اور وزیرستان لے گئے ہیں۔ اس طرح امریکہ ہمیں ڈی سٹیبل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے لئے تر نوالہ بنانا چاہتا ہے۔ حکام ناکام ہیں‘ اللہ کا شکر ہے کہ عوام سرخرو ہیں ابھی تک۔ مگر بنے گا کیا؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں