خدا کے لئے پیپلز پارٹی کو بچا لو

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 14 مارچ ، 2009
یہ بات میں نے نہیں کہی۔ سماجی شخصیت اور انسانی حقوق کی بہت بڑی علمبردار طاہرہ عبداللہ نے ایک نجی ٹی وی پر شیری رحمان کو ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہی۔ وکلا تحریک کے لانگ مارچ اور دھرنے کے خلاف دفعہ 144کے نفاذ کے بعد پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کے دوران بے مہار پولیس طاہرہ عبداللہ کے گھر میں گھس گئی۔ اسے بری طرح جگایا‘ بدتمیزی کی‘ انتہائی توہین آمیز سلوک کیا‘ گرفتار کیا تھانے لے جایا گیا اور پھر رہا کر دیا۔ کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے۔شیری رحمان کو پتہ ہے کہ طاہرہ عبداللہ نے اپوزیشن میں آمریت کے خلاف بہت شاندار جدوجہد کی۔ ایک شکایت کی آواز کشور ناہید نے اٹھائی ہے۔ وہ لوگ جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے پیپلز پارٹی والوں کے ساتھ تھے انہوں نے اذیت اور ذلت برداشت کی۔ اب بھی ان کے لئے ذلت ہے اور اذیت ہے۔ ان کے ساتھ جو کچھ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوا تھا اب صدر زرداری کے دور میں زیادہ ہو رہا ہے۔ جس انداز میں طاہرہ عبداللہ احتجاج کر رہی تھیں اس میں ایک جینوئن جارحیت تھی۔ شیری رحمان سے مدافعت نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے معذرت کی جو طاہرہ عبداللہ نے قبول نہیں کی۔ شیری رحمان نے صدر زرداری کی طرف سے بھی معذرت کی۔ طاہرہ عبداللہ نے انتہائی جذباتی انداز میں ہاتھ جوڑے‘ آنسو ان کی آنکھوں میں احتجاج کرتے نظر آئے۔ یہ ان کا حوصلہ ہے کہ انہوں نے آنسوئوں کو چھلکنے نہ دیا اور کہا کہ خدا کے لئے پیپلز پارٹی کو بچا لو۔ پیپلز پارٹی کے کسی وزیر سے حکومت کا دفاع نہیں ہو رہا۔ خدا کی قسم ان سے جنرل پرویز مشرف کے وزیر شذیر زیادہ بات کر لیتے تھے۔ دفاع ان سے بھی نہ ہوا تھا۔ شیری رحمان کے دل میں پرانی دوستی‘ رفاقت اور ایک ساتھ جدوجہد کا گرد و غبار ایک طوفان اٹھائے ہوئے تھا۔ وہ طاہرہ عبداللہ کو دلاسہ بھی دیتی رہی مگر اسے معلوم تھا کہ وہ بے بس ہے۔ اس کے پائوں میں وزارت کی زنجیر ہے۔ اسے چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر کیوں یاد رہے گی۔ شیری آخر کس کس آدمی سے معافیاں مانگے گی۔
صفدر عباسی نے لاہور بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو پیپلز پارٹی اسلام آباد میں ہے وہ میری پیپلز پارٹی نہیں۔ اور اگر عوام کے موڈ کے خلاف پیپلز پارٹی چلے گی تو پیپلز پارٹی نہیں رہے گی۔ بے نظیر بھٹو کی جانثار اور رازدار سہیلی ناہید خان نے کہا کہ جس طرح میری بہنوں اور بھائیوں پر تشدد کیا گیا انہیں سڑکوں پر لٹا لٹا کے مارا گیا‘ مجھے شرم آئی کہ یہ میری پیپلز پارٹی والے کر رہے ہیں۔ میں اس کی مذمت کرتی ہوں۔ میں نے ناہید خان جیسی وفاداری سیاسی خاتون نہیں دیکھی۔ جب سے بے نظیر بھٹو قتل ہوئی ہیں ناہید خان کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آئی۔ ایک نامعلوم دکھ کا رنگ اس کی آنکھوں سے اترتا ہی نہیں۔ کیسی اذیت ہے جو اس کے اندر گھل گئی ہے۔ مزید اذیت یہ ہے کہ وہ اسے ابھی تک باہر نہیں آنے دے رہی۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ ایسا ہوا تو پاکستان میں سب کچھ لہولہان ہو جائے گا۔ محترمہ علینہ ٹوانہ کے گھر ایک تقریب میں اسے قریب سے دیکھا۔ وہ ایک اجڑی پجڑی قبر پر رکھے چراغ کی طرح ہے جو بجھ چکا ہے۔ دھواں اٹھ رہا ہے جو دھواں دھار بننے کے لئے بے قرار ہے۔ لگتا ہے کہ اسے بہت کچھ پتہ ہے‘ اور وہ کہتی ہے کہ مجھے پتہ نہیں۔ صدر زرداری کو بھی کچھ نہ کچھ پتہ ہے اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کوئی قومی معرکہ آرائی نہیں بن سکی۔ صدر زرداری کہتے ہیں کہ مجھے پتہ ہے ہے بی بی کے قاتل کون ہیں مگر مجھ سے پوچھو نہیں صرف میرا ساتھ دو۔ مگر جن کا ساتھ خود اس نے چھوڑ دیا ہے وہ کس کا ساتھ دیں؟ میری دونوں سے گزارش ہے جس کو پتہ نہیں اور جس کو پتہ ہے وہ بے نظیر بھٹو کی بھید بھری شہادت سے پردہ اٹھائیں۔ اس سے یقیناً مظلوم قوم کو تسلی ملے گی۔ پیپلز پارٹی والے سمجھتے ہیں کہ اقتدار ان کے لئے بی بی کی قربانی کی نشانی ہے۔ تو پھر کیوں وہ اس کی شہادت کا ہر نشان مٹا دینا چاہتے ہیں۔ آج کیوں ہر اس آدمی کے اندر بے قراریاں ہیں جو بھٹو اور بھٹو کی بیٹی سے محبت رکھتا ہے۔ آج کیوں پیپلز پارٹی کے ٹوٹنے کی آہٹ دل کی چوکھٹ پر سنائی دے رہی ہے۔ حیرت ہے کہ پیپلز پارٹی کے لئے یہ اندیشہ اعتزاز احسن نے کبھی محسوس نہیں کیا۔ نجانے وہ کس پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستگی لگائے ہوئے ہے؟ مجھے اس کی باتیں نجانے کس کی باتیں لگتی ہیں۔ مگر اب ایک بات اس کی اچھی لگی ہے۔ اس نے پہلے کہا تھا کہ وہاں وہاں ملک میں دھرنا دیا جائے۔ جہاں وکیلوں کو روک لیا جائے۔ تب وکیلوں نے کہا کہ دھرنا صرف اسلام آباد میں ہو گا۔ خطرہ ہو گیا ہے کہ اعتزاز کی بات پوری نہ ہو جائے۔ جیسے اسے اس صورتحال کا پہلے سے پتہ تھا۔ سندھ والوں کو روکا گیا اور گرفتار کر کے نہیں لے جایا گیا۔ علی احمد کرد نے سندھ بلوچستان سرحد پر دھرنا دے دیا۔
کیا سندھ بلوچستان الگ الگ ملکوں کے صوبے ہیں۔ بلوچستان میں لانگ مارچ کے لئے سرکاری تعاون ہوا۔ سندھ میں دفعہ 144لگا دی گئی۔ ایاز امیر کی یہ بات کتنی بامعنی ہے کہ ہم نے بلوچستان کے ساتھ کیا کیا مگر وہاں سے جمہوری ماحول کے لئے ٹھنڈی ہوا آئی ہے۔ آج اکبر بگٹی زندہ ہوتے تو علی احمد کرد کے ساتھ دھرنے میں بیٹھے ہوتے۔ رات کھلے آسمان تلے گزارنے کے بعد دھرنا توڑ دیا گیا۔ جس طرح دفعہ 144توڑی جاتی ہے۔ وکیلوں نے کسی نہ کسی طرح اسلام آباد پہنچنے کا ارادہ کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اعتزاز‘ علی احمد کرد کو خورد برد نہیں کر سکا۔ اعتزاز نے کہا کہ دھرنا کیسے روکو گے۔ ہم 16مارچ کے بعد اعلان کریں گے کہ اب دھرنا 15دن بعد ہو گا۔ پھر پندرہ دن بعد کا اعلان ہو گا۔ ہر بار حکومت دیوانہ وار بھاگتی پھرے گی۔ کیا اب رحمان ملک صرف یہی کام کرے گا۔ بہادر وکیل لیڈر نثار صفدر کی اس بات پر بات ختم کرتا ہوں۔ ’’وکلا تحریک دوبارہ لوگوں کو سچی سیاست کی طرف لانے کی تحریک ہے اور یہ قومی تحریک ہے۔ لاتعلق اور سیاستدانوں سے بیزار لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے ہم وکیل باہر آئے ہیں۔‘‘
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں