آپ کے ہاتھ میں بڑی شفا ہے

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 14 فروری ، 2009
ڈاکٹروں کے لئے شکایات بھی آتی ہیں مگر کچھ لوگ اس شعبے میں ہیں جو واقعی مسیحائی کرنے والے ہیں۔ دو تقریبات ہوئیں علامہ اقبال میڈیکل کالج اور جناح ہسپتال میں اور دل خوش ہو گیا۔ علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناحؒ سے منسوب یہ ادارے واقعی اعلیٰ کردار ادا کر رہے ہیں۔ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے اچھے دل و دماغ والے پرنسپل ڈاکٹر پروفیسر جاوید اکرم نے جناح ہسپتال سے تبدیل ہوکر میوہسپتال جانے والے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر زاہد پرویز کے اعزاز اور اعتراف میں دوستوں کو اکٹھا کیا اور پھر کالج میگزین ’’شاہین‘‘ کی تعارفی تقریب کی۔ جانے والے ایم ایس ڈاکٹر زاہد پرویز جیسا منتظم شاید کوئی نہ ہو گا ان کی جگہ آنے والے ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ بھی بہت قابل آدمی ہیں۔ انسانوں کے متبادل اور جانشین ان کے جیسے ہوں تو تبدیلی کا ایک مثبت اثر ماحول پر طاری ہوتا ہے‘ محبتیں اور مہربانیاں جاری و ساری رہیں تو دکھ دشمن نہیں بنتے۔ دکھوں سے بڑا دوست کوئی نہیں‘ خوشی دینے والے کہاں گئے‘ اب تو دکھوں کا لطف بھی ختم ہو گیا ہے۔؎
اب ایک عمر سے دکھ بھی کوئی نہیں دیتا
وہ لوگ کیا تھے جو آٹھوں پہررلاتے تھے
جناح ہسپتال میں ڈاکٹر زاہد پرویز نے اس طرح وقت گزارا کہ وہ یہاں سے کبھی نہ جائیں گے اور میوہسپتال ان کے انتظار میں تھا۔ وہ میوہسپتال سے گئے تھے تو لوگ رنجیدہ ہوئے تھے۔ وہ جناح ہسپتال سے گئے ہیں تو لوگ افسردہ ہوئے‘ جن جذبات کے ساتھ جناح ہسپتال سے انہیں الوداع کیا گیا‘ ایسے ہی جذبات کے ساتھ میوہسپتال میں ان کا استقبال کیا گیا۔ ع
پہنچی وہی پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
یہ بات ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ کے لئے بھی کہی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر جاوید اکرم اور محبوب اقبال کے ساتھ ان کے روابط ایسے ہی ہیں جیسے ڈاکٹر زاہد پرویز کے ان دونوں کے ساتھ تھے۔ موجودہ انتظامیہ کا یہ ایک اچھا اقدام تھا۔ اس سے پہلے چودھری پرویز الٰہی نے میوہسپتال جناح ہسپتال اور سارے ہسپتالوں میں ایک فلاحی ماحول بنانے کے لئے بہت کام کیا۔ جناح ہسپتال میں مینجمنٹ بورڈ کے صدر محبوب اقبال واقعی محبوب صفات کے آدمی ہیں۔ وہ ہسپتال کے لئے پانچ کروڑ روپے ذاتی کوششوں سے جمع کرتے ہیں اور مریضوں پر خرچ کرواتے ہیں۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے وزیراعظم مخدوم گیلانی کی اہلیہ محترمہ خاتون اول فوزیہ گیلانی کو پیشنٹ ویلفیئر آرگنائزیشن (انجمن بہبود مریضاں) کا سرپرست بننے کے لئے منوا لیا ہے۔ وہ دو دن پہلے کالج اور ہسپتال تشریف لائیں اور ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان کی خدمت میں ان کے سامنے ڈاکٹر پروفیسر نصرت نے غزہ کے مظلوم لوگوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وہ پچھلے دنوں غزہ میں مظلوم اور زخمی لوگوں سے ملنے گئے تھے۔ وہاں جذبوں کی استقامت دیکھ کر متاثر ہوئے۔ خاتون اول شعبہ ریڈیالوجی میں بھی گئیں وہاں اعلیٰ ذوق شوق کے ڈاکٹر پروفیسر ناصر زیدی نے اپنے شعبے کے بارے میں بریفنگ دی۔ سارے ڈاکٹر اچھے ہو جائیں تو پھر شفا بھی عام ہو جائے گی۔
علامہ اقبال میڈیکل کالج میگزین ’’شاہین‘‘ کی محفل میں طالبات کی تعداد زیادہ تھی۔ لڑکیوں کے نام بھی آجکل شاہین ہیں۔ یہ اقبال کے پیغام کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے۔ مجھے اپنا زمانہ یاد آیا‘ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ’’راوی‘‘ کا ایڈیٹر تھا۔ یہی حیثیت مجھے یہاں تک لائی ہے کہ میں دوچار لفظ لکھنے کے قابل ہوا ہوں۔ آجکل ادبی رسائل زوال کا شکار ہیں مگر تعلیمی اداروں میںیہ سلسلہ ایک تسلسل سے قائم ہے جو بہت حوصلہ افزا ہے۔ میڈیکل سائنس والے شعر و ادب میں دلچسپی لیں تو ہنرمندی کے علاوہ ان کے اندر دردمندی بھی پیدا ہو سکتی ہے یہ بہت ضروری ہے۔ جب یہ لوگ موٹی موٹی کتابیں پڑھ پڑھ کے اکتا جائیں تو وہ ہلکا پھلکا لٹریچر پڑھا کریں۔ شاعری پڑھیں تاکہ بیزاری کم ہو اور بے قراری میں اضافہ ہو۔ شاہین کے ایڈیٹر ڈاکٹر احمد رانجھا میرے پاس آئے تو کھوئے ہوئے سے تھے۔ میں نے اس سے کہاکہ اوئے رانجھیا‘ تیری ہیر کہاں ہے۔ مگر آجکل ہماری لڑکیاں حور بننے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ ہیر بننے کی خواہش بھی نہیں کرتیں‘ بیوٹی پارلر ان کی وجہ سے آباد ہیں۔ مجلس ادارت کے ڈاکٹر عارف تجمل‘ ڈاکٹر محمود ناصر‘ احمد حسن رانجھا‘ کاشف محمود‘ خضر عباس‘ آمنہ خالد‘ حسن منصور‘ آمنہ حنیف کے علاوہ سارے طلبہ و طالبات اپنی بھرپور موجودگی ثابت کر رہے تھے۔ میڈیکل کالج میں داخل ہوتے ہی ہر آدمی اپنے آپ کو ڈاکٹرسمجھنے لگتا ہے۔ ہم جو پی ایچ ڈی کرتے ہیں‘ ہمیں کوئی ڈاکٹر مانتا ہی نہیں۔ میرا تعارف ایک بڑے موسیقار سے کرایا گیا تو اس نے پوچھا کہ آپ سچ مچ کے ڈاکٹر ہیں یا علامہ اقبال کی طرح ڈاکٹر بننے ہوئے ہیں۔
آدھی رات کے بعد میرے گھر کی گھنٹی بجی تو ایک ہمسایہ اپنی بچی کو لئے کھڑا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس کے پیٹ میں درد ہے۔ اگر میں انہیں بتاتا کہ میں ’’وہ ڈاکٹر‘‘ نہیں تو وہ مایوس ہوتے لہٰذا میں نے اسے باسکو پان کی گولی دے دی۔ بچی کو آرام آ گیا‘ صبح وہ دوست مٹھائی کے ڈبے کے ساتھ آیا۔ ڈاکٹر صاحب آپ کے ہاتھ میں بڑی شفا ہے۔ ایک زمانے میں ڈاکٹر بننے کا جنون اور فیشن تھا۔ ہر بچہ کہتا کہ میں بڑا ہو کر ڈاکٹر بنوں گا‘ دکھی انسانیت کی خدمت کروں گا‘ ایک شریر بچے نے کہاکہ پہلے مجھے بڑا تو ہونے دو۔ یہ بھی کہا کہ میں بڑا ہوکر مریض بنوں گا اور ڈاکٹروں کی خدمت کروں گا‘ اب عام ڈاکٹروں کی فیس بھی ایک ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ اس طرح غریب لوگ ان کی ’’خدمت‘‘ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ بہت مقبول اور معروف مزاح گو شاعر ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا بہت مزیدار شعر ’’شاہین‘‘ میں پڑھنے کو ملا ہے؎
پیسے نہ تھے علاج کے گر تیری جیب میں
پھر یہ بتا ہوا ہے تو بیمار کس لئے
اپنے انٹرویو میں پروفیسر امتہ اللہ زریں نے کہا کہ لڑکیوں کو جلدی شادی کرنا چاہئے۔ پرانی روایت کی سچائی کو محسوس کریں اس میں بڑے فائدے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں