پاکستانی میڈیا نابالغ ہے
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 12 مئی ، 2009
یہ الفاظ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے نیویارک میں استقبالیہ کے دوران اس سوال کے جواب میں حسب روایت ہنستے ہوئے کہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف بے مہار اور بے شمار پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ صدر زرداری کے امریکی دورے کے موقع پر بھی اس نے حد کر دی ہے۔ انتہائی منفی پروپیگنڈہ تو امریکی میڈیا نے بھی کیا ہے۔ لگتا ہے کہ امریکی اور بھارتی میڈیا کے درمیان مقابلہ لگا ہوا ہے کہ پاکستان کو بدنام اور ناکام کرنے میں کون آگے ہے۔ دونوں آگے ہیں۔ جبکہ پاکستانی میڈیا بہت پیچھے ہے۔ پاکستانی حکومت بھی بھارت کانام لیتے ہوئے ڈرتی ہے۔ صدر زرداری نے بہت لاپروائی اور غیرذمہ داری سے کہا کہ پاکستانی میڈیا نابالغ ہے۔ اس پر وہاں موجود میڈیا کے لوگ بہت غم و غصے میں آ گئے۔ نجانے نابالغ سے صدر زرداری کی کیا مراد تھی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بھارتی میڈیا بالغ ہے۔ اس سے کیا مراد ہے۔ بات بڑھ گئی مگر امریکی سفیر حسین حقانی نے کہا کہ یہ بات صدر نے مذاق میں کہی ہے۔ کبھی ایسی بات امریکی اور بھارتی اہلکاروں کو مذاق میں کر دیا کریں۔ وہ اپنی قوم اور اپنے لوگوں سے مسلسل مذاق کئے جا رہے ہیں۔ حسین حقانی کو امریکہ میں اپنا سفیر بھی مذاق مذاق میں لگا دیا ہے۔ لوگ اسے امریکی سفیر کہتے ہیں مگر میں حسین حقانی سے رعایت کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ وہ زرداری کے سفیر ہیں۔ وہ زرداری کے دوست ہیں اور اقتدار کی دال جوتیوں میں بٹنے سے فی الحال بچا لی ہے۔ یہ دونوں دوستوں میں بانٹی جا رہی ہے۔ دال میں بہت کچھ کالا بلکہ کالا ہی کالا ہے۔ امریکی صدر کالا ہے۔ اور طالبان کہتے ہیں کہ پگڑی کا رنگ بھی کالا ہونا چاہئے۔ کیا خوب مناسبت ہے۔ امریکہ میں پاکستانی میڈیا والے ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ میں چوسنی لے کے آتا ہوں۔ دوسرے نے کہا میں تو فیڈر لے کے آئوں گا۔ تیسرا بولا اس بار کشکول کی بجائے فیڈر کافی ہے۔ امریکی امداد فیڈر میں آ جائے گی تو کشکول کی کیا ضرورت ہے۔ بچگانہ حکومت کے لئے فیڈر ضروری ہے۔ کشکول تو شوکت عزیز نے توڑ دیا تھا۔ اتنا تو کریڈٹ صدر زرداری کا ہے کہ انہیں پیسہ اکٹھا کرنے کا تجربہ ہے۔ وہ امریکہ سے صرف یہ مطالبہ کئے جا رہے ہیں کہ امداد بڑھائو۔ باقی سارے مطالبات امریکہ کے ہیں جو ہر پاکستانی حکمران پورے کرتا ہے اور امریکہ نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے سوات کے ستائے ہوئے مہاجرین کے لئے اکٹھے ہی 49 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کر مارا ہے۔ صدر زرداری کو تو صرف امریکی امداد کی فکر ہے۔ فکر اور فکرمندی میں کیا فرق ہے۔ اس کا صدر زرداری کو پتہ ہی نہیں۔ قتیل شفائی کی ایک انوکھی نظم ہے ’’پیسے۔ کیسے۔ ایسے‘‘۔ ایک ناراض صحافی نے حسین حقانی کے علاوہ‘ صدر زرداری کو بھی نابالغ کہہ دیا۔ ایک ممتاز خاتون کالم نگار نے حسین حقانی سے کہا کہ اپنے نابالغ صدر سے کہیں کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ یہ توہین آمیز جملہ ہے‘ اسے بھارتی میڈیا بہت اچھالے گا۔ پاکستانی میڈیا کے ہاتھ زرداری حکومت نے باندھے ہوئے ہیں۔ وہ بھارت کے خلاف کچھ کہنے ہی نہیں دیتے۔ وہ تو لگتا ہے کہ بیک وقت پاکستان اور بھارت کے صدر ہیں۔ رحمان ملک بھارت کے بھی وزیر داخلہ لگتے ہیں۔ سی سی پی آر ایڈیشنل آئی جی لاہور پاکستانی سوچ کے مالک پرویز راٹھور نے کہہ دیا کہ لاہور پر دونوں حملوں میں تحقیقات کے مطابق بھارت ملوث ہے۔ رحمان ملک نے ان کو انکوائری کی دھمکی دے دی ہے۔ اب حکومت والے کہتے ہیں کہ بھارت پر الزام نہ لگائو۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے لئے امریکی انعام میں کمی ہو جائے۔ احتجاج کرنے والی بی بی کے کان میں حسین حقانی نے کچھ کہا اور وہ آگ بگولہ ہو گئیں مگر ضبط سے کام لیا۔ صدر زرداری کے دوستوں کو سرگوشیاں کرنے کی عادت ہے جو بالعموم شرگوشیاں بن جاتی ہیں۔ اب تو حسین حقانی پر گمان ہونے لگا ہے کہ وہ بھارت کے بھی سفیر ہیں۔ میں تو اس حسین حقانی کو جانتا ہوں جو برادرم سراج منیر مرحوم کا دوست تھا۔ نواز شریف کی ’’میڈیا سروس‘‘ یعنی صحافتی بندگی کی اس خدمت کا صلہ بہت لوگوں کو ملا۔ پیپلزپارٹی نے بھی نوازش ہائے بے جا میں کمی نہیں کی۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی‘ عطاالحق قاسمی‘ واجد شمس الحسن اور حسین حقانی سفیر بن گئے۔ حسین حقانی بولتے بہت اچھا ہیں۔ اگرچہ یہ پتہ نہیں چلتا کہ کس کے حق میں بول رہے ہیں۔ حسین حقانی کا کام یہ ہے کہ ان کے بقول آج کل وہ پاکستانیوں کو ٹھنڈا کر رہے ہیں۔ یہ ضرورت تو ہر سفیر کو محسو ہوتی رہی ہے مگر اب معاملہ کچھ زیادہ ہی گرم بلکہ گرما گرم ہے کہ حکمران کچھ زیادہ ہی ’’سرگرم‘‘ ہیں۔ بہت سے لوگ حسین حقانی سے ناراض ہیں۔ باقی کے بہت سے صدر زرداری سے ناراض ہیں۔ ناراضی کا یہ سلسلہ رحمان ملک اور شاہ محمود قریشی تک پھیل گیا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تقریر کی اور بور کیا۔ لوگ صدر زرداری کو سننا چاہتے تھے۔ وہ اس دوران بھی بور ہوئے۔ قریشی صاحب زرداری کے سامنے نمبر بنانے میں زیادہ آگے نکل گئے۔ انہیں پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’طویل جمہوریت کے بعد ہمیں موقع ملنا چاہئے۔ ابھی تو ہمیں ڈکٹیٹر شپ ملی ہے۔ ایک ہنسی محفل میں مچ گئی۔ بڑی ہوٹنگ ہوئی۔ لوگوں نے زیادہ انجوائے کیا کہ ڈکٹیٹرشپ کی تعریف کرتے ہوئے وہ صدر زرداری کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ لوگوں نے شاباش کے انداز میں قریشی صاحب کو دیکھا کہ وہ بات تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔ موقع کا مطلب وزارت حکومت کو انجوائے کرنا ہے۔ جمہوریت کو ہمارے ہاں سیاسی لوگ آمریت بنا دیتے ہیں۔ ہمارے لوگوں نے آمرانہ جمہوریت دیکھی ہے۔ وہاں جھگڑا بھی ہو گیا کہ جس گروپ نے صدر زرداری کو شیلڈ دی اس نے بے نظیر بھٹو کو چھوڑ دیا تھا۔ اب پھر جائن کر لیا ہے۔ یہ حسین حقانی کا گروپ ہے۔ ایک جیالے نے سرور چودھری کو گالی دی پھر گالیاں ہی گالیاں چل پڑیں۔ نہتے لوگ گالیوں سے گولیوں کا کام لیتے ہیں۔ تو تڑاخ تھپڑ گھونسے لاتیں۔ امریکہ میں بیٹھے ہوئوں کے لئے بھی کہا جائے گا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اس کے بعد تو بالکل نہیں مانتے۔ امریکہ میں بھی پیپلز پارٹی کے جیالے ایسے ہی ہیں۔ زرداری پاکستان کے صدر کی بجائے پیپلز پارٹی بلکہ زرداری کی پیپلز پارٹی کے صدر بن گئے ہیں۔ وہ اس پارٹی کے شریک چیئرمین بھی ہیں۔ شریکا ختم کرنے کے لئے صدر اوباما کو ملانے اپنے بیٹے بلاول کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔ اتفاق سے وہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں