قربانی کی بکری
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 12 فروری ، 2012
وزیراعظم گیلانی کے جانے کے بعد خورشید شاہ کا نام سننے میں آ رہا ہے۔ اس حوالے سے کسی اتحادی جماعت کے لیڈر سیاستدان کو وزیراعظم بنایا جائے تو اور بھی بہتر ہو گا۔ کچھ عرصہ پہلے اس کیلئے چودھری پرویز الٰہی کا نام لیا جا رہا تھا۔ اس میں صدر زرداری کی سیاسی چالوں کی نشانیاں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی سے ہی کوئی وزیراعظم بنانا ہے تو پیپلز پارٹی یعنی صدر زرداری کی پالیسی اور منصوبہ بندی کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ جب بھی آدمی کسی منصب سے جاتا ہے تو اس کی جگہ کسی خاتون کو مقرر کیا جاتا ہے۔ جب قمر الزمان کائرہ گئے تو ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا حسین حقانی کے استعفیٰ کے بعد شیری رحمان کو امریکہ میں پاکستانی سفیر بنایا گیا۔ سیکرٹری ڈیفنس ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل لودھی کو برطرف کیا گیا تو وزیراعظم گیلانی نے اپنی خاص زنانہ بیوروکریٹ نرگس سیٹھی کو سیکرٹری ڈیفنس کا اضافی چارج دے دیا۔ اسے بھی کسی حوالے سے سپریم کورٹ میں طلب کر لیا گیا ہے۔ وہ ابھی تک کیبنٹ سیکرٹری بھی ہے۔
میری گزارش ہے کہ فوزیہ وہاب کو وزیراعظم بنایا جائے۔ اس طرح لوگ وزیراعظم گیلانی کے جانے کو بھی جلدی بھول جائیں گے۔ ویسے بھی ان کے جانے پر لوگوں کو خوشی ہو گی۔ پیپلز پارٹی کے کئی حلقوں میں یہ بات ہو رہی ہے کہ ہم مٹھائیاں تقسیم کریں گے۔ عدالت میں اعتزاز احسن کی وکالت کا بھانڈہ پھوٹ گیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ بے چارے وزیراعظم کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے تو میری طرف سے بڑے ادب سے گزارش ہے کہ وزیراعظم گیلانی کو قربانی کی بکری بنایا جا رہا ہے اور قربانی بکری کی بھی جائز ہے۔ بکری بے چاری ہر وقت یونہی ”میں میں“ کرتی رہتی ہے۔ اس کی حیثیت ایک بے بس کمزور اور ڈرپوک مخلوق کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی۔ اس کی ایک صفت ہے کہ وہ دودھ دیتی ہے مگر اس بکری کا کیا جائے کہ وہ دودھ دے مگر وہ مینگنیوں سے بھرا ہوا ہو۔
٭ .... ٭ ٭ ٭ .... ٭
میں نے خرم رسول کو ٹی وی چینل پر دیکھا۔ اسے جس طرح پولیس والے ذلیل اور بے عزت کر کے لا رہے تھے مجھے بڑی شرم آئی۔ اس نے کتنی کرپشن کر لی ہو گی۔ وہ یہ پیسے ہضم بھی کر جائیں تو کیا یہ بے عزتی اور توہین اسے مرتے دم تک یاد نہیں آتی رہے گی۔ جب چیف جسٹس کے ساتھ پولیس والوں نے زیادتی کی کوشش کی تو پورے ملک کے لوگوں اور وکیلوں نے بڑا منایا اور پھر انہیں اتنی عزت ملی کہ وہ کسی حکمران سیاستدان اور جرنیل کو نصیب نہیں ہو گی۔ خدا کی قسم عدالت میں وزیراعظم گیلانی کے حاضر ہونے پر لوگ خوش ہوئے ہیں۔ اسے سزا بھی ملی تو بھی لوگ خوش ہوں گے حتیٰ کہ وزیراعظم گیلانی اپنے جیل فیلو یار خرم رسول کی بے عزتی پر خوش و خرم ہوں گے کہ ان کا بھی یہی حال ہونے والا ہے۔ اب شاید وہ ان کے جیل فیلو نہ ہوں کیونکہ نجانے کیوں اپنے جیل فیلوز کو نوازنے کا وزیراعظم گیلانی کو بہت شوق ہے۔
٭ .... ٭ ٭ ٭ .... ٭
اب یہ لکھنے کی کیا ضرورت ہے کہ اس طیارے میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی سوار بلکہ شہسوار تھیں جسے ہنگامی لینڈنگ کرتے ہوئے کراچی میں واپس اتار لیا گیا۔ اس میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کیا قصور ہے۔ اب تو وہ بہت سمارٹ بھی ہو چکی ہے۔ مسرت شاہین نے سیاست میں آنے اور مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں ڈیرہ اسماعیل خان سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسرت شاہین کے ساتھ مل کر کسی طیارے میں بیٹھیں تو خطرہ ہو سکتا ہے اور دوسرے مسافروں کیلئے حادثے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ یہ صرف خواتین سیاستدانوں پر منحصر نہیں بلکہ ہمارے سیاستدان بھی اس حوالے سے بہت بھاری ہیں وہ تو کرپشن کے ریکارڈ توڑنے کے بعد حج اور عمرے بھی کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح اللہ کو بھی راضی کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ایک شاعر تھے عبدالحمید عدم کمال کے شاعر تھے۔ مشاعروں کی روایت کو انہوں نے بہت بارونق بنایا۔ ان کا ایک شعر ہے جو مسرت شاہین کے علاوہ مولانا فضل الرحمن بھی پڑھ سکتے ہیں
اس قدر بوجھ تھا گناہوں کا
حاجیوں کا جہاز ڈوب گیا
٭ .... ٭ ٭ ٭ .... ٭
مسرت شاہین کے حوالے سے میرے کالم کیلئے بہت دوستوں نے بات کی۔ کچھ لوگوں نے تو باقاعدہ مالی امداد کی پیشکش بھی کی تو میں نے اس حوالے سے مسرت شاہین سے رابطے کیلئے کہا۔ انہوں نے مجھ سے مسرت شاہین کا نمبر مانگا تو میں نے معذرت کی کہ اس کا نمبر بھی میرے پاس نہیں۔ مسرت کے حوالے سے اپنے ٹی وی اینکر دوست ڈاکٹر محمود قریشی کا ذکر کیا تھا۔ اس کا نمبر مجھے معروف ادیب دوست افتخار مجاز نے دیا تھا۔ شاید محمود قریشی مسرت شاہین کیلئے کچھ بتا سکے 0323-8435895۔ برادرم سعید آسی بھی مسرت شاہین کی تعریف کر رہے تھے کہ وہ بہت روادار اور مہمان نواز خاتون ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ لاہور میں پشاور سے بھی زیادہ لوگ ہوں گے جو مسرت شاہین کی سپورٹ کریں گے۔ کئی لوگ کہہ رہے تھے کہ اگر ان کا ووٹ ڈیرہ اسماعیل خان میں بن جائے تو وہ باقاعدہ مہم چلائیں گے کہ مسرت شاہین کو ووٹ دو۔ ان لوگوں کی خواہش ہے کہ مولانا ڈیزل کسی طرح ہار جائیں اور انہیں مسرت شاہین ہی ہرا سکتی ہے۔ بہت لوگوں کا خیال تھا کہ تحریک انصاف والے مسرت شاہین کو اپنے ساتھ ملائیں اور ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانا کے مقابلے میں ٹکٹ دیں۔ پھر مسرت کا جیتنا یقینی ہو جائے گا۔ اس سے بہت لوگوں کو مسرت ہو گی جو مسرت شاہین کے حق میں نہیں ہیں مگر مولانا فضل الرحمن کے خلاف ہیں۔ اس کے بعد دوسری ایسی خواتین کو بھی حوصلہ ملے گا۔ اس طرح اگلے انتخاب میں فلمی ستاروں کی پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ اس سے پاکستان میں انڈسٹریل انقلاب تو نہ آئے مگر فلمی انڈسٹری میں کچھ نہ کچھ ترقی ہو گی۔ اس ملک میں اب علمی ترقی کا امکان تو نہیں مگر فلمی ترقی تو ہونا چاہئے۔ یہ بات ان لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جو اسلام اور نظریہ پاکستان کی سربلندی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب سیاست کا یہ حال ہو گیا ہے تو یہ سیاستدانوں کیلئے بھی سوچنے کا مقام ہے۔
٭ .... ٭ ٭ ٭ .... ٭
نئے صوبوں کی بحث اب دوسرے حکومتی متنازعہ معاملات کی طرح تحلیل ہوتی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست یہی ہے کہ لوگوں کو نت نئے نان ایشوز میں الجھا کے رکھا جائے۔ سپریم کورٹ کو بھی ایسے مقدمات میں پھنسایا ہوا ہے کہ وہ لوگ جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو اپنا محبوب لیڈر اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ اب تک منتظر ہیں کہ ہماری نجات کب ہو گی۔نوائے وقت میں معروف شاعر اور گیت نگار ریاض الرحمن ساغر روزانہ ایک نظم لکھتے ہیں۔ یہ ان کے قادرالکلام ہونے کا ثبوت ہے۔ یہ کوئی بڑی شاعری نہیں ہوتی۔ جس طرح ہر کام کوئی بڑا ادب پارہ نہیں ہوتا۔ جبکہ کچھ لوگوں نے اپنے کالموں کی کتابیں چھپوا کے اپنے آپ کو مزاح نگار مشہور کروا رکھا ہے۔ روزانہ ایک منظوم کالم لکھنا بہت بڑی بات ہے۔ اب نئے صوبوں کے حوالے سے ریاض الرحمن ساغر کی نظم بلکہ منظوم کالم کا عنوان ہی اتنا بامعنی ہے کہ کوئی چاہے تو اس پر کئی کالم لکھ سکتا ہے۔ ان کی نظم کا عنوان ہے ”صوبے اور منصوبے“
2-3-4
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں