آنسوﺅں کا سوال
ـ 11 مارچ ، 2010
رفیق ڈوگر
معصوم حسن کے آنسوﺅں کے اس سوال کا جواب تو پڑھتے ہیں کہ کسی ”تحریک طالبان“ نے دے دیا ہے۔ کہ ”میری ماما کو کس نے مارا وہ تو صبح مجھے سکول چھوڑنے گئی تھیں۔ لیکن ہے کسی کے پاس اس سوال کا جواب کہ انہوں نے معصوم حسن کی ماما کو کیوں مارا ہے؟ اسی کسی ”تحریک طالبان“ نے معصوم حسن اور اس جیسے کئی دیگر معصوم بچوں کے ماما پاپا کو مار دینے کا سبب یہ بتایا ہے کہ انہوں نے امریکہ اور اس کے غلاموں سے انتقام لیا ہے۔ مگر کس چیز کا انتقام لیا ہے۔ انہوں نے ان معصوم بچوں سے اور ان کے والدین سے؟ یہ سوال بھی رہنے دیں کہ کون ذمہ دار ہے امریکہ کے غلاموں کو امریکی غلامی میں دھکیلنے کا تو بھی یہ سوال تو پوچھنا ہی چاہئے کہ یہ معصوم ذمہ دار ہیں اس کے؟ اور یہ بھی کہ معصوموں سے انتقام ان ”تحریک طالبان“ والوں کے دین میں کس نے جائز قرار دیا ہوا ہے؟ ایسا انتقام ہے جائز اس دین اسلام میں جس کے وہ دعویدار ہیں؟ کائنات کے خالق و مالک نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو قرآن نازل فرمایا تھا وہ تو ان کے پاس ہو گا ہی اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارک سے بھی وہ لازماً آگاہ ہوں گے ہے اللہ کے نازل کردہ قرآن اور اس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں کوئی ایک بھی ایسے انتقام کا حکم اور مثال؟ اگر نہیں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے دعویدار خود کس کے غلام ہیں؟ کس کی غلامی میں دھکیل رہے ہیں وہ ہمیں؟ اور اس سے فائدہ کسے پہنچ رہا ہے؟ امریکہ اس کے سامراجی اتحادیوں اسرائیل اور بھارت کو نہیں پہنچ رہے اس کے سارے فوائد؟ جو بھی کوئی امریکہ اور اس کے ان اتحادیوں کا دشمن ہے اس کی دشمنی اور موقف کو بھی بہت کمزور کر دیا گیا ہے؟۔ حدیبیہ کے معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ ”اگر قریش کا کوئی مرد (رجل) اپنے ولی کی اجازت کے بغیر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائے گا تو اسے قریش کو واپس کر دیا جائے گا۔ حضرت ابوبصیرؓ مکہ سے بھاگ کر مدینہ پہنچ گئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس کر دیا۔ حضرت ابو بصیرؓ قریش کے وفد کے سربراہ کو قتل کر کے واپس مدینہ آ گئے اور مشرکوں کے ہتھیار اور خمس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دئیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں خمس لے لوں تو میں نے وعدہ پورا نہیں کیا“ حضرت ابوبصیرؓ مدینہ سے ساحل سمندر کی طرف نکل گئے اور ریاست مدینہ کی حدود سے باہر جنگل میں ٹھکانہ بنا لیا مکہ کے مشرکوں سے جو بھی کوئی نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا تھا مدینہ نہیں جاتا تھا بلکہ جنگل میں حضرت ابوبصیرؓ کے پاس پہنچ جاتا تھا۔ ان میںحضرت ابوجندلؓ بھی شامل تھے۔ جنہیں اسی معاہدے کے تحت ان کے والد کو واپس کر دیا گیا تھا ارد گرد کے قبائل کے کچھ لوگ بھی ان سے مل گئے تھے اور انہوں نے قریش مکہ کا تجارتی راستہ بند کر دیا تھا۔ قریش نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ انہیں مدینہ بلا لیں ہم آئندہ ولی کی اجازت کے بغیر مدینہ پہنچ جانے والوں کی واپسی کی شرط پر عمل کرنے کو نہیں کہیں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مراسلہ ارسال فرمایا ”مسلمانوں کو مدینہ لے آئیں اور باقیوں کو ان کے گھروں کی طرف بھیج دیں“ حضرت ابوبصیرؓ بیمار تھے وہ وہیں العیص میں فوت ہو گئے تھے اور حضرت ابوجندلؓ باقی اہل ایمان کو مدینہ لے آئے تھے۔ ہے اس میں کسی کے لئے رہنمائی؟ (1)اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے پر عمل فرمایا تھا۔ (2) آپ نے قریش کے ظلم اور جبر کے شکار اہل ایمان کو قریش کا تجارتی راستہ بند کر دینے سے نہیں روکا تھا (3) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست مدینہ کی حدود کے اندر انہیں ایسی کارروائیوں کے لئے کوئی مرکز قائم کرنے کی اجازت نہیں دی تھی (4) اپنے دشمن کے خلاف لڑنے والے اہل ایمان نے ریاست مدینہ کے مفادات کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ (5) انہوں نے ریاست مدینہ کی حدود کے اندر رہنے والے اہل ایمان کو کبھی ایسی کارروائیوں میں شامل نہیں کیا تھا۔ (6) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مرکز کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے لئے کبھی کوئی لشکر نہیں بھیجا تھا کہ وہ ریاست کی حدود سے باہر تھے۔ اور قریش سے معاہدے کی کوئی شرط ان پر لاگو نہیں ہوتی تھی (7) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو مراسلہ ارسال فرمایا تھا اس میں لکھا تھا ”تمہیں تمہارے دشمنوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا“۔ ایسے سب اہل ایمان مدینہ آ گئے تھے اور ریاست مدینہ کے تحفظ اور ترقی میں دیگر مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ اللہ کے قرآن اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں کسی کے لئے رہنمائی ہے؟ سب ہی اہل ایمان کے لئے وہ حکمران ہوں عوام ہوں یا اپنے دشمن کے خلاف لڑنے والے ہوں۔ اور اہل ایمان کے لئے رہنمائی صرف قرآن اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہے کسی بھی اور کے کسی بھی قول و فعل میں کوئی رہنمائی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ تو پھر کہاں سے لے رہے ہیں رہنمائی وہ لوگ جو معصوموں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو کمزور کر رہے ہیں اور ان کے سب دشمنوں کی چالوں کی کامیابی کی راہیں ہموار کر رہے ہیں؟ امت مسلمہ کے سب دشمن تو اسے بخوبی سمجھتے ہیں مگر امت مسلمہ میں سے کسی گروہ کو اس کی سمجھ نہ ہو؟ مان لیں؟ ایسی تباہی اور بربادی کی منصوبہ بندی کرنے والے بے سمجھ ہو سکتے ہیں۔ ؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں