قسطوں میں موت
ـ 11 مارچ ، 2010
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
مظفر محمد علی نے بہت اچھی کہانیاں لکھی ہیں، ایک کہانی کا عنوان ہے ”قسطوں میں موت“ وہ قسطوں میں مرتا رہا، وہ زندہ آدمی تھا، زندگی کو کوئی اور زندگی بنانے کی آرزو اور ارادہ اس کے اندر مچلتا رہتا تھا، وہ مر مر کے جیتا رہا اور جی جی کے مرتا رہا۔ ہم سب قسطوں میں مر رہے ہیں۔ ایڑیاں رگڑ رگڑ کے کڑھ کڑھ کے، سڑ سڑ کے، مر مر کے جیتے ہوئے مر رہے ہیں۔ چاروں طرف سے کئی قسموں، رنگوں کی موت ہم پر جھپٹتی ہے اور جھپٹتی ہی رہتی ہے۔ زندگی اور موت دونوں ہمیں شکار کر رہی ہیں۔ مرزا غالب نے کہا تھا....
ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
ہم پر بلائیں تمام ہی تو نہیں ہوتیں، کام تمام ہو جاتا تو کام بن جاتا، امیدوار ناامیدی کے درمیان رہتے رہتے تھک گئے ہیں، اَک گئے ہیں۔ میں مظفر محمد علی کے آخری دنوں کا گواہ ہوں اور یہ گواہی مجھے چین نہیں لینے دیتی۔ کیا بندہ تھا وہ اور کس طرح زندگی گزار کے گیا اس کا آغاز کتنا شاندار تھا اور اختتام تو انجام سے بھی تکلیف دہ تھا۔ اس نے بڑی تکلیفیں سہیں، بے بسی اور کسمپرسی کی انتہا اس پر ٹوٹ پڑی تھی۔ مرگ ناگہانی تو ایک تہمت ہے، اچانک خاتمہ تو خوش قسمت آدمیوں کے نصیب میں ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنے آپ کو مرتا ہوا دیکھتا ہے، لمحہ لمحہ موت کی طرف جاتے ہوئے رک نہیں سکتا کچھ دیر کے لئے بظاہر یہ حرکت رک جائے تو زیادہ دکھ دینے والی ہوتی ہے۔ میری طرح وہ بھی اس صلیب سے لٹکتا رہا جو ہمیں نظر نہیں آتی۔ دو مقام دل والوں کو بہت محبوب ہیں۔ کوئے بازار اور سوئے دار۔ ہم نے خیالوں خیالوں میں ان مقامات کی بہت سیر کی مگر ہم بے مقام ہی رہے۔
میں کسی دوست اور پیارے کا آخری دیدار نہیں کر سکتا، میں نے کسی مرحوم کا منہ کبھی نہیں دیکھا، مجھ سے تو کسی زیادہ بیمار آدمی کی عیادت نہیں ہو سکتی۔ وہ بہت اچھا آدمی تھا۔ سنبھلی ہوئی شخصیت والا دردوگداز سے بھرا ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ کوئی راز بھی اس کے پاس تھا وہ اس کوشش میں رہا کہ کسی کو اپنا ہمراز بنائے مگر شاید وہ راز اپنے ساتھ لے گیا ہے، ہر شخص کے پاس کوئی نہ کوئی راز ہوتا ہے اکثر تو اس راز سے بے خبر رہتے ہیں انہیں بے خبری کے راز کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ اب تو یہ بے خبری رہی اور نہ کوئی راز کسی کے پاس ہے اب ہر کوئی باخبر ہونا چاہتا ہے اور ذلیل و خوار ہو رہا ہے زیادہ تر ذلت کو تہمت سمجھ بیٹھے ہیں۔ سوہنی زندگی کا کوئی تصور کسی کے پاس نہیں تو وہ سوہنی موت سے کس طرح آشنا ہو سکتا ہے۔ مظفر محمد علی کو سوہنی زندگی نہ ملی مگر سوہنی زندگی کے خواب اور خیال تو اس کے پاس تھے جس کے پاس زندگی کو کوئی اور زندگی بنانے کی آرزو ہوتی ہے وہی اس زندگی کے لئے ترستا رہتا ہے اور پھر سوہنی موت بھی اس کا مقدر نہیں بنتی۔ وہ ایک عام سی آسان زندگی کے لئے ہم سب کی طرح جدوجہد کرتا رہا۔ اس نے کچھ ایسا تو نہ کیا تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے دوست بھی غمزدہ ہو جاتے تھے۔ جس دن میں نے اس کے لئے کالم لکھا کہ حکمران اور لوگ اس کی زندگی بچانے کے لئے مدد کریں تو میں اپنے اندر ایک بار پھر مر گیا تھا۔ میں نجانے کتنی بار اس طرح مرا ہوں۔ اس کے گردے فیل ہو گئے تھے اس سے پہلے وہ خود بھی فیل ہو گیا تھا۔ فیل تو ہم سب ہو چکے ہیں۔ میں اسے ملنے نہ گیا تھا۔ میرا حال کون جان سکتا ہے کہ میں اس کے ساتھ ملنے کے لئے بے تاب تھا پھر اچانک دو دوستوں کی مدد سے وہ برادرم رحمت علی رازی کے دفتر پہنچا تھا۔ میں اچانک رازی صاحب کے پاس گیا ہوا تھا ہم تینوں دیر تک باتیں کرتے رہے اور کوئی بات نہ کر سکے پھر وہ مر گیا اور مجھے پتہ ہی نہ چل سکا یہاں دوستوں کے لئے ہی ایک دوسرے کی خبر نہیں ہوتی، کسی نے فون بھی نہ کیا۔ اخبار میں آیا ہو گا مگر دو سطری خبر پر نظر نہ پڑی۔
مجید امجد یاد آتا ہے کتنا بڑا شاعر تھا ایک چھوٹے سے کمرے میں اس نے پوری زندگی کو دیکھا تھا نہ اس کے جینے کا پتہ چلا نہ مرنے کا پتہ چلا۔ وہ بیش بہا آدمی تھا اس کے لئے استاد محترم ڈاکٹر خواجہ زکریا نے کام کیا ہے ہم اسے پڑھتے ہیں اور اپنے آپ کو داد دیتے ہیں کہ یہی لکھنے والے کی اصل بڑائی ہے کئی برسوں سے مظفر کا پتہ نہ تھا کہ وہ ہے اور وہ نہیں ہے تو اس کی بھی کسی کو خبر نہیں ہے ....
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروںگا کون دیکھے گا
میری بہن، بھابھی، بیگم مظفر علی سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے بچوں سے کہا تھا اجمل نیازی کو بتاو¿ شاید انہوں نے نہیں بتایا تو شاید مرے اندر ہی کوئی کمی ہو گی۔ میں مظفر جیسے آدمی کا دوست ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہوں میں زندگی میں اس کا ہمسفر نہ بن سکا تو اس کے آخری سفر میں کیسے شریک ہوتا۔ میں تو خود اپنا ہمسفر بھی نہیں بن سکا، ہم خواب دیکھنے والے ایک راستے کے مسافر ہیں اور ہمسفر نہیں ہیں ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ ساتھ ساتھ چلتے رہے اور ہمسفر نہ بن سکے۔ مجھ سے اس لڑکی نے پوچھا کہ سوہنی موت کیا ہوتی ہے اس نے پہلے پوچھا تھا کہ سانولا رنگ تمہیں پسند ہے وہ کیسا ہوتا ہے۔ میں نے اسے کہا تھا کہ تم نے کبھی آئینہ دیکھا ہے اس نے مجھے غور سے دیکھا جیسے اسے میرا جواب چاہیے تھا۔ میں نے اسے کہا کہ جب چاند نکلا ہوا ہو تو ماتھے پر ہاتھ رکھو کہ چاند تمہیں نظر نہ آئے۔ فضا میں دیکھو جو رنگ بکھرتا ہوا نظر آئے وہ سانولا رنگ ہے۔ سوہنی موت کے لئے میں نے اسے کہا کہ کبھی تم آدھی رات کے بعد اٹھو جب آسمان کی طرف دیکھنے والا کوئی نہ ہو، تمہارے سامنے اچانک کوئی تارہ ٹوٹے اور اپنی ہی روشنی کی لکیر میں گم ہو جائے۔ شاید مظفر محمد علی اسی طرح مرا ہو، دوسروں کے لئے تکلیف والی موت اسے آسودہ کر گئی ہو، وہ اپنی روشنی میں چھپ گیا ہے۔....
ایک ایک کرکے ستاروں کی طرح ٹوٹ گئے
ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں