پابندیاں اور جرمانے صرف کھلاڑیوں کےلئے ہی کیوں ....؟
ـ 11 مارچ ، 2010
حافظ محمد عمران
پاکستان کرکٹ بورڈ نے یونس خان اور محمد یوسف پر عائد کردہ تاحیات پابندی کے بارے میں ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے سزا کے صرف چھ گھنٹے بعد ہی کہہ دیا کہ پابندی تاحیات نہیں بلکہ غیرمعینہ مدت کےلئے لگائی گئی تھی۔ اس سے قبل دورہ آسٹریلیا میں قومی ٹیم کی بدترین کارکردگی کی وجوہات جاننے کےلئے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی سفارشات پاکستان کرکٹ بورڈ کو پیش کیں جنہیں پی سی بی نے کر لیا۔ بورڈ کے فیصلے کے مطابق ٹیم میں انتشار پھیلانے اور اختلافات پیدا کرنے کے جرم میں سابق کپتان محمد یوسف اور یونس خان پر مستقبل میں قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی پر پابندی عائد کی گئی۔ بال ٹمپرنگ کے شرمناک واقعے میں ملوث شاہد آفریدی پر تیس لاکھ روپے جرمانہ لگا۔ سنٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کامران اکمل پر بھی تیس لاکھ اور ان کے بھائی عمر اکمل پر بیس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
پی سی بی کی جانب سے چلائے جانے والے کلہاڑے کی زد میں آنے والے کھلاڑی کسی حد تک گنہگار تھے اس کا پتہ آنے والے دنوں میں چل ہی جائے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ٹیم کو چلانے والے اور بورڈ کی ذمہ داری نبھانے والے ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی جس سے ان کھلاڑیوں کو سنگین غلطیوں کےلئے کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ وہ لوگ جو گذشتہ ڈیڑھ سال سے ٹیم مینجمنٹ کا حصہ رہے ہیں، وہ بدستور کسی نہ کسی حیثیت میں بورڈ کے اندر موجود ہیں لیکن کھلاڑیوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔ ان اعلیٰ عہدےداروں کو ان تمام خرابیوں سے کس طرح بری الذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ کھلاڑی جس حد تک سرکش ہو چکے تھے انہیں قابو کرنے کےلئے ایسے سخت فیصلوں کی ضرورت تھی لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ٹیم کے ساتھ منیجر اور کوچ کی حیثیت سے کام کرنے والوں کو نواز جائے اور کھلاڑیوں پر کرکٹ کے دروازے بند کر دیئے جائیں حالانکہ اگر کھلاڑی قصوروار ہیں تو یہ انتظامی عہدے دار بھی ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔
بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہو جاتی خود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی اب تک کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اگر حقیقت سے تمام صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو تمام خرابیاں اور برائیاں ان سے شروع ہو کر انہیں پر ختم ہوتی ہیں۔ انہوں نے ابھی تک کرکٹ کی بہتری کےلئے سوائے بیان بازی کے کچھ نہیں کیا۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کھلاڑیوں پر پابندی سے ان کی ناقص کارکردگی پر پردہ پڑ جائے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ شائقین کرکٹ اور کرکٹ ناقدین کے مطابق موجودہ دور پاکستان کرکٹ کا بدترین اور ناکام ترین ہے۔ آج شائقین بار بار سوال کرتے ہیں کہ دو سال میں پانچ کپتان بنانے اور بار بار ٹیم کو توڑنے کا ذمہ دار کون شخص ہے؟ پی سی بی کے پیٹرن انچیف صدر آصف علی زرداری، پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں۔ کیا وہ ملک کے مقبول ترین کھیل کے بیڑہ غرق کروانا چاہتے ہیں؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں