اعتزاز خود توہین عدالت کر رہا ہے ؟

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 11 فروری ، 2012
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور اعتزاز احسن کی پرانی تصویر شائع ہوئی ہے جس میں اعتزاز چیف جسٹس کی گاڑی ڈرائیور کر رہے ہیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر اعتزاز، چیف جسٹس کے ڈرائیور نہ بنتے تو نہ لیڈر بنتے اور نہ وکیل بنتے۔ اعتزاز مسکرا رہے ہیں جیسے یہ کام ان کا کوئی کارنامہ ہے۔ کارنامہ تو ہے کہ اس کے بعد جو بھی چیف جسٹس کا ڈرائیور بنا وہ کچھ بھی نہ بن سکا۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اعتزاز نے درمیان میں یہ ڈرائیوری چھوڑ کیوں دی تھی۔ کیا ان کا یہ کام اتنا ہی تھا۔ ”مک مکا“ ایک خاص وقت کے لئے ہوتا ہے۔ اس کے بعد وکلا تحریک جس طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوئی قربانی دینے والے وکلا جتنے بددل ہوئے، اعتزاز کے لئے کوئی عزت وکیلوں اور لوگوں کے دلوں میں نہ رہی۔ وہ ایک نظم سناتے تھے جس میں وہ پاکستان کو ماں کے جیسی کہتے تھے تو کیا اب یہ ماں سوتیلی ماں بن گئی ہے یا اعتزاز سوتیلے بیٹے بن گئے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کرنے کے باوجود کہ وہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے سامنے پیش نہیں ہوں گے وہ توہین عدالت کے کیس میں وزیراعظم گیلانی کے وکیل بن گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ توہین عدالت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ وہ چیف جسٹس کے مقابلے میں آ کے کھڑے ہو گئے ہیں۔ عدالت نے توہین محسوس کی ہے تو فرد جرم عائد ہو رہی ہے جبکہ فہرست جرم عائد ہونا چاہئے تھی۔ کیونکہ گذشتہ چار برسوں میں جتنی کرپشن ہوئی ہے اور اختیارات کا غلط استعمال ہوا ہے۔ فنڈز میں لوٹ کھسوٹ کی گئی ہے۔ کوئی بھی کسی طرح بھی معافی کے قابل نہیں۔ اعتزاز پہلے عدالت کے وقار کا حامی تھا۔ اب عدالت کی توہین کا حامی ہے۔
وزیراعظم گیلانی کی طرف سے جو بیان اعتزاز نے عدالت میں داخل کیا ہے۔ اس کے لئے اعتزاز کے سابق ”محبوب“ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے اپیل میں جو لکھا ہے وہ بھی توہین عدالت کے مترادف ہے۔ چیف ایگزیکٹو نے عدالت کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو پشیمان کیا ہے۔ ججوں نے رہائی کے لئے وزیراعظم کو درخواست نہیں دی تھی۔ ہم تو اس کے سامنے بھی نہیں جھکے جو خود کو بہت طاقتور سمجھتا تھا اور باوردی تھا۔ سپریم کورٹ کو فارغ کر کے پارٹی ورکر بٹھا دیں تاکہ اپنی مرضی کے فیصلے لے سکیں۔ ججوں کی رہائی اور بحالی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وزیراعظم کو کھلی چھٹی دے دی جائے۔ جب وزیراعظم گیلانی کہتے ہیں کہ میں نے ججوں کو بحال کیا تو لوگ ہنستے ہیں۔ وزیراعظم کے ساتھی ہنستے ہیں۔ صدر زرداری تو زور زور سے ہنستے ہیں البتہ نواز شریف پریشان ہو جاتے ہیں اور جنرل کیانی حیران ہو جاتے ہیں۔ اس وزیراعظم کا دفاع کرنے کے لئے اعتزاز احسن میدان میں اترے ہیںبڑے عرصے تک جس نے ججوں کو بحال نہ کیا۔ یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ چیف جسٹس کہتے ہیں توہین عدالت ہوئی ہے اور اعتزاز کہتے ہیں کہ توہین عدالت نہیں ہوئی۔ وکلاءتحریک کے لیڈر کی دوغلی پالیسی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ سپریم کورٹ کے مقابلے میں آ کے کھڑا ہوا ہے۔ وکلاءپیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف اسی طرح تحریک چلاتے رہے جیسے جنرل مشرف کے خلاف ثابت قدم تھے۔ اپیل میں سپریم کورٹ پر احسانات جتانے کو ججوں نے بہت محسوس کیا ہے۔ ججوں کی ثابت قدمی نے ایک تاریخ بنائی ہے اور اگر زرداری صاحب صدر بنتے ہی ججوں کوبحال کر دیتے تو وزیراعظم گیلانی اتنی بگاڑ پیدا نہ کر سکتے تھے۔ آخر اعتزاز ہی چیف جسٹس کو زرداری صاحب کے گھر لے کے گئے تھے۔ بے نظیر بھٹو کی تعزیت کے بعد کسی کی تعزیت کے لئے وہ کہیں نہیں گئے۔ یہ بھی اعتزاز کی ایک ناکامی ہے کہ وہ نہ وکلاءکے اعتباز کو قائم رکھ سکے اور نہ صدر کو قائل کر سکے۔ اعتزاز کی وکیلی سیاست ابھی ختم نہیں ہو رہی۔ وہ اگر پیپلز پارٹی سے سینٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے توان کی ساری کریڈیبلٹی ضائع ہو جائے گی۔ اور مجھے صدر زرداری جیسے شاطر آدمی سے توقع ہے کہ وہ اعتزاز کو سینٹ کا ٹکٹ دیں گے۔ میں نے صدر زرداری کے لئے شاطر کا لفظ منفی معنوں میں استعمال نہیں کیا۔ کیونکہ ہمارے سارے سیاستدان کچھ نہ کچھ شاطر ضرور ہوتے ہیں مگر ان کا مقابلہ اب ایک کامیاب ترین کھلاڑی سے ہے۔ میمو گیٹ کے حوالے سے نواز شریف کو مدعی کس طرح بنایا گیا اور پھر کس طرح وہ اس معاملے میں پیچھے ہٹ گئے۔ جرنیلوں نے اس کیس کے لئے لکھے گئے خط کو ایک حقیقت قرار دیا تو پھر اس حقیقت کو تلخ حقیقت کس نے بنایا۔ اب امریکہ کے ساتھ روابط بحال ہو رہے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کوئی سیاستدان اس کی مخالفت کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ میمو گیٹ میں سیاستدانوں کا رویہ سب کے سامنے ہے۔
سینٹ میں پیپلز پارٹی کے ریٹائرڈ ہونے والے لوگوں کو دئیے گئے عشائیہ میں صدر زرداری نے یہ پیغام کس کو دیا کہ سیاستدان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر تماشا نہ بنیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ اس تماشے میں سب سے بڑا تماشائی کون ہے۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاستدانوں نے کامیاب سیاست کر لی تھی مگر اب انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کے مقابلے میں کون ہے۔ سامنے کون کھڑا ہے اور پیچھے کون بیٹھا ہے۔ ایک بات بہت سوچنے کی ہے کہ صدر زرداری نے ججوں اور جرنیلوں کو ایک نظر سے دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جج اور جرنیل آپس میں نہیں لڑتے۔ اس کے آگے کا جملہ سمجھ میں آتا ہے جو صدر زرداری نے نہیں کہا تو پھر سیاستدان آپس میں کیوں لڑتے ہیں۔ آج کے اخبار میں ہی وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ فوج ہمارے ساتھ ہے۔ وزیراعظم گیلانی سے پوچھنا صرف یہ ہے کہ فوج کا یہ عمل آئینی ہو گا یا غیرآئینی ہو گا اور یہ بھی پوچھنا ہے کہ وہ اپنا یہ بیان کب واپس لیں گے۔ صدر زرداری بتائیں کہ جو جرنیل وزیراعظم کے ساتھ ہیں کیا وہ بھی ججوں سے نہیں لڑتے۔
اعتزاز نے کہا کہ میں بول بول کے تھک گیا ہوں مگر چیف جسٹس کا سٹیمنا (ضبط و تحمل) بہت زیادہ ہے۔ حیرت ہے کہ اعتزاز کو چیف جسٹس کے سٹیمنا کا اندازہ نہ ہوا جب وہ ان کی ڈرائیوری کرتے تھے اور انہوں نے ایک باوردی جرنیل کا پوری بہادری سے مقابلہ کیا۔ اب اعتزاز چیف جسٹس کو ایک ایسے وزیراعظم سے ڈرا رہا ہے جسے اپنے چیف ایگزیکٹو ہونے کا کمپلیکس چین نہیں لینے دیتا۔ اگر صدر زرداری نہ ہوتے تو وزیراعظم گیلانی کو کہیں پناہ نہ ملتی۔ چیف جسٹس نے عدالت کے وقار کو سامنے رکھا اور ایک بار بھی یہ ظاہر نہ کیا کہ اعتزاز احسن وکیل کے علاوہ بھی کچھ ہے۔ البتہ اعتزاز نے بار بار احسانات جتائے اور وزیراعظم کی یہ وکالت بھی کی کہ اس نے ججوں کو رہا کیا جبکہ وہ خود یہ جانتے ہیں کہ ایسی جرات وزیراعظم میں نہیں۔ اعتزاز کے ان الفاظ پر کہ جس وزیراعظم نے ججوں کو رہا کیا وہ انہیں جیل بھجوانے کے درپے ہیں۔ پھر یہ الفاظ اعتزاز نے واپس لے لئے اور ثابت کیا کہ وہ واقعی وزیراعظم کے وکیل ہیں۔ اعتزاز سے میری صاحب سلامت ہے۔ میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اس مقدمے کی وکالت چھوڑ دیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے جو کچھ کہا وہ عدالت سے باہر کہا۔ اعتزاز تو عدالت میں توہین عدالت کر رہے ہیں۔ !
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں