دشمن کے بارڈر پر مہنگی سرمایہ کاری؟
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 11 فروری ، 2009
فطری دفاعی لائن بی آر بی نہر کے پار نارنگ منڈی کے سرحدی گائوں میرو وال سے شاہدرہ تک دیہات اور زرعی رقبہ کی مکمیل تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لئے محکمہ مال کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سروے کیا جا رہا ہے، اراضی کے انتقال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ باتیں ایک خبر میں سامنے آئی ہیں جو نوائے وقت میں شائع ہوئی ہے۔ محکمہ مال نے زمینوں کا معمولی معاوضہ دینے کے لئے فہرستیں بنانا شروع کر دی ہیں۔ چالیس پچاس کلومیٹر طویل رقبہ میں راوی نیشنل پارک بنایا جائے گا جس میں جھیلیں بھی ہوں گی یہ پارک ایک شکارگاہ کے طور پر بھی استعمال ہو گا، جہاں حکمران افسران سیاستدان اور ان کے مہمان شکار کھیلیں گے اور سیروتفریح کریں گے۔ یہ وی وی آئی پی پکنک سپاٹ ہو گا 35 دیہات اس منصوبے کی لپیٹ میں آئیں گے یہاں کے مکینوں کا واحد ذریعہ کھیتی باڑی ہے ہزاروں گھروں کے لوگوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ یہاں ایک جھیل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا بھی بہانہ بنایا جا رہا ہے، ان علاقوں میں دریائے راوی کبھی بھارت اور کبھی پاکستان میں بہتا تھا وہ بھی اب سوکھ گیا ہے مختلف جگہوں پر یہ دریا گندے پانی کا جوہڑ بن گیا ہے۔ کھڑے پانی میں سرانڈ پیدا ہو گئی ہے آخر وہ پانی کہاں سے آئے گا جو جھیل میں جمع ہو گا اور بجلی پیدا ہو گی۔ پانی بھارت مسلسل روکتا جا رہا ہے یہ بجلی صرف لوڈشیڈنگ کے کام آئے گی۔ یہاں شہبازشریف کے چین کے دورے کے دوران معاہدوں کے ذریعے ملنے والے سرمایے سے کام کیا جائے گا اس منصوبے کی ناکامی کے بعد چین سے پھر کوئی معاہدہ نہ ہو سکے گا۔شہبازشریف نے چین کا دورہ کیا اس دورے سے جو فوائد حاصل ہونگے وہ اپنی جگہ بہت اہم ہیں اس حوالے سے شہبازشریف خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ سرحدی علاقے کے بدقسمت لوگوں نے 19 فروری کو نارنگ منڈی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چھوٹے بڑے حکمران، سیاستدان‘ افسران اور شکاری کاروباری انسان جو چاہتے ہیں کر لیتے ہیں پریشانی اور مایوسی کے سوا مظلوم‘ محروم اور محکوم انسانوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ مجھے ایک درخواست بھی موصول ہوئی ہے جو اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے صدر زرداری کو لکھی گئی ہے جس میں وزیراعظم، آرمی چیف، نوازشریف اور شہبازشریف کی منت سماجت کی گئی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ حکومت پنجاب نے چینی سرمائے سے نارنگ منڈی کے سرحدی علاقوں میں بی آر بی نہر کے مشرقی سمت بھارتی بارڈر تک اور راوی سائفن سے آگے لاہور کے کچھ علاقے مراکا تک چالیس پچاس کلو میٹر کا راوی نیشنل پارک بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سرحدی علاقے کے لوگ ہمیشہ دفاع وطن کے لئے قربانیاں دیتے آئے ہیں جب بھی دشمن (بھارت) کی طرف سے کوشش ہوئی یہ علاقہ دفاعی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتا ہے۔ دفاعی ذمہ داران اس حقیقت سے آگاہ ہیں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے بعد دشمن نے کوئی واردات کی تو سب کچھ تباہ ہو جائے گا اس سے پہلے یہاں کے لوگوں کی تباہی اس کے علاوہ ہے۔ خطرناک بھارتی سرحد پر اتنی بڑی سرمایہ کاری ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔ ملکی مفاد میں سرمایہ کاری ضروری ہے تو ایسے مقام پر کی جائے جو محفوظ بھی ہو اور غیر زرعی ہو۔ اس علاقے میں سابق گورنر اور ناکام سیاستدان غلام مصطفیٰ کھر کا رقبہ بھی ہے جو زرعی مقصد کے لئے کم اور شکارگاہ کے طور پر زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
نوازشریف پاکستان کے ایک محب وطن اور بڑے لیڈر ہیں۔ کھر صاحب سے ان کی دوستی سمجھ سے بالاتر ہے۔ لگتا ہے کہ خاص طور پر نوازشریف کے ساتھ ان کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ جب اسلام آباد ایئرپورٹ سے نوازشریف کو دوبارہ سعودی عرب جلاوطن کیا جا رہا تھا تو لندن سے ان کے ساتھ آنے والا غلام مصطفیٰ کھر کہیں روپوش ہو گیا تھا۔ اس کے مزید مشوروں سے نوازشریف کو بچنا چاہئے۔ نوازشریف ہیلی کاپٹر پر اس علاقے کا فضائی جائزہ لیتے رہے ہیں سنا ہے کہ یہ بات بھارتی فوجی افسران کے علم میں بھی ہے اور وہ بھی اس منصوبے پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ممبئی حملوں اور اس جیسے مزید واقعات کے بعد اگر بھارتی فوج پھر بارڈر پر آ گئی تو اس منصوبے کا کیا بنے گا جبکہ فوج کی اجازت کے بغیر اس علاقے میں کوئی سڑک نہیں بنائی جا سکتی اور کوئی تعمیر نہیں کی جا سکتی اربوں روپے کی سرمایہ کاری دشمن کی زد میں رہے گی زیرو لائن تک سرمایہ کاری کا پس منظر کیا ہے؟ جبکہ کھر صاحب کی زمین بھی زیرو لائن تک ہے۔ یہاں فوج پانی بھی چھوڑ دیتی ہے تاکہ دلدل میں دشمن کے ٹینک چل نہ سکیں۔ اگر منصوبے کی تکمیل سے پہلے کوئی واقعہ ہو گیا تو یہ علاقہ فوج کی نگرانی میں چلا جائے گا اور میدان جنگ بن جائے گا پھر کروڑوں روپے افسران ہضم کر جائیں گے آرمی چیف‘ کور کمانڈر لاہور، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی اس سلسلے میں مداخلت کریں۔ نوازشریف اور شہبازشریف کو بھی ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ اربوں روپے کے منصوبے کی ناکامی کے بعد کس قدر نقصان ہو گا۔ اس علاقے کے غریب مسکین لوگوں کو ذلیل و خوار کرنے کا پروگرام بن چکا ہے یہ لوگ سرحد پر دشمن کی نگاہوں کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں کسی بُرے وقت میں پوری طرح وطن کی عزت کے لئے قربان ہونے سے بھی نہیں گریز کرتے۔ اس سارے منصوبے پر 302 ارب ڈالر خرچ آئیں۔ دو لاکھ 90 ہزار ایکڑ رقبہ خریدا جائے گا۔ نارنگ اور نواحی سرحدی علاقوں کے لوگوں نے آخری دم تک احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملکی حالات خراب ہیں بھارت کے ساتھ معاملات خطرناک ہیں ایسے میں یہ کام کسی طور بھی ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔ اس طرح کی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی سے پہلے سو مرتبہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا بھارت نے اپنے کسی بارڈر پر اس طرح کے ترقیاتی منصوبے کا سوچا بھی ہے؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں