ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان
پروفیسر محمد مظفر مرزا ـ 10 مارچ ، 2010
اسلامی جمہوریہ پاکستان جس غلط سیاسی اور قومی منجدھار اور گرداب سے دوچار ہے، ان پراگندہ احوال کی روشنی میں تمام قوم کے افراد روحانی بے یقینی اور قومی انتشار سے دوچار ہو کر رہ گئے ہیں، کوئی ادارہ بھی معیاری قومی فرائض سے ہمکنار نہیں ہے، ژولیدہ فکری، سکہ رائج الوقت بن چکی ہے، قوم کے بڑے بڑے ادارے مستقبل قریب کے حوالے سے بے محور نظر آ رہے ہیں، اگر کوئی ”خوش آئند“ مرحلہ نظر میں ہے تو وہ الیکٹرنک چینلز کی خوبصورت اور نظریاتی گفتگو ہے کیا بات ہے!
پاکستان نعمت خداوندی ہے اور اس کے قیام سے لیکر آج تک اس مرحلے کی جانب آج تک توجہ نہیں کی گئی اور نہ یہ بتانے کیلئے موثر اقدامات کئے گئے ہیں کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا اور اس کی بقا مستقبل، استحکام اور سالمیت کے تقاضے کیا ہیں۔ پاکستان کا قیام اسلامیان برصغیر کی دوقومی نظریئے کی فتح کی صورت میں عمل میں آیا جس نے یہ ثابت کیا کہ شرار بولہبی اورچراغ مصطفوی ﷺ میں کیا امتیاز ہے، پاکستان کا مطلب لا الٰہ الا اللہ کیوں تھا۔ ہم نے انگریزی حکومت اور ہندو اکثریت کے استبدادیت پسندانہ، فسطائیت پرستانہ مطلق العنانیت اور جوروستم سے آزادی کیوں طلب کی، ہندوجاتی کیوں مصر تھی کہ انگریز ہندوستان خالی کر دے اور حکومت ہندو اکثریت کے حوالے کر جائے تاکہ وہ مسلمانان ہند کو مطیع منقاد بنا لے اور پھر ان سے دس صدیوں کی حکومت کا بدلہ چکائے۔ مگر ان کے حسین خواب شرمندہ تعبیر اس لئے نہ ہو سکے کہ اسلامیانِ ہند کو حضرت قائداعظمؒ کی پُرخلوص پہاڑ کی طرح اٹل بے پایاں دیانت و امانت اور بے پناہ صلاحیتوں کی مالک سیاسی اور قومی شخصیت میسر تھی جس نے انگریزوں کی ہر چال اور مکاری کو خاک میں ملا دیا۔ ہندو کی ہر فریب کاری، ہر حربے اور ہر منصوبے کو اڑا کر رکھ دیا تھا۔
قیامِ پاکستان کی تاریخ، تقریباً ایک صدی کے کرب انگیز اور دلدوز حالات اور واقعات کی آئینہ دار ہے، مسلمانانِ ہند کو آزادی و خودمختاری کے حصول کیلئے جس خاک و خون کے سمندر سے گزرنا پڑا ۔ ان گنت قربانیاں دینا پڑیں اور پھر آزادی کی دہلیز تک رسائی ہوئی ایک خونچکاں داستان ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ہمیں یہ بھی فرصت میسر نہ آئی کہ ہم اپنی جواں نسل کو جنہوں نے پاکستان بنتا تو نہیں دیکھا فقط کتابوں میں تخلیق ہوتا ہوا پڑھا اپنے بزرگوں اور استادوں سے پاکستان کی تحریک کے مراحل کو سنا ان کے قلب و جگر میں قیام پاکستان کے اصل مقاصد اور اصل حقائق اصل وجوہات اور اسباب و علل کی پہچان کرا سکتے۔ ہماری سیاسی حکومتوں نے ان کو کھوکھلے نعرے تو دئیے۔ کلاشنکوفی نظریات سے ہمکنار تو کیا، لب آزاد، کیبل اور الیکٹرونک میڈیا کی عریانیت و فحاشی کی تربیت سے آشنا تو کیا، علم و ادب کے گہواروں سے نفرت تو ضرور سکھائی مگر پاکستان سے محبت و خلوص اور اس مادرِ وطن سے رشتہ قلب استوار کرنے کی نہ تو تلقین کر سکی اور نہ ہی تربیت و تعلیم کا بندوبست کر سکی۔ مجھے یہ تحریر کرتے ہوئے روحانی مسرت و انبساط حاصل ہو رہی ہے کہ پورے پاکستان میں فقط ایک ادارہ ایسا ہے جسے پاکستان کہا جا سکتا ہے اور وہ ہے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان، جس کے دو ادارے نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اور تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ، قوم کے بچوں اور بچیوں کو روزانہ پاکستان کے ساتھ نظریاتی محبت کے درس سے ہمکنار کر رہے ہیں۔ بہ صمیم قلب دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ جناب مجیدنظامی صاحب کو عمرِ خضر اور، صحت تندرستی عطا فرمائیں اور انہیں حاسدین، مخالفین اور متعصبین سے اپنی پناہ میں رکھیں۔ کیونکہ انہی کی نگرانی اور نگہبانی کی وجہ سے آج پاکستان حضرت قائداعظمؒ، حضرت علامہ اقبالؒ کے پیغامات کونے کونے تک پہنچ رہے ہیں اور پاکستان جاگ رہا ہے۔ میں یہاں اس ادارے کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد کے علاوہ دو نوجوان مجاہدین کو خراجِ عقیدت و تحسین پیش کرنا قومی فریضہ سمجھتا ہوں جو شب و روز قومی اور نظریاتی امور کے حوالے سے ہر لمحہ مستعد اور برقی رفتار سے مزین ہیں یعنی جناب شاہد رشید اور جناب رفاقت ریاض صاحب قوم ان کے لئے بھی دعا کرے کہ خدا تعالیٰ انہیں اپنا حفظ و امان عطا فرمائے۔ آمین!
گذشتہ حکومتوں نے اس قلعہ اسلام، اس امانتِ قائداعظمؒ کی سالمیت و استحکام کیلئے کیا کچھ کیا وہ یہی کچھ ہے کہ صوبائیت کے زہریلے نعرے عطا ہوئے قومی تشتت و افتراق کے ابواب کھول دئیے گئے۔ مذہبی منافرت و منافقت کے بیج بوئے گئے، قوم کے معاشرتی سیاسی اور علمی اداروں کا جنازہ نکالا گیا۔ کیا کیا زخم قلب پاکستان پر نہیں لگائے گئے۔ پھر بھی ہمیں فخر ہے کہ ہم پاکستانی ہیں ہم نے حضرت قائداعظمؒ کے فرمان، ایمان، اتحاد، تنظیم پر کتنا عمل کیا۔ سوالیہ نشان ہے؟ حضرت علامہ اقبالؒ نے صحیح فرمایا تھا۔ ....
آج بھی ہو جو براہیم کا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستان پیدا
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں