راوی پار سکول میں چند لمحے!

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ـ 10 مارچ ، 2010
راوی پل سے گزر کر میں میاں عبدالقیوم کے سکول فیروز والا پہنچا، شگفتگی سے بھری ہوئی کشادگی میں وسعت اور ویرانی گلے مل رہی تھیں ایک حیرانی نے مجھے گھیر لیا، شاہدرہ والے میاں محمود میرے ساتھ تھے۔ میاں عبدالقیوم ان کے چھوٹے بھائی ہیں پہلے وہ میاں محمود کے ساتھ تھے۔ انہوں نے نشتر کالونی فیروز پور روڈ میں ”کے پی ایس“ کے نام سے ایک سکول بنایا وہ بھی غریب لوگوں کی بستی ہے شہر کے ساتھ ہے اور شہر سے دور بھی ہے ۔ وہ چاہتے تو شہر کے کسی امیر کبیر ماڈرن علاقے میں سکول بنا سکتے تھے انہوں نے غریبوں کے درمیان رہنا پسند کیا ہے۔ یہ سکول کتنا شاندار اور قابل اعتبار ہے کہ میاں محمود کے اپنے بچے اس سکول میں پڑھتے ہیں ورنہ وہ کسی بڑے سے بڑے سکول کی فیس ادا کر سکتا ہے۔ پورے ملک سے والدین اپنے بچے اس سکول میں بھیجتے ہیں
میاں عبدالقیوم فیروز پور روڈ سے فیروز والا اٹھ آیا ہے، فیروز والا شاہدرہ کا محلہ لگتا ہے مگر شیخوپورہ کا گاو¿ں ہے یہاں لاہور اور شیخوپورہ سے بھی بچے بچیاں آتے ہیں۔ شاہدرہ میں میاں ذکا سکول چلاتے ہیں یہ سارے بھائی تعلیم و تدریس سے عشق کرتے ہیں ایک نئے نظام تعلیم کی تلاش میں یہ میاں برادران ہمسفر ہیں۔ سیاست کے میاں برادران بالخصوص میاں شہبازشریف تعلیم کے میدان میں بڑے جذبے کے ساتھ سرگرم ہیں۔ وہ شریف برادران کے طور زیادہ معروف ہیں۔ میاں صاحب تو بہت ہیں میاں برادران صرف شریف برادران ہیں جس طرح چودھری صاحبان بہت ہیں، چودھری برادران صرف چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی ہیں۔ اب تعلیم کے میاں برادران کہاجائے گا تو دھیان شاہدرہ کے میاں محمود، میاں ذکا اور میاں عبدالقیوم کی طرف جائے گا ان کے سکول ان کے والد محترم کی آبائی زمین پر واقع ہیں۔ میاں عبدالقیوم کے سکول کا سنگ بنیاد 1994ءمیں ان کی والدہ محترمہ نے رکھا تھا اور یہ فخر میاں عبدالقیوم کے وجود میں وجد کرتا ہے۔ ماں کی گود بچے کے لئے پہلا سکول ہے۔ یہ آرزو میاں صاحب کو بے تاب رکھتی ہے کہ وہ اس ادارے کو علاقے کا بہترین سکول بنا دیں اتنے وسیع و عریض علاقے میں کوئی دیہاتی سکول میں نے نہیں دیکھا۔ میرا سکول موسیٰ خیل میانوالی میں حد نظر تک پھیلا ہوا تھا کہ وہاں کوئی چار دیواری ہی نہ تھی۔ میاں صاحب کے جذبوں کی سادگی دیکھیں کہ یہاں میرے جیسے خواب دیکھنے والے درویش قلمکار اور اس کا آئیڈیل بھائی میاں محمود مہمان خصوصی تھے۔ ہم دونوں نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ طالب علم سپاہیوں کے ارادے بلند تھے میں نے ایک کمانڈر فوجی سٹوڈنٹ سے کہا کہ مارشل لاءکبھی نہ لگانا مگر سیاستدانوں کی ”جمہوری بے یقینیوں “ پر نظر ضرور رکھنا۔ زین العابدین پریڈ کمانڈر تھا وہ اتنی بار مجھ سے ایوارڈ لینے کے لئے آیا کہ میں نے کہہ دیا کہ سارے انعام تم ہی لو گے۔ میاں عبدالقیوم نے اس کے والد کو بہترین والدین کہہ کر سٹیج پر بلا لیا ۔ مصطفیٰ صاحب سے گزارش ہے کہ والدین تو ماں باپ مل کر ہوتے ہیں۔ ماں کی بھی پذیرائی ہونا چاہئے تھی۔ میاں عبدالقیوم کی اہلیہ بھی ان کا ہاتھ بٹاتی ہیں سچ ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے مگر وہ یہ بھی خیال رکھیں کہ ایک ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتیں ہوتی ہیں۔ نازش اور مہوش نے بہت خوبصورت کمپیئرنگ کی۔ مجھے آخر تک پتہ نہیں چلا کہ ان کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ آواز کا ایک راز ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمراز لگ رہی تھیں۔ لٹریری سوسائٹی کی مس سلمٰی نورین اور مس فریحہ بہت سرگرم تھیں۔ ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے ڈرامہ پیش کیا گیا۔ ڈرامہ لکھا ہے میمونہ جٹ نے اور ڈاکٹر عافیہ کا کردار حنا نے بہت خوبی سے ادا کیا ہے۔ اس کے ڈائیلاگ سن کر کئی عورتوں نے رونا شروع کر دیا۔ بہت محترم بچی ایوارڈ لینے آئی تو میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جو سب سے ہم کلام تھے کہ تمہاری غیرت و حمیت کہاں سو گئی ہے۔ اس ملک کے حکمران سیاستدان اور جرنیل امریکہ سے کیوں ڈرتے ہیں۔ قمر صاحب نے پی ٹی شو میں اور کراٹے ماسٹر منور بھٹی نے بچوں اور بچیوں سے ایسی پرفارمنس کرائی کہ دل خوش ہو گیا۔ اس سکول میں کوئی ایسا منظر دیکھنے کو نہ ملا کہ جسے دیکھنے کو دل نہ چاہا ہو۔ سب خواتین و حضرات نے خوب انجوائے کیا۔ یہاں میلے کا سماں تھا جیسے آج عید کا دن ہو، چاروں صوبوں کا ڈانس پاکستان کی مکمل ثقافت کا عکاس تھا ۔ مس شہلا نے اس میں قومی رنگ بھرنے کی کوشش کی تھی۔ ٹیچر اکمل ہمدانی کے لئے میاں صاحب نے بہت تعریف کی سارا سٹاف تعلیمی فروغ کے لئے یکجہتی کا پیکر بنا ہوا تھا۔ سکول کی پرنسپل مس انیلہ علی کیانی بہت قابل اور سنجیدہ خاتون ہیں وہ مستقل استانیوں جیسی شخصیت رکھتی ہیں مگر سٹاف ان کے ساتھ سینئر دوست کی طرح رہتا ہے۔
میاں عبدالقیوم اپنے سکول کے لئے ہر وقت سرگرم ہیں وہ ہر روز نئے سرے سے سکول میں آتے ہیں۔ سارا وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنا سب کچھ سکول پر لگا دیا ہے، ان کی رہائش بھی سکول میں ہے وہ چھٹی کے بعد بھی سکول میں ہوتے ہیں
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
اس شاندار تعلیمی ادارے کے لئے حکومت نے کچھ نہیں کیا کئی وزیر شذیر آئے اور دعوے کر کے چلے گئے جو سڑک سکول کی طرف جا رہی ہے وہ میرے دل کی طرح ٹوٹی پھوٹی ہے مگر سکول میں داخل ہوتے ہی ایک نیا جہاں سامنے ہوتا ہے۔ ایجوکیشن ٹاسک فورس کے چیئرمین راجہ انور سینیٹر پرویز رشید اور ایم پی اے عارفہ خالد اس سکول میں آئیں اس کے بعد شہبازشریف خود یہاں آئیں میں میزبان کے سکول میں موجود رہوں گا۔ مہمان کے طور پر یہی لفظ و خیال میاں صاحب کی نذر کرتا ہوں۔
خواتین حضرات نے سوال و جواب کی اس محفل سے بڑا لطف اٹھایا جو ساتویں جماعت کی بچیوں نے ٹیچر نرگس کی نگرانی میں پیش کیا۔ استانی بھی بچی تھی۔ ٹیچر برطانیہ کہاں ہے؟ بچی ، پتہ نہیں....ٹیچر نالائق کرسی پر کھڑی ہو جاو۔ بچی کیا وہاں سے نظر آ جائے گا۔؟
چیف منسٹر ہاوس 90 ، مال لاہور سے کے پی ایس سکول فیروز والا بہت دور ہے کرسی پر بیٹھ کر تو بالکل نظر نہیں آتا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں