شریمتی گورشرن کور خالصہ ڈیوٹی پر؟

رفیق ڈوگر ـ 10 مارچ ، 2010
شریمتی گور شرن کور ننکانہ آ رہی ہیں؟ کس ڈیوٹی پر؟ خالصہ ڈیوٹی دینے یا ویسی ہی کسی ڈیوٹی کے سلسلے میں جیسی ڈیوٹی پر لگانے والوں نے ان کے پردھان ڈاکٹر من موہن سنگھ کو لگایا ہوا ہے؟ سنتے ہیں کہ شریمتی جی پرکاش سنگھ بادل کے ساتھ مل کر ننکانہ میں گورونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھیں گی، سترہ اپریل کو وہ ہماری سرکار کی مہمان بن کر آ رہے ہیں ایسی خالص خالصہ ڈیوٹی دینے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی خالصہ بہادری کے اپنے ذاتی تجربہ کو دیکھیں تو یقین نہیں آتا کہ شریمتی خالصہ ڈیوٹی پر آ رہی ہیں۔ ریزرو بنک آف انڈیا کے پریذیڈنٹ ڈاکٹر من موہن سنگھ جنوب مشرقی ایشیا کے بنکوں کے سربراہوں کے ایک اجلاس میں شرکت کرنے کراچی آئے تو لاہور دیکھنے کی خواہش ظاہر کردی حبیب بینک کے زونل منیجر شفیع ارشد نے باغ جناح کے گلستان فاطمہ میں ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا تھا اور پاکستان میں بھارتی سفارت خانہ کا جائنٹ سیکرٹری انہیں چھوڑتا ہی نہیں تھا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ بھی ہر سوال کا جواب دینے سے پہلے بڑے غور سے اس جائنٹ سیکرٹری کی طرف دیکھتا تھا۔ جائنٹ سیکرٹری اردو بخوبی جانتا سمجھتا تھا میں نے کہا علامہ اقبال کا ایک شعر سنو گے؟ وہ خوش ہو گیا ”ضرور مہاراج ضرور“ میں نے حکیم الامت سے معذرت کی اور کہا کہ علامہ فرماتے ہیں....
اچھا ہے سکھ کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
اس نے قہقہہ لگایا ”نہیں مہاراج میں یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا“ میں نے پوچھا خطرہ کس چیز کا ہے اس نے ایک اور قہقہہ لگایا اور ہمیں ڈاکٹر من موہن سنگھ سے بات چیت کا موقع ہی نہ دیا۔ بنک والے انہیں مقبرہ جہانگیر دکھانے لے گئے ہم بھی ساتھ تھے مقبرہ کے انچارج شیخ سعید نے ان کی بہت ٹہل سیوا کی من موہن سنگھ پرانے آثار میں بڑی گہری دلچسپی دکھا رہے تھے۔ شفیع ارشد نے ان کی مزید خوشی کے لئے مجھ سے کہا اگر کسی طرح اجازت مل جائے تو ہم ڈاکٹر صاحب کو شالامار باغ میں استقبالیہ دے کر خوش کر دیں گے میں نے محکمہ آثار قدیمہ کے ناردرن سرکل کے سپرنٹنڈنٹ احمد نبی خان سے بات کی۔ انہوں نے ایک دو ٹیلی فون کر کے رضا مندی ظاہر کر دی۔ شالا مار کے استقبالیہ میں بھی ہم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ رہے میز پر جم جانے کے بعد ڈاکٹر جی نے بنک کے مہمان نوازی کے انچارج سرفراز محمد بھٹی سے کہا ”بھئی جی اج وی تسیں سانوں کوکا کولا ای ڈاہو گے؟“ بھٹی صاحب نے کہا ”سردار جی دارو تے نیئں ہو سکدا لسی ہو سکدی اے“ ڈاکٹر من موہن سنگھ خوش ہو گیا چلو اوہ ای ڈاہ دیو“ لسی کا جگ آیا تو وہ اکیلے ہی جگ پی گئے تھے اور جائنٹ سیکرٹری نے وہاں بھی ایک لمحہ کے لئے انہیں کھلا نہیں چھوڑا تھا۔ شالامار باغ کے آثار میں بھی وہ بڑی گہری دلچسپی دکھاتے رہے تھے لیکن اپنے گورو کی سمادھی اور رنجیت سنگھ کی مڑھی کے بارے میں دو دن میں وہ ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لائے تھے حالانکہ ساری دنیا سے سکھ شاہی قلعہ کے پاس اپنے ایک گورو کی سمادھی کے درشنوں کے لئے آتے ہیں اور رنجیت سنگھ کی مڑھی پر روتے دھوتے ہیں اسی مجبوری کا سبب تھا کہ رات کے کھانے کے ساتھ ہی ڈاکٹر من موہن سنگھ کی طبیعت اتنی ناساز ہو گئی تھی کہ ہوٹل میں ان کے کمرے پر Dont Disturb کی تختی لگانا پڑ گئی تھی اور ان کا نگران ساری رات بے فکری کی نیند سوتا رہا اسی دکھ درد اور آزادی کی رات کے اندھیرے کے خواب و خیال میں شاید من موہن سنگھ نے کوئی خالصہ یاترا بھی کر لی تھی کہ صبح وہ بڑے ہشاش بشاش دکھائی دے رہے تھے اور بنک انتظامیہ اور اہل لاہور کے بڑے ہی مشکور واپس انڈیا گئے تھے۔ ڈیوٹی دینے کی ماہرانہ صلاحیتوں کے سبب ہی پردھان منتری نرسیما راو نے انہیں بھارت کا وزیر خزانہ بنا دیا تھا تو بھی انہوں نے ڈیوٹی کو ہی دین و دنیا جانا تھا اور سونیا جی کی نظروں میں آ گئے تھے اس زمانے میں سکھوں کو بھارت میں بہت سی خالصہ آزمائشوں سے گزرنا پڑا تھا مگر ڈاکٹر من موہن سنگھ ہمیشہ سکھوں سے دور دور ڈیوٹی سے قریب رہے اسی دوری اور ڈیوٹی کے سبب ڈاکٹر من موہن سنگھ کو بھارت کے پردھان منتری کی کرسی میں جما دیا گیا تھا۔ سکھوں کو شبہ سا ہوا کہ ”اب راج کرے گا خالصہ“ اور انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ سونیا کی ساس اندراگاندھی کے زمانہ میں گولڈن ٹمپل پر جو حملہ کیا گیا تھا اندرا کے قتل پر سکھوں کا جو قتل عام کیا گیا تھا وہی اس کے لئے اپنی خالصہ قوم سے معافی مانگ لیں مگر پردھان منتری ڈاکٹر من موہن سنگھ ایسا بھی کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ ڈیوٹی لگانے والوں نے ”اب خدمت کرے گا خالصہ“ کی جو ڈیوٹی لگائی تھی اور ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے اس کے بعد سے تو بے چارہ ڈاکٹر من موہن سنگھ پردھان منتری انڈیا رات کو Dont Disturb کی تختی لگا کر سو بھی نہیں سکتا اور ان کی شریمتی گورشرن کور خالصہ ڈیوٹی دینے آ رہی ہیں؟ آتا ہے آپ کو یقین؟ جو جرات بھارت کا پردھان کبھی نہیں دکھا سکا وہ ان کی شریمتی دکھا سکیں گی؟ اس پر تو ہماری سرکار کے پردھان ہی یقین کر سکتے ہیں....ع
کند پردھان با پردھان پرواز!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں