خواتین کا صرف ایک دن۔۔۔؟

طیبہ ضیاء ـ 10 مارچ ، 2010
کون کہتا ہے کہ عورت آئن سٹائن نہیں بن سکتی۔۔۔؟کون کہتاہے کہ عورت مرد کے پاﺅں کی جوتی ہے ۔۔۔؟کون کہتا ہے کہ عورت اور مرد کے حقوق برابر نہیں ۔۔۔؟کون کہتا ہے کہ عورت آدھی عقل کی ہے۔۔۔؟ ایک جاہل توکہہ سکتا ہے مگر ایک با شعور مسلمان اس قسم کے کلمات ادا کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جہاں دنیا بھر کی خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کی بات ہوتی ہے وہاں ”مظلوم“مسلمان عورت کے مسائل کو کچھ زیادہ ہائی لائٹ کیا جاتا ہے۔”مظلوم“ مسلمان عورت کے ساتھ اہل مغرب کی ہمدردیاں سیاست کا حصہ بن چکی ہیںاور اب تویہ عالم ہے کہ ” مظلوم“ مسلمان عورت کی آزادی کے لئے جنگیں لڑی جاتی ہیں۔امریکہ افغان عورت کو ٹوپی برقعہ سے نجات دلانے کے لئے اپنی فوج لے کر افغانستان گیا ۔۔۔ نو برس بیت چکے ہیں ابھی تک واپس نہیں لوٹا ۔۔۔
غیر مسلم خواہ اپنی عورت سے گدھوں کی طرح کام لے،اسے زندہ جلا دے،اسے زندہ درگور کر دے،اس کے ساتھ درندوں جیسا سلوک کرے ۔۔۔چھوٹی خبر ہے۔۔۔ لیکن کسی مسلمان عورت کے ساتھ چھوٹا سا واقعہ پیش آ جائے ”بریکنگ نیوز“ ہے۔۔۔پاکستانی میڈیا ہی نہیںمغربی میڈیا کو بھی مسلمان عورت پر رحم آتا ہے۔بھارتی میڈیا بھی مسلمان عورت کاغم کھاتا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا کو بھی صرف اپنی عورت ہی مظلوم دکھائی دیتی ہے۔۔۔دوسروں کی مظلوم عورتوں کے واقعات کو منظر عام پر لانے سے ”امن کی آشا“ کا دیا ٹمٹمانے لگتا ہے۔۔۔؟ مسلمان عورت کا چھوٹا واقعہ بھی دنیا میں تماشہ بن جاتا ہے ۔کوڑے کھانے والی لڑکی ہو ،مختاراں مائی ہویاشازیاﺅں کے تشدد بھرے واقعات ۔۔۔پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں تڑپ اٹھتی ہیں لیکن ڈاکٹر عافیہ کے واقعہ پر سب کے منہ پر ٹیپ لگ چکی ہے۔۔۔امریکہ کے خلاف کس منہ سے بولیں کہ اسی کا تو کھاتی ہیں۔۔۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لئے سڑکوںپر آنے سے امریکہ ناراض ہوتا ہے۔ تنظیموں کے فنڈز بند ہو جاتے ہیں۔عاصمہ جہانگیر جیسیوں کا بزنس متاثر ہوتا ہے۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مردوں کا ظلم اور مظلوم عورتوں کی کہانیاں سنا سنا کر پر تشدد فلمیں دکھا دکھا کر ڈالر اکٹہے کئے جاتے ہیں۔مسلمان عورت کے حقوق کا علم بلند کرنے والی نام نہاد لبرل تنظیمیں اسلام کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔امریکہ جیسے لبرل اور ترقی یافتہ ملک کی تاریخ میں 44 مردوں نے صدارت کا منصب پایا مگر ایک عورت بھی یہ شرف حاصل نہیں کر سکی ۔۔۔؟کیا امریکی عورت کا دماغ بھی کمزور ہے۔۔۔؟ اس کی عقل بھی آدھی ہے۔۔۔؟ اس کا مرد بھی ظالم ہے۔۔۔؟اسلام میںمرد کا عورت پر ایک درجہ برتری سے مرادعورت پر حاکمیت ہر گز نہیں بلکہ عورت کی معاشی کفالت اور اسکا تحفظ ہے ۔ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کے فرمان کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔دو عورتوں کی گواہی کو اگر قانون بنا دیا جاتا تو حضرت عثمانؓ کی اہلیہ کی گواہی قبول نہ کی جاتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ تمام صحابہ ؓ نے جن میں حضرت عثمانؓ کے مخالفین بھی شامل تھے حضرت عثمانؓ کی زوجہ نائلہ ؓ یعنی صرف ایک عورت کی گواہی پر حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے قصاص لینے کا فیصلہ قبول کیا تھا۔ پہلے وقتوں میں چونکہ لکھنا پڑھنا جاننے والے لوگ آٹے میں نمک کے برابرتھے لہذا لین دین کے معاملات کا انحصارگواہوں پر ہوتا تھا ۔ گواہی کے لئے عورت عدالت میں پیش ہونے سے گھبرا تی تھی ۔ا س قسم کی پریشان کن صورتحال میں عورت کی حوصلہ افزائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ”اگر ایک بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد کرا دے،،۔۔۔ اس آیت میں لفظ ”تضِل،، استعمال کیا گیا ہے جس کا مفہوم الجھن،بے چینی،اضطراب اورپریشانی ھے۔گواہی ایک اہم فریضہ ہے ،عورت چونکہ مرد کی نسبت زیادہ حساس،جذباتی ، نرم دل اور دوسروں سے جلد متاثر ہونے والی صنف ہے لہذااسکی معاونت کے لئے اسکی سہیلی ،بہن یا کوئی ہمدرد عورت کا ساتھ اس کے لئے باعث تقویت سمجھا جاتاتھا۔ رب العزت جس نے اس صنف نازک کو خود تخلیق کیاہے اس کے بارے میں زیادہ علم رکھتاہے کہ اس کانچ کو کس طرح سنبھال کر رکھنا ہے صرف وہی جانتاہے۔مسلمان عورت کا کسی غیر مسلم مرد کے ساتھ نکاح کی اجازت نہ دےنا بھی اس صنف نازک کے جذبات کی تکریم ہے۔ اس حکم کے پیچھے بھی کانچ جیسے احساسات کا تقدس ہے ۔ صرف حکم الہیٰ نہیں ہمارا مشاہدہ بھی ہے کہ مرد کی نسبت عورت کو نئے مذہب اور ماحول میں ڈھالنا آسان ہے ۔ عورت مرد کی برابری کے حقوق کا غلط تصور پیش کرنے والے چونکہ اس ایشو کو بھی جواز بناتے ہیں لہذا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب کا خود مطالعہ کریں اور یہود و نصاریٰ کے ”پیڈ“ دانشوروں کے داﺅ پیچ سے بچیں۔ اسلام اور مسلمان عورت کی توہین کوئی غیرت مند مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ عورت اور مرد کی ساخت،عادات،فطرت اور ذمہ داریاں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ حقوق میں دونوں برابر ہیں۔ مرد اور عورت صلاحیتوں اور اجر وثواب میں یکساں ہیں البتہ مرد کبھی بچہ نہیں جن سکتا اور عورت داڑھی سے محروم ھے۔اسلام نے عورت اور مرد کی برابری کا جو تصور دیا ہے اس نے مسلمان عورت کو دنیا میں ایک وقار اور مقام عطا کیا ہے مگر نہ صرف غیر مسلم بلکہ نام نہاد مسلمان بھی عورت مرد کی برابری کا جو بیہودہ سبق پڑھاتے ہیں ان سے گذارش ہے کہ وہ جنازے بھی ان لبرل عورتوں سے اٹھوایا کریں اور قبریں بھی ان ہی سے کھدوایا کریں ۔ میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا تھو تھو۔۔۔؟ خالق باری تعالیٰ نے عورت مر دکی دماغی صلاحیت بھی ایک جیسی رکھی ہے۔ دماغ کے سائنس دان سانڈراوٹلسن کی جو آئن سٹائن کے دماغ کی ریسرچ کی وجہ سے مشہور ہے تحقیق کے مطابق عورت اور مرد کی دماغی قوت ایک سی ہے۔مرد کا دماغ عورت کی نسبت 10فی صد بڑا ہے مگر اس کا دماغی قوت و صلاحیتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عورت کی قابلیت و صلاحیت کی راہ میں کوئی مذہب یاقانون نہیں بلکہ احساس کمتری کے مرض میں مبتلا مرد حائل ہے ۔ ظلم بھی یہی مرد کرتاہے اور یہ مرد کسی بھی مذہب یا معاشرے سے ہو سکتا ہے ۔اسلام پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو اس بیمار مرد کے چنگل سے نجات دلائی ۔ وہ عورت جو پوری کائنات کا حسن ہے اسکے لئے صرف ایک دن۔۔؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں