ہوا‘خون اورخرابی

رفیق ڈوگر ـ 10 مارچ ، 2009
گاڑی کے کسی ایک پہئے میں اس کی مقررہ گنجائش سے زیادہ ہوا بھر دی جائے تو کیا ہوگا؟ اور اگر کسی ایک یا دو پہیوں میں سے ہوا نکال دی جائے تو کیا ہوگا؟ پہنچا دیگا اس کا ڈرائیور سواریوں کو سلامتی کے ساتھ منزل مراد تک؟ شیشے سے بنائی ہموار سڑک پر بھی رہے گا ایسی گاڑی کا توازن برقرار؟ ٹائر اور ٹیوب تو ٹینک کے بھی اسی ربڑ سے بنے ہوتے ہیں جس سے موٹرسائیکل اور سائیکل کے بنائے جاتے ہیں کس ٹائر میں کتنی ہوا بھری جائے وہ بھی بنانے والوں نے مقرر کر دیا ہوتا ہے اگر کسی ٹائر میں اس کی گنجائش سے زیادہ سائیکل کے ٹائر ٹیوب میں ٹینک کے یا گاڑی کے ٹائر ٹیوب جتنی ہوا بھر دی جائے تو کیا ہوگا؟ پھٹنا اور پھٹ جانا اس کا مقدر ہو جائے گا۔ نظمِ ریاست کی کامیابی کیلئے آئین و ضوابط تیار کرنے والے اہلِ فکر و دانش نے بھی ضابطہ دستور میں اسی لئے متعین کر دیا ہوتا ہے کہ اس کے کس ٹائر میں کتنی ہوا ہونا چاہئے اختیار اور اقتدار کی ہوا کہ اس توازن کے بگڑ جانے سے گاڑی اور سواریوں کی سلامتی شدید خطرات میں ہوتی ہے۔ ہم آئے دن اپنے اردگرد کیا دیکھتے ہیں؟ جس بھی کسی میں اس کی گنجائش سے زیادہ زر اور زور کی ہوا بھر گئی ہو یا بھر دی گئی ہو تباہ و برباد نہیں کر دیتا وہ اس گلی محلے اور بستی کا سکون؟ اپنے معاشرے اور ملک کے مسائل اس کے عوام کے مصائب کا تجزیہ کریں تو بنیادی اسباب میں سے اہم ترین سبب یہی گنجائش سے زیادہ ہوا بھر جانا یا بھر دیا جانا سامنے آئے گا۔ جس بھی کسی میں اس کی فطری گنجائش سے زیادہ زر اور زور کی ہوا بھر گئی ہو وہ بے چارہ کرے بھی تو کیا کرے؟ وہ تو مجبور ہوتا ہے اپنی اس ہوا کے ہاتھوں۔ بحث کچھ ایسی ہی چل رہی تھی اشفاق احمد مرحوم اور چودھری سردار محمد مرحوم مساوات پر زور دے رہے تھے ’’اسلام میں سب انسان برابر ہیں۔‘‘ نہر کے کنارے کیکر کا ایک درخت دیکھ کر میں نے درخواست کی کہ ذرا گاڑی رکوائیں۔ خاں صاحب اُردو سائنس بورڈ کے بھی سربراہ رہے تھے پھولوں اور پودوں کے بڑے شناسا ہوتے تھے۔ عرض کیا ’’خاں صاحب اس کیکر کے درخت میں گلاب کی پیوند کاری کروا دیں۔‘‘ انہوں نے قہقہہ لگایا ‘ کیسے کروا دوں گلاب اور کیکر تو دو الگ الگ نباتاتی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیوند کیلئے کوئی مشترکہ بنیاد بھی تو ہونا چاہئے۔‘‘ ڈرائیور تھوڑا سا مسکرایا تو چودھری سردار محمد نے اسے پولیس کی محکمانہ نگاہوں سے بتایا کہ خاں صاحب تو فکر و دانش کے گلاب ہیں نگاہیں نیچی رکھو عرض کیا ’’حضور اسلام میں سب انسان حقوق کے حوالے سے برابر ہیں صلاحیتوں کے حوالے سے نہیں اگر ایسا ہوتا تو اللہ کے رسولؐ یہ نہ فرما جاتے کہ امیر قریش قبیلہ سے بنانا۔ انصار مدینہ‘ ایثار تقویٰ میں قریش سے کم تو نہ تھے۔‘‘ چند روز پہلے میں ایک مضمون پڑھ رہا تھا لکھا تھا کہ جاپان میں گزشتہ آٹھ دس سال میں انسانی خون کے بارے میں لکھی لاکھوں کتابیں بکی ہیں۔ انسان کے خون کے مختلف گروپوں کے تجزیات اور اثرات کے بارے میں تجزیاتی کتابیں ۔ جو بھی کوئی کسی محکمہ میں ملازمت حاصل کرنے جائے سب سے پہلے اس سے جو دستاویز طلب کی جاتی ہیں ان میں سے ایک اور کے خون گروپ کا ثبوت بھی ہوتا ہے۔ شادی بیاہ اور رشتے ناطے میں بھی خون کے گروپ کو سامنے رکھتے ہیں ان تجزیوں میں آگے بہت کچھ بتایا گیا ہے کہ کس گروپ کے خون والے انسان کا زندگی کے مختلف شعبوں میں کیسا رویہ ہوتا ہے۔ وہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا ’’ماں پر دھی پتا پر گھوڑا ‘ بہت نئیں تے تھوڑا تھوڑا‘‘تو جس طرح ہر کوئی اپنے خاندانی خون اور جینز کا قیدی ہوتا ہے اسی طرح ہر کسی کی زندگی اور توازن کے برقرار رہنے کے لئے اس میں ہوا کتنی بھرنا چاہئے یہ بھی ہر سائز کے ٹائر ٹیوب کی مانند متعین ہے اور نظم ریاست میں بھی ریاست کے مختلف ٹائروں کے لئے اختیارات کی ہوا متعین ہے اور ریاست کے معاملے میں چاروں ٹائروں میں ہوا پوری اور پوری پوری ہی بھرنے کے ساتھ ساتھ اس کے معاملات چلانے والوں یا سٹیرنگ پر قابض خواتین و حضرات کی فطری گنجائش کا خیال کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ان کا اپنا توازن بگڑ جانے سے‘ گنجائش سے زیادہ ہوا بھر جانے کے سبب‘ ان کے اونگھ جانے سے‘ کسی نشہ یا بدہضمی کے سبب کسی مستی میں آ جانے سے کوئی قصیدہ وغیرہ سننے کے سبب وہ سٹیرنگ غلط سمت میں نہ گھما دیں اور گاڑی کو کسی حادثہ سے نہ دوچار کر دیں۔ گاڑی اور سواریوں کی سلامتی کے لئے بھی اور خود سٹیرنگ پر قابض فرد کی سلامتی کے لئے بھی ان سب ضوابط اور ضروریات کا خیال کرنا بہت ہی ہاں بہت ہی زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ کیا حادثہ واپر گیا تھا اس قائدِ عوام اور فخر ایشیاء پر اور کیا خرابی ہوتی ہے باوردی حکمرانی میں؟ یہی نہیں ہوتا گنجائش سے زیادہ ہوا بھر جانا کسی ایک ٹائر میں اور سٹیرنگ پر قابض فرد بشر میں؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں