درخواست ایک چیف جسٹس کی رحم کی

رفیق ڈوگر ـ 10 جون ، 2009
اللہ کے رسولﷺ کے دو صحابی حضرت عبداللہؓ بن سہیل اور حضرت محیصہؓ خیبر گئے۔ عبداللہؓ بن سہیل کو کسی نے قتل کر دیا۔ حضرت محیصہؓ نے یہودیوں سے کہا کہ میرے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ وہ نہ مانے۔ مدینہ واپس آ کر حضرت محیصہؓ نے اپنے بھائی حضرت حویصہؓ اور مقتول کے بھائی حضرت عبدالرحمانؓ بن سہیل کو ساتھ لیا اور اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کر دیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ’’ یہودیوں کو دیت دینا ہوگی یا لڑائی کے لئے تیار رہنا ہوگا‘‘ آپﷺ نے خیبر کے یہودیوں کو اس سلسلے میں خط بھجوا دیا۔ یہودیوں نے کہا کہ ہم نے عبداللہؓ بن سہیل کو قتل نہیں کیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت محیصہؓ اور حضرت عبدالرحمٰنؓ بن سہیل کو طلب فرمایا اور پوچھا ’’کیا تم قسم اٹھاتے ہو کہ عبداللہ کو یہودیوں نے ہی قتل کیاہے‘‘۔ انہوں نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا تو آپؐ نے پوچھا کیا ’’یہودی‘‘ تمہیں قسم دیدیں کہ انہوں نے عبداللہؓ کو قتل نہیں کیا ‘‘ ان کا جواب تھا کہ ’’یہودی تو مسلمان نہیں وہ تو قسم دیدیں گے‘‘ اللہ کے رسولﷺ نے مقتول کے وارثوں کو ریاست مدینہ کی طرف سے سو اونٹنیاں دیت عطا کر دیں۔ یہ واقعہ فتح خیبر کے بعد کا ہے اور وہ دونوں مسلمان اپنے یہودی مزارعین سے بٹائی وغیرہ لینے خیبر گئے تھے۔ یعنی یہودی بھی ریاست مدینہ کے شہری تھے۔ خیبر کے یہودیوں پر قتل ثابت نہیں ہوتا تھا ریاست مدینہ کا ایک سپاہی قتل کر دیا گیا تھا اور اللہ کے رسول ﷺ نے قانون کے مطابق ریاست کی طرف سے دیت ادا کر دی تھی۔ کیوں؟۔ اس لئے کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار تھی اور کسی کا نقصان ثابت ہو جائے اور نقصان کرنے والے کا پتہ نہ بھی چلے تو اس شہری کو یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ہم کیا کریں قاتل تو مل ہی نہیں رہے؟ یہ تو اس کے لئے دوہرا نقصان ہوا۔ ایک قاتل یا ڈاکو کا کیا اور دوسرا ریاست اور اس کے نظام عدل کا۔ ہمیں یہ اصول انصاف کیوں یاد آ گیا؟ بتاتے ہیں پہلے انصاف اور عدل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا اپنا فرمان سن اور پڑھ لیں۔
‘‘ اے ایمان والو انصاف پر مضبوطی سے قائم ہو جاؤاللہ کے لئے سچ کہنے والے خواہ وہ تمہاری اپنی ذات یا تمہارے والدین اور قرابت والوں کے خلاف ہواور کسی پر حق ثابت ہو جائے تو وہ امیر ہو یا فقیر اللہ اس کا خیرخواہ ہے ہرگز خواہش نفس کی پیروی نہ کرو عدل و انصاف کا دامن نہ چھوڑو اور اگر تم توڑ مروڑ کر بات کرو گے یا کوئی بات چھوڑ دو گے تو جان لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے‘‘ (135:4)
عدلیہ کی آزادی کی تحریک کی کامیابی؟ کے بعد سے عجیب خبریں پڑھنے کو مل رہی ہیں کسی عدالت میں ایک وکیل انصاف لینے گیا عدالت نے کہا مقدمہ ہم سے متعلق نہیں متعلقہ عدالت میں جاؤ وکیل نے کہا میں تو آگیا ہوں میں نے فیس بھی لی ہوئی ہے آپ ہماری برادری کو بے روزگار کرنا چاہتے ہیں؟ عدالت نے کہا کوئی حوالہ قانون پیش کرو کہ ہمارے مقدمہ سننے کی گنجائش ہے؟ ماہر قانون نے کہا اس کی کیا ضرورت ہے میں جو آ گیا ہوں۔ عدالت کو اس کا حکم ماننا پڑا بغیر کسی گنجائش اور حوالہ کے کہ عدلیہ آزاد ہو چکی ہے اور اس کی آزادی کی تحریک میں وکلاء نے قربانیاں دی تھیں۔ قربانی کے گوشت میں ان کا حصہ نہیں؟ عدالتوں سے وکلاء کے اس سلوک اور تالہ بندیوں کی خبریں بھی اسی ’’کامیابی‘‘ کی وجہ سے ہیں اور اللہ کا فرمان مقدمہ پیش کرنے والے‘ سننے والے اور گواہوں سب کے لئے ہے کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر نہ پیش کرو نہ کسی کی جانبداری کرو۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ مولانا عبدالستار خان نیازی کو بھٹو شاہی کے دور میں نوے دنوں کے لئے نظر بند کیا ہوا تھا لاہور ہائیکورٹ میں اس نظربندی کے خلاف رٹ کی سماعت ہو رہی تھی ایک روز سماعت کے بعد ریڈر نے کہا ’’چیف صاحب فرماتے ہیں مجھے فوری ملیں‘‘ چیف جسٹس اسلم ریاض حسین خود رٹ کی سماعت کر رہے تھے اور خلاف مزاج کافی افسردہ تھے۔ ’’مولانا کے وکیل نے اکیاسی دن تو گزار دئیے ہیں لمبے دلائل اور التواء سے۔ نوے میں سے صرف نو دن باقی رہ گئے ہیں سرکاری وکیل نے ابھی جواب دینا ہے اگر عدالت ان ماہر قانون کے مؤقف کو تسلیم بھی کر لے تو مولانا کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ انہیں کہیں خدا کے لئے عدالتوں پر بھی کچھ رحم کریں کیا سوچیں گے لوگ ہمارے بارے میں؟‘‘ تو پھر عدل و انصاف کی لہر بحر کر دینا صرف عدالتوں کی ہی ذمہ داری ہے یا عدلیہ کی آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے والوں کے کندھوں پر بھی کوئی بوجھ آن پڑا ہے؟ کسی ایک عدالت پر مل کر دھاوا بول دینا اور تالے لگا دینا بذات خود انصاف کے کس خانے میں فٹ آتا ہے ؟ کیا عدلیہ کی آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے والوں کے یہ شایان شان ہے؟ یا وہ تحریک ان کی آزادی کی تحریک تھی کہ ’’میں جو ہوں دلیل کی اور قانون کی کیا ضرورت ہے؟ عدلیہ کی آزادی‘ روزگار کی آزادی اور تحفظ ہے یا حقوق کے تحفظ اور حق دار کو اس کا حق دلانے کا نام ہے؟ اور جو ایسا نہیں کرتا وہ کیا کرتا ہے؟ خواہش نفس کی پیروی یا اللہ کے حکم کی پابندی۔؟۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں