بلوچستان واشنگٹن میں ۔۔۔!

طیبہ ضیاء ـ 10 فروری ، 2012
قوم کی عمران خان سے بہت امیدیں وابستہ ہیں مگر انہوں نے حزب اختلاف کے خلاف چیخ و پکار کو ”سیاسی حکمت عملی“ بنا رکھا ہے جبکہ بلوچستان کا معاملہ انتہائی نازک موڑ سے دوچار ہے۔ خدانخواستہ ملک ٹوٹ رہا ہے۔ بلوچستان واشنگٹن میں منتقل ہو چکا ہے مگر پاکستان کے سیاست دان ایک دوسرے کو توڑنے پر لگے ہوئے ہیں۔ آپس کی لڑائی میں بلوچستان ہاتھ سے نکل رہا ہے بلکہ نکل چکا ہے۔ نقشے میں بلوچستان پاکستان کا صوبہ ہے مگر اس کے فیصلے وائٹ ہاﺅس میں ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ بلوچستان امریکہ کی کالونی بن چکا ہے لہٰذا اس کا اختیار امریکہ کے پاس ہے۔ بھارت کے حالات بھی خراب رہتے ہیں، وہاں کی سیاست بھی اتار چڑھاﺅ کا شکار ہے مگر امریکہ کو مداخلت کی اجازت نہیں۔ صرف مسلم ممالک کے مسائل امریکہ کے مسائل ہوتے ہیں بالخصوص پاکستان کا ہر مسئلہ امریکہ کا مسئلہ ہوتا ہے ۔ بلوچستان کی تشویشناک صورتحال کی ذمہ داری پاکستان کی کسی حکومت نے قبول نہیں کی۔ بلوچستان میں استعمال کئے جانے والے ہتھیار امریکہ میں بنتے ہیں، اس خطہ میںدہشت گردی کرائے کے قاتلوں سے کرائی جاتی ہے مگر حقائق کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کسی سیاسی جماعت میں نہیں بلکہ ہر خراب صورتحال کا الزام پاک فوج پر تھوپ دیا جاتا ہے جبکہ اغیار فوج مخالف پروپیگنڈا سے مستفید ہو رہے ہیں۔ امریکی کانگریس کے اجلاس میں بلوچستان کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ بلوچستان میں قتل و غارت گری کو ”انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں“ قرار دیا گیا۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس دو پاکستانی شہریوں کو گولیوں سے بھون دیتا ہے مگر ”انسانی حقوق کی خلاف ورزی“ قرار نہیں دیا جاتا جبکہ سنگین الزام میں ملوث حسین حقانی پاکستان کی شاہی مہمان نوازی کے باوجود ”انسانی حقوق کی خلاف ورزی“ قرار دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ غیر انسانی سلوک ”انسانی حقوق کی خلاف ورزی “ قرار نہیں دیا جاتا۔ جس ریاست میں حسین حقانی کی شاہی مہمانی کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جائے، اس ریاست میں ریمنڈ ڈیوس کی معافی کا تصور ناقابل یقین ہے مگر چوروں کو شاہی مہمان اور بے گناہوں کو چور ثابت کرنے والوں کی ریاست کو ”ناکام“ قرار دیا جا چکا ہے۔ بلوچستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بلوچستان واشنگٹن میں منتقل ہو چکا ہے۔ کانگریس کے اجلاس میں بلوچستان سے متعلق امریکی پالیسی واضح کی گئی۔ امریکہ کو بلوچستان کے بارے میں تشویش ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کو پاک و ہند کا اندرونی معاملہ قرار دے کر ”ٹرخا“ دیا جاتا ہے۔ بلوچستان جو پاکستان کا مسئلہ ہونا چاہئے تھا، واشنگٹن میں ڈسکس ہوتا ہے۔ بلوچستان کی صورتحال سے پاکستان کی حکومت اور حزب اختلاف کے کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عمران خان باتیں کھری کرتا ہے مگر اس کا مسئلہ بھی بلوچستان یا مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ الیکشن میں کامیابی ہے۔ اس کے اقتدار میں آنے تک بلوچستان کا مسئلہ ”حل“ ہو چکا ہو گا۔ تحریک انصاف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے فوج کی معاونت حاصل ہے۔ فوج پاکستان کا ایک ادارہ ہے جبکہ زرداری حکومت کو امریکہ کا تعاون حاصل ہے۔ بلوچستان کا کنٹرول اغیار کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستان کی ایجنسیوں یا امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا فقط سیاسی حکمت عملی ہے وگرنہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ قوم کی عمران خان کے ساتھ امیدیں وابستہ ہیں لیکن انتخابات قریب ہیں اور تحریک انصاف ابھی تشکیل کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے دستور میں تفصیلی ترامیم کے لئے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین شاہ محمود قریشی اپنے لئے خصوصی عہدہ ختم کرنے کی تجویز پر خفا ہو گئے تاہم بعد ازاں اس معاملہ کو موخر کر دیا گیا۔ یوتھ ونگ کو مین سٹریم پارٹی کا حصہ بنانے کی بحث بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ پارٹی کے تمام عہدیداران کو جمہوری طریقے سے منتخب کرنے کی تجویز میں یہ کہا گیا کہ عہدیداروں کے انتخاب کے لئے مستقل نظام کی تشکیل دی جائے جس کی ممبر شپ کے لئے فیس ادا کی جائے۔ 30 اکتوبر کے کامیاب جلسے کے بعد تحریک انصاف میں جس تیزی سے سیاسی شخصیات کی شمولیت ہوئی، پارٹی کے لئے انہیں ایڈجسٹ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ عمران خان کسی کی ناراضی مول لینے کی پوزیشن میں نہیں کہ اس پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے انہیں ہجوم کے علاوہ پرانے چہروں کی بھی ضرورت ہے۔ صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر پارٹی کے فیصلے منشور کے مطابق کرنے کی بجائے چیئرمین صاحب کی صوابدید پر کئے جا رہے ہیں۔ فیصلوں کو دستور کے مطابق ڈھالنے کے لئے معروف قانون دان حامد خان، ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین اور شاہ محمود قریشی سمیت پارٹی کے دیگر عہدیداران کی مدد لی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جب اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ ”ڈپٹی چیئرمین“ کا عہدہ منسوخ کرکے پارٹی کے تمام اہم رہنماﺅں کے لئے یہ عہدہ مختص کر دیا جائے تو شاہ محمود قریشی نے جو اس تجویز پر خفا تھے، اپنی خاموشی توڑ دی اور کہا کہ اس بارے میں جو بھی تجویز پیش کی جائے اس سے پہلے اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ انہیں”ڈپٹی چیئرمین“ خود پارٹی کے چیئرمین نے ایک جلسے میں بنایا تھا۔ اجلاس میں عمران خان کو پارٹی کا چیئرمین بنانے کی بجائے صدر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ مسلم لیگ نے جس طرح راجہ ظفرالحق کو پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ دے رکھا ہے اسی طرح تحریک انصاف کا چیئرمین جاوید ہاشمی کو بنانے پر بھی غور کیا جا رہاہے تاہم معاملات ابھی زیر غور ہیں۔ تجاویز پر نظرثانی ہو رہی ہے۔ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ تحریک انصاف کو منظم کرنے میں وقت درکار ہے۔ جلسوں کی کامیابی الیکشن کی کامیابی کی علامت نہیں، فضل الرحمان اور عمران خان سے بھی بڑا جلسہ مینار پاکستان کی گراﺅنڈ میں عید میلاد النبی کے موقع پر منعقد کیا گیا۔ پاکستان کے حالات اور مذہبی انتہا پسندی سے بیزار عوام ڈاکٹر طاہر القادری اور دیگر سُنی جماعتوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ روحانی مجالس میں لنگر اور نیاز کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ مہنگائی اور بھوک نے عوام کو اچھے پکوان سے محروم کر دیا ہے۔ اجتماعات میں کھانے پینے کی کشش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی جلسے میں سموسے غائب ہو جاتے ہیں اور کسی جلسے کی کرسیاں بیچ کر پیسہ بنایا جاتا ہے۔!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں